GNS ONLINE NEWS PORTAL

“وہ چراغ جو بجھ کر بھی روشنی دے گیا — ڈاکٹر تبسم ناز کی داستان”

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

“کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ”

تحریر۔۔۔۔شوکت میر

یہ الفاظ صدیوں سے گونجتے رہے ہیں، مگر کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب یہ آیت روح کے سب سے گہرے حصے میں اتر جاتی ہے، جیسے کوئی غیب سے آ کر دل کے دروازے پر دستک دے گیا ہو۔ آج وہی لمحہ ہے۔ فضا میں ایک گہری، بے چین اداسی تیر رہی ہے۔ ہوا بھی سوگوار محسوس ہوتی ہے، درختوں کی شاخیں سر جھکائے کھڑی ہیں، اور زمین اپنے سینے پر ایک بھاری بوجھ اٹھائے جیسے رو رہی ہو۔
ڈاکٹر تبسم ناز… ایک نام نہیں، ایک مکمل داستان تھیں۔ ایک ایسی داستان جس میں جدوجہد کی تپش، علم کی روشنی، درد کی گہرائیاں اور سب سے بڑھ کر خاموش، بے لوث خدمت شامل تھی۔ مگر آج یہ داستان اچانک رک گئی—ایک بے رحم سڑک حادثے کے موڑ پر، جہاں تقدیر نے خاموشی سے اپنا فیصلہ لکھ دیا۔
کہتے ہیں کچھ لمحے وقت سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ وہ لمحہ بھی ایسا ہی تھا۔ شاید سورج ویسے ہی طلوع ہوا ہو، پرندے ویسے ہی چہچہا رہے ہوں، اور دنیا اپنے معمول کے مطابق چل رہی ہو۔ مگر ایک پل میں سب کچھ بدل گیا—ایک ٹکر، ایک چیخ، اور پھر ایک ایسی خاموشی جو ہمیشہ کے لیے دلوں میں بس جاتی ہے۔
پونچھ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی اس باہمت بیٹی نے اپنے خوابوں کا سفر بڑی خاموشی سے شروع کیا تھا۔ یہ خواب صرف ان کے اپنے نہیں تھے، بلکہ طلبہ، معاشرے اور قوم کے لیے تھے۔ انہوں نے مسلسل محنت کی، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، پوسٹ گریجویشن اور پھر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یہ محض ڈگریاں نہیں تھیں، بلکہ ایک روشنی تھی جو انہوں نے اپنے اندر روشن رکھی۔
وہ علم کو صرف حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھتی تھیں بلکہ اسے بانٹنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔ وہ خود ایک چراغ بن کر طلبہ کے راستے روشن کرتی رہیں۔
زندگی نے ان کے امتحان کے لیے کینسر جیسی سخت آزمائش بھی پیش کی۔ مگر وہ ہمت نہیں ہاریں۔ انہوں نے اس بیماری کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ہر مشکل کا سامنا کیا اور آخرکار اسے شکست دے دی۔ یہ صرف جسم کی نہیں، بلکہ روح کی جنگ تھی—اور وہ اس میں فاتح ہوئیں۔
پھر زندگی نے انہیں محمد حامد کی صورت میں ایک سچا ساتھی عطا کیا۔ ایک ایسا رشتہ جو محبت، سادگی اور خدمت کے جذبے سے جڑا ہوا تھا۔ دونوں نے مل کر انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔
ڈاکٹر تبسم ناز صرف ایک استاد نہیں تھیں، بلکہ ایک رہنما، ایک شفیق شخصیت اور امید کی کرن تھیں۔ ان کے پاس آنے والا ہر طالب علم صرف تعلیم ہی نہیں، بلکہ حوصلہ، اعتماد اور زندگی کا ہنر بھی سیکھ کر جاتا تھا۔
پھر وہ المناک لمحہ آ گیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
حادثہ—ایک چھوٹا سا لفظ، مگر اپنے اندر ایک بڑی قیامت سموئے ہوئے۔ ایک پل، اور پھر ہمیشہ کی جدائی۔ زمین نے ایک اور چراغ کو اپنے اندر سمیٹ لیا، اور آسمان نے ایک اور ستارہ پا لیا۔
ان کی نماز جنازہ کا منظر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہزاروں افراد، مذہب و ذات سے بالاتر ہو کر، ایک صف میں کھڑے تھے۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمزدہ، اور ہر زبان پر دعا تھی۔ اس لمحے انسانیت اپنی اصل صورت میں نظر آئی۔
سوشل میڈیا بھی آج درد کی آواز بن گیا۔ ہر طرف تعزیت، دعائیں اور یادیں۔ اہل خانہ کی جانب سے ان تمام افراد کا شکریہ جنہوں نے اس غم کو بانٹا اور دکھایا کہ نیک لوگ کبھی تنہا نہیں ہوتے۔
محمد حامد صاحب اس وقت بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل ہے۔
اہل خانہ کے لیے یہ غم ناقابلِ بیان ہے، مگر اس کے ساتھ ایک فخر بھی جڑا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ہستی کو پایا جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر گئی۔
ڈاکٹر تبسم ناز آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر وہ ہر اس دل میں زندہ ہیں جسے انہوں نے چھوا، ہر اس ذہن میں جو انہوں نے روشن کیا، اور ہر اس کامیابی میں جو ان کے طلبہ حاصل کریں گے۔
کچھ لوگ دنیا میں آ کر صرف جیتے نہیں، بلکہ زندگی کو معنی دے جاتے ہیں۔ وہ خود چلے جاتے ہیں، مگر روشنی کے راستے چھوڑ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر تبسم ناز بھی انہی لوگوں میں سے تھیں۔
وہ ایک چراغ تھیں…
جو بجھ گئیں، مگر اپنی روشنی ہزاروں دلوں میں چھوڑ گئیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل دے، ان کی دو معصوم بیٹیوں کو ہمت عطا کرے، اور محمد حامد صاحب کو مکمل صحت عطا فرمائے۔ آمین۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

2 0 9 3 2 5
Users Today : 20
Users Yesterday : 144