جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
بدھل اپر,یل 17۔۔ سینئر پی ڈی پی لیڈر محمد فاروق انقلابی نے جل جیون مشن (JJM) اسکیموں کے معائنے کے سلسلے میں ہاؤس کمیٹی کے حالیہ دورۂ ضلع راجوری پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سطحی اور بے معنی قرار دیا ہے۔
اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انقلابی نے کہا کہ کمیٹی زمینی حقائق کا جائزہ لینے میں ناکام رہی اور اس نے اپنے دورے کو صرف آسانی سے قابلِ رسائی علاقوں تک محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں کا مقصد اس وقت فوت ہو جاتا ہے جب کمیٹی قریبی علاقوں تک محدود رہے، رسمی کارروائیاں کرے اور بغیر کسی جامع اور دیانتدارانہ معائنے کے واپس لوٹ جائے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے اراکین نے منتخب علاقوں میں وقت گزارا اور معمول کی سرگرمیوں میں مصروف رہے، جن میں ایک مقامی ہوٹل میں قیامِ طعام بھی شامل تھا، اور اس کے بعد جموں واپس چلے گئے، جبکہ دور دراز علاقوں کے عوام کے سنگین مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔
انقلابی نے زور دے کر کہا کہ جل جیون مشن کی اصل تصویر صرف دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں جیسے تحصیل خواص، کوٹرنکہ اور بدھل کے دورے سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ ان علاقوں میں جے جے ایم اسکیم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ خطیر فنڈز کے باوجود زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی، جو وسائل کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے صرف سرکاری بریفنگز پر انحصار کیا۔ ان کے مطابق کمیٹی نے جل شکتی محکمہ کے افسران سے فیڈ بیک حاصل کیا، جبکہ یہی افسران مبینہ طور پر بدعنوانی اور بدانتظامی میں ملوث ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی رائے کو معتبر یا کافی کیسے مانا جا سکتا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور جوابدہی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظر انداز شدہ علاقوں میں ایک نیا اور جامع دورہ کیا جائے تاکہ اسکیموں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
انقلابی نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں جے جے ایم اسکیموں پر کام کرنے والے مزدوروں کی ادائیگیاں اب تک التوا کا شکار ہیں، جو انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ناگزیر ہے تاکہ خامیوں کی نشاندہی ہو، ذمہ داری طے کی جا سکے اور عوامی فنڈز کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
سینئر لیڈر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان پسماندہ علاقوں کے عوام آج بھی پانی کی مناسب فراہمی سے محروم ہیں اور انہوں نے اسکیم کی ناکامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔









Users Today : 33
Users Yesterday : 144