جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
راجوری ستمبر 14۔۔۔آج کا دور ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ضرور ہے مگر اسی کے ساتھ انسانیت کو درپیش بعض مسائل نے بھی اپنی شکلیں بدل لی ہیں۔ ان مسائل میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسی خاموش وبا بن چکا ہے جو صرف ایک فرد کی زندگی نہیں چھینتی بلکہ پورے خاندان کا سکون، والدین کی امیدیں اور معاشرے کا مستقبل متاثر کرتی ہے۔ اس وبا کے خلاف حکومتیں مہمات چلاتی ہیں، ادارے پروگرام منعقد کرتے ہیں، تنظیمیں آگاہی مہمیں شروع کرتی ہیں، لیکن بعض اوقات کسی ایک صاحبِ درد انسان کی آواز وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو بڑے بڑے سرکاری منصوبے بھی پیدا نہیں کر پاتے۔
جموں کشمیر و خطہ پیر پنچال میں میاں الطاف احمد لاروی کی منشیات کے خلاف مسلسل آواز اسی نوعیت کی ایک نمایاں مثال دکھائی دیتی ہے۔
تقریباً پانچ برسوں سے ان کی گفتگو، مجالس، خطابات، دعاؤں اور اصلاحی پیغامات میں نوجوان نسل کی تربیت، اولاد کی حفاظت اور منشیات سے بچاؤ کا موضوع مستقل طور پر نمایاں رہا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ منشیات کے مسئلے کو محض ایک سماجی برائی کے طور پر نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کا سوال سمجھ کر بیان کرتے ہیں۔
لاکھوں لوگوں تک پہنچنے والی آوازاگر ان کے پیغام کے ممکنہ سامعین کا ایک محتاط تخمینی جائزہ لیا جائے تو اس کی وسعت حیران کن دکھائی دیتی ہے۔
ہر سال لار دربار میں ان کے پیر و مرشد کے عرس میں تقریباً تین سے چار لاکھ افراد کی شرکت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اگر کم ترین تعداد، یعنی تین لاکھ بھی فرض کی جائے اور گزشتہ پانچ برسوں کو بنیاد بنایا جائے تو صرف اس ایک بڑے اجتماع کے ذریعے تقریباً پندرہ لاکھ افراد تک ان کا براہِ راست پیغام پہنچنے کا تخمینہ سامنے آتا ہے۔
لار دربار میں سال کے دیگر دو بڑے عرس بھی منعقد ہوتے ہیں، جن میں بقولِ مشاہدہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک افراد شریک ہوتے ہیں۔ اگر محتاط انداز میں دونوں کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ افراد سالانہ بھی شمار کیے جائیں تو پانچ برسوں میں مزید تقریباً پانچ لاکھ افراد بنتے ہیں۔
یہ تو صرف عرس کے اجتماعات کا حساب ہے۔
اس کے علاوہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان کے پروگرام، مجالس، مذہبی و اصلاحی اجتماعات اور دیگر مواقع ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کی گفتگو سنتے ہیں۔ پھر لار دربار میں روزمرہ آنے والے زائرین اور عقیدت مندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اور مختصر نشستیں بھی اس دائرے میں شامل ہیں۔
یوں اگر ان تمام مواقع کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک محتاط تخمینہ یہ بنتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً چالیس لاکھ افراد تک میاں الطاف احمد لاروی کا براہِ راست یا بالمشافہ اصلاحی پیغام پہنچا ہوگا۔
یہ عدد کسی سرکاری مردم شماری یا باقاعدہ حاضری رجسٹر کا عدد نہیں بلکہ اجتماعات، سالانہ عرس، دیگر پروگراموں اور مسلسل اصلاحی نشستوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ایک محتاط تخمینی اندازہ ہے۔ تاہم اصل اہمیت صرف تعداد کی نہیں بلکہ اس پیغام کے موضوع اور اس کے اثر کی ہے۔
جب ہر مجلس میں اولاد کا ذکر ہو
میاں الطاف احمد لاروی صاحب کی گفتگو کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اصلاح کو صرف عبادات اور رسمی مذہبی گفتگو تک محدود نہیں رکھتے۔ ان کی مجالس میں اولاد کی تربیت، نوجوانوں کا مستقبل، والدین کی ذمہ داری، معاشرتی بگاڑ اور منشیات سے بچاؤ جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک منشیات کے خلاف جنگ صرف اس شخص سے لڑنے کا نام نہیں جو نشہ کر رہا ہے؛ اصل جنگ اس ماحول کے خلاف ہے جو ایک صحت مند نوجوان کو آہستہ آہستہ نشے کی طرف لے جاتا ہے۔
