خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے۔ ۔
خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے۔ ۔ دودھ کا کوزہ چھوڑ دیا قاتل کی پیاس بجھانے کو حیدر نے افطار کیا تھا آخری روزہ پانی سے دروازے نے شاہِ زمن کا دامن تھام کے بین کیا آپ کی رخصت بھر دے گی اس آنگن … Read more
