GNS ONLINE NEWS PORTAL

خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے۔ ۔

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے
مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے۔ ۔

دودھ کا کوزہ چھوڑ دیا قاتل کی پیاس بجھانے کو
حیدر نے افطار کیا تھا آخری روزہ پانی سے

دروازے نے شاہِ زمن کا دامن تھام کے بین کیا
آپ کی رخصت بھر دے گی اس آنگن کو ویرانی سے

وہ اس واسطے ابن ابو طالب کے خون کی پیاسی تھی
اُس نے کیا آگاہ بشر کو دنیا کی ارزانی سے۔ ۔ ۔

فُزت وَربِ الکعبہ کا اعلان گواہی دیتا ہے۔ ۔ ۔
شہرِ بقا کے فرمانروا کا کوچ ہے دارِ فانی سے

بیٹیاں باپ کا سرخ عمامہ دیکھ کے آہیں بھرتی ہیں
بیٹے باپ کے زخموں کو دھوتے ہیں اشک فشانی سے

گھر کے در و دیوار سے ظاہر تھے آثار یتیمی کے
عید کے دن بھی گونج رہا تھا کوفہ نوحہ خوانی سے

عدنان محسن

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

2 2 8 6 3 6
Users Today : 10
Users Yesterday : 63