وہ والدین کو متوجہ کرتے ہیں کہ اولاد کو صرف سہولتیں، پیسہ اور آزادی دینا کافی نہیں انہیں وقت، تربیت، نگرانی، محبت اور صحیح سمت بھی دینا ضروری ہے۔
یہ پیغام اس لیے بھی اہم ہے کہ نشے کا شکار نوجوان اکثر اپنے مسئلے کو زبان پر نہیں لاتا۔ والدین بھی معاشرتی بدنامی کے خوف سے یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی نشے کی گرفت میں ہے۔ بہت سے خاندان خاموشی سے اس عذاب کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔
نشہ چھوڑنے والوں کی خاموش کامیاب منشیات کے خلاف کام کرنے کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ اس کی کامیابیاں اکثر اعدادو شمار میں نظر نہیں آتیں
ایک نوجوان اگر نشہ چھوڑ دے تو وہ عموماً یہ اعلان نہیں کرتا کہ میں نے نشہ چھوڑ دیا ہے۔ اس کے والدین بھی ہر جگہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا نشے سے واپس آ گیا ہے۔ معاشرہ بھی اکثر اس کامیابی کو ریکارڈ نہیں کرتا۔
اس لیے کسی شخص کے بارے میں یہ حتمی عدد دینا مشکل ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے نشہ کرنے والوں نے نشہ چھوڑا۔ لیکن کسی اصلاحی آواز کے اثر کو صرف ان اعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔
کبھی ایک جملہ کسی نوجوان کی زندگی بدل دیتا ہے۔
کبھی ایک دعا کسی ماں کے دل میں امید پیدا کر دیتی ہے۔
کبھی کسی والد کو اپنی اولاد کے ساتھ بیٹھنے کا خیال آتا ہے۔
اور کبھی کسی نشے کے عادی نوجوان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ واپسی کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔
سرکاری مشینری کے بغیر ایک مسلسل جدوجہد میاں الطاف احمد لاروی کی منشیات مخالف جدوجہد کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ اسے کسی سرکاری محکمے کی باقاعدہ مہم، سرکاری مشینری یا بڑے تنظیمی ڈھانچے کے سہارے سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔
یہ ایک اصلاحی اور دعوتی آواز ہے جو منبر مجلس، عرس، دربار، ملاقات اور دعا کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی ہے۔
حکومت کے پاس قانون ہے، اداروں کے پاس وسائل ہیں، تنظیموں کے پاس منصوبے ہیں مگر ایک روحانی و اصلاحی شخصیت کے پاس وہ چیز ہوتی ہے جسے کسی سرکاری بجٹ سے خریدا نہیں جا سکتا
لوگوں کا اعتماد اور جب کسی شخصیت کی بات عقیدت، محبت اور اعتماد کے ماحول میں سنی جاتی ہے تو اس کا اثر بعض اوقات ایک رسمی آگاہی پروگرام سے کہیں زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔
لار دربار سے اٹھنے والی اصلاحی صدا
لار دربار صرف ایک مقام کا نام نہیں اس خطے کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ روحانی نسبت عقیدت اور بزرگوں کی یاد سے جڑا ہوا ایک مرکز ہے۔ اسی ماحول میں اگر نوجوانوں کے مستقبل اولاد کی حفاظت اور منشیات سے نجات کی بات مسلسل کی جائے تو وہ پیغام ایک خاص جذباتی اور روحانی تاثیر اختیار کر لیتا ہے۔
یہ کہنا عقیدت کا اظہار ہے کہ وہاں کے بزرگوں کا فیض آج بھی جاری ہے اور اسی نسبت سے میاں الطاف احمد لاروی کو نوجوان نسل کے اس سنگین مسئلے کے خلاف سرگرم دیکھا جا رہا ہے۔
مگر اس عقیدت کے ساتھ ایک حقیقت بھی نمایاں ہے فیض کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر پیغام پہنچانے کے لیے مسلسل محنت، سفر، گفتگو، دعا اور لوگوں کے درمیان موجود رہنا بھی ضروری ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو میاں الطاف احمد لاروی کی جدوجہد کو نمایاں بناتا ہے۔
پانچ سال نہیں ایک مسلسل احساس منشیات کے خلاف جنگ چند دنوں یا چند ماہ کی مہم نہیں۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس میں ایک نسل کو بچانے کے لیے مسلسل کئی نسلوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔
