جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
تحریر:خورشیدبسمل تھنہ منڈی راجوری
حال مقیم:اننت ناگ کشمیر
اب اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوان دنیا کے لیے نویدِ جانفزا نہیں بلکہ اکثر اوقات مایوسی، بے یقینی اور بے روزگاری کی داستان بن کر سامنے آتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں نوجوان اسکولوں، کالجوں اور جامعات سے ڈگریاں حاصل کرکے نکلتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد عملی زندگی میں اپنا مقام بنانے سے قاصر رہتی ہے۔
والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر اپنی عمر بھر کی کمائی خرچ کرتے ہیں۔ وہ اپنے خواب، خواہشات اور امیدیں بچوں کے مستقبل سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ مگر جب یہی نوجوان پندرہ سے بیس سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی منڈی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی ڈگریاں ان کے لیے ملازمت یا معاشی استحکام کی ضمانت نہیں ہیں۔ نتیجتاً والدین کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور نوجوان احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی مستقبل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام بڑی حد تک نظریاتی معلومات فراہم کرتا ہے، جبکہ عملی مہارتوں، فنی تربیت اور کاروباری صلاحیتوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔ طلبہ برسوں کتابیں پڑھتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں اور اسناد حاصل کرتے ہیں، مگر انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ عملی زندگی میں مسائل کا حل کیسے نکالنا ہے، اپنے لیے روزگار کیسے پیدا کرنا ہے یا بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو کیسے استعمال کرنا ہے۔
آج دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید زراعت، چھوٹے کاروبار، ہنر مندی اور تخلیقی صنعتیں روزگار کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ ایسے میں صرف روایتی ڈگریوں پر انحصار کرنا دانشمندی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو ہنر اور عملی تربیت سے جوڑا جائے تاکہ نوجوان ملازمت کے متلاشی بننے کے بجائے مواقع پیدا کرنے والے بن سکیں۔
لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے بچوں کو صرف اسناد کے حصول کی دوڑ میں نہ لگایا جائے بلکہ انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ زراعت، باغبانی، تجارت، کمپیوٹر، تکنیکی علوم، دستکاری، صنعت و حرفت اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کی تربیت بھی دی جائے۔ جو نوجوان ایک ہنر جانتا ہے، وہ حالات کے نشیب و فراز میں بھی اپنے لیے روزگار کا راستہ نکال سکتا ہے، جبکہ محض ڈگری رکھنے والا فرد اکثر مواقع کی کمی کا شکوہ کرتا رہ جاتا ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک طبقے، علاقے یا قوم کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔
*بے روزگاری صرف معاشی بحران پیدا نہیں کرتی بلکہ سماجی بے چینی، ذہنی تناؤ اور قومی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کرتی ہے۔*
*اگر ہم واقعی اپنے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے تصور کو بدلنا ہوگا۔ ایسی تعلیم جو علم کے ساتھ ہنر دے، سوچنے کی صلاحیت دے، خود اعتمادی دے اور انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنائے۔*
*یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی ترقی صرف ڈگریوں سے نہیں بلکہ ایسے باصلاحیت، ہنر مند اور خود کفیل افراد سے ہوتی ہے جو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکیں۔ یہی حقیقی تعلیم کا مقصد ہے اور یہی ایک روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔*











Users Today : 55
Users Yesterday : 99