GNS ONLINE NEWS PORTAL

ضلع انتظامیہ کی اعلی کارگردگی کی بنا پر سیاست دانوں کے دائرے سکڑے۔

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

 


جموں کشمیر کی تاریخ میں دو بار صدر راج نافظ ہوا ہے۔پہلی بار 1990 اور اس کے بعد 2019 میں جو ابھی جاری ہے۔ 1989 میں ریاست کے نا نامسائد حالات کے دوران ریاست کی عوامی سرکار کو برطرف کرتے ہوئے گورنر راج نافظ کیا گیا اسی کے کچھ عرصہ بعد صدر راج کو ریاست میں قائم کیا گیا ۔اسی طرح سے ریاست میں محبوبہ سرکاری کی ناکامی اور شکست کی بنا پر 2018 میں ریاستی گورنر کو ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے اختیارات دیے گئے۔ نامسائد حالات کی بنا پر ریاست میں گورنر راج کی مدت ختم ہونے پر ریاست کے تمام انتظامیہ اختیارات صدر جمہوریہ کے پاس چلے گئے اور ریاست میں اس وقت بیروکریٹ حکومت سنبھالے ہوئے ہیں ۔ لیکن 1989 کے بجائے آج جو انتظامیہ ہے اس میں بنیادی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ 1990 کے وقت لوگوں کے دلوں میں ڈر خوف حراس دہشت چھائی ہوئی تھی۔ لیکن آج کے دور میں جو انتظامیہ اپنے اپنے ضلع کو سنبھالے ہوئے ہیں یہ ایک نمایا کام سرانجام دے رہے ہیں۔
آج ہم روشنی ڈالیں گے کے لوگ سیول انتظامیہ سے اتنے زیادہ خوش کس قدر ہیں اور اس انتظامیہ پر لوگوں کا اعتماد اتنا وسیع کیسے بن گیا ہے۔ اس انتظامیہ میں ایسا کیا ہے کہ لوگ عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کو بھول گئے ہیں۔ کہیں درجہ بہتر آج کی ضلح انتظامیہ کو سمجھتے ہیں ۔ اس پر بڑی ہی باریکی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کہ انتظامیہ جس میں اکثریت میں اسی علاقہ کے نوجوان جو آئی اے ایس آئی پی ایس اور کے اے ایس ہیں اپنے فرض منصبی کو بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ آج آزادی کے ساتھ پورے انصاف کے ساتھ قانوں و ضوابط کے تحت سیاسی دباو کے بغیر اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے عوامی خدمات کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں اور کام کیے جا رہے ہیں ۔ آج ہم بات کر رہے ہیں ضلح انتظامیہ راجوری کی جس کی سربرائی اسی علاقہ کے سپوت آئی اے ایس آفیسر چودھری محمد اعجاز اسد صاحب جو اس وقت ضلح ترقیاتی کمشنر راجوری ہیں وہ کر رہے ہیں۔ آج راجوڑی جو کے ایک ریاست کا پسماندہ اور دور دراز علاقہ پایا جاتا ہے۔ راجوری ایک طرف جموں ضلح کے ساتھ میل کھاتا ہے دوسری طرف وادی کشمیر کے ساتھ اور ایک طرف سرحدی علاقہ جس کے اس پار پاکستان کا زیرانتظام کشمیر پایا جاتا ہے۔ اس ضلح میں ہر مذہب کے رہنے والے لوگ ہیں ہر زات برادری کے لوگ یہاں کے سکونتی ہیں ۔ لیکن ا
سندر بنی سے لیکر بی جی تک اور مہور سے لے کر درہال تک کہیں بھی انتظامیہ کے اوپر سوالیہ نشان پچھلے ایک سال سے کہیں بھی سنائی یا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ عوامی مسائل کو سننے کے لیے ضلح ترقیاتی کمشنر راجوری موقعہ پر پہنچ کر گاوں و پنچائت تک تمام آفیسران کے ساتھ عوامی دربار