آج ایک والد اپنے بیٹے کو بچاتا ہے کل وہی بیٹا کسی دوسرے نوجوان کو بچا سکتا ہے۔
آج ایک ماں اپنے بچے کو غلط صحبت سے دور کرتی ہے، کل وہی بچہ اپنے دوستوں کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
اسی لیے منشیات کے خلاف کسی بھی مؤثر آواز کا اصل ثمر فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ اس کے نتائج برسوں بعد معاشرے میں ظاہر ہوتے ہیں۔
میاں الطاف احمد لاروی کی گفتگو میں بار بار نوجوان نسل کی طرف واپسی اللہ کی طرف رجوع، والدین کی عزت، اچھی صحبت اور منشیات سے مکمل دوری کا پیغام اسی طویل اصلاحی عمل کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
ایک آواز ایک درد ایک مشن اگر چالیس لاکھ کا تخمینی عدد درست تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف چالیس لاکھ سامعین نہیں یہ چالیس لاکھ خاندان ہیں لاکھوں والدین ہیں لاکھوں نوجوان ہیں اور ہزاروں ایسے گھرانے ہیں جہاں منشیات کا مسئلہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میاں الطاف احمد لاروی کی منشیات کے خلاف آواز کو صرف ایک مقرر کی تقریر سمجھنا اس جدوجہد کو محدود کر دینا ہوگا۔ یہ ایک مسلسل اصلاحی پیغام ہے۔ ایک ایسا پیغام جو عرس کے بڑے اجتماع سے لے کر دربار کی چھوٹی نشست تک پہنچتا ہے جو والدین کو اپنی ذمہ داری یاد دلاتا ہےجو نوجوان کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو نشے کے شکار انسان کے لیے واپسی کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کرتا ہے اور جو معاشرے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر آج نوجوان نسل نہ بچائی گئی تو آنے والا کل ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
منشیات ایک ایسی وبا ہے جس کے خلاف صرف قانون کافی نہیں صرف پولیس کافی نہیں، صرف ہسپتال کافی نہیں اور صرف سرکاری مہم بھی کافی نہیں۔ اس کے لیے قانون کے ساتھ تربیت علاج کے ساتھ محبت نگرانی کے ساتھ دعا اور اصلاح کے ساتھ مسلسل انسانی رابطہ ضروری ہے۔
اسی تناظر میں میاں الطاف احمد لاروی کی مسلسل آواز ایک اہم سماجی و اصلاحی کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔
وہ کسی سرکاری مہم کے سربراہ نہیں کسی سرکاری مشنری کے ساتھ نہیں مگر اپنی مجالس عرسوں، دربار اور عوامی رابطوں کے ذریعے نوجوان نسل کو منشیات سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
اگر ان کے بیان کردہ اجتماعات اور پروگراموں کے تخمینی سامعین کو جمع کیا جائے تو گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً چالیس لاکھ افراد سے زیادہ تک یہ پیغام پہنچنے کا اندازہ سامنے آتا ہے۔
یہ تعداد خود اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ اثر ہے جو خاموشی سے گھروں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
کیونکہ منشیات چھوڑنے والا نوجوان شاید کسی اخبار میں خبر نہیں بنتا ہےاس کا باپ شاید کسی جلسے میں کھڑے ہو کر اعلان نہیں کرتا۔ اس کی ماں شاید کسی ادارے کو رپورٹ نہیں بھیجتی۔ مگر ایک گھر دوبارہ آباد ہو جاتا ہے۔ ایک ماں کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آ جاتی ہے۔ ایک باپ کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے اور ایک نوجوانبجو کبھی اپنی زندگی کے اندھیرے میں گم تھا دوبارہ اپنے مستقبل کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
منشیات کے خلاف اصل کامیابی شاید یہی ہے
جب اعداد و شمار خاموش ہوں مگر گھروں میں زندگی دوبارہ بولنے لگے۔
اور شاید اسی لیے لار دربار کی اس اصلاحی آواز کو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے جاری ایک مسلسل دعوت دعا اور جدوجہد کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیاقت علی چودھری
9419170548










Users Today : 58
Users Yesterday : 173