GNS ONLINE NEWS PORTAL

راجوری میں ہاؤس کمیٹی کا دورہ محض رسمی کارروائی، دور دراز علاقوں کی زمینی حقیقتیں نظر انداز: فاروق انقلابی

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل 

بدھل اپر,یل 17۔۔ سینئر پی ڈی پی لیڈر محمد فاروق انقلابی نے جل جیون مشن (JJM) اسکیموں کے معائنے کے سلسلے میں ہاؤس کمیٹی کے حالیہ دورۂ ضلع راجوری پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سطحی اور بے معنی قرار دیا ہے۔

اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انقلابی نے کہا کہ کمیٹی زمینی حقائق کا جائزہ لینے میں ناکام رہی اور اس نے اپنے دورے کو صرف آسانی سے قابلِ رسائی علاقوں تک محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں کا مقصد اس وقت فوت ہو جاتا ہے جب کمیٹی قریبی علاقوں تک محدود رہے، رسمی کارروائیاں کرے اور بغیر کسی جامع اور دیانتدارانہ معائنے کے واپس لوٹ جائے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے اراکین نے منتخب علاقوں میں وقت گزارا اور معمول کی سرگرمیوں میں مصروف رہے، جن میں ایک مقامی ہوٹل میں قیامِ طعام بھی شامل تھا، اور اس کے بعد جموں واپس چلے گئے، جبکہ دور دراز علاقوں کے عوام کے سنگین مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔

انقلابی نے زور دے کر کہا کہ جل جیون مشن کی اصل تصویر صرف دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں جیسے تحصیل خواص، کوٹرنکہ اور بدھل کے دورے سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ ان علاقوں میں جے جے ایم اسکیم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ خطیر فنڈز کے باوجود زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی، جو وسائل کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے صرف سرکاری بریفنگز پر انحصار کیا۔ ان کے مطابق کمیٹی نے جل شکتی محکمہ کے افسران سے فیڈ بیک حاصل کیا، جبکہ یہی افسران مبینہ طور پر بدعنوانی اور بدانتظامی میں ملوث ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی رائے کو معتبر یا کافی کیسے مانا جا سکتا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور جوابدہی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظر انداز شدہ علاقوں میں ایک نیا اور جامع دورہ کیا جائے تاکہ اسکیموں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

انقلابی نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں جے جے ایم اسکیموں پر کام کرنے والے مزدوروں کی ادائیگیاں اب تک التوا کا شکار ہیں، جو انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ناگزیر ہے تاکہ خامیوں کی نشاندہی ہو، ذمہ داری طے کی جا سکے اور عوامی فنڈز کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

سینئر لیڈر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان پسماندہ علاقوں کے عوام آج بھی پانی کی مناسب فراہمی سے محروم ہیں اور انہوں نے اسکیم کی ناکامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

0 0 5 1 2 9
Users Today : 278
Users Yesterday : 313
Users Last 7 days : 2045
Users Last 30 days : 5128
Users This Month : 1765
Users This Year : 5128
Total Users : 5129
Views Today : 449
Views Yesterday : 434
Views Last 7 days : 3293
Views Last 30 days : 8729
Views This Month : 2830
Views This Year : 8729
Total views : 8730
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.216.54
Server Time : November 6, 2026 7:46 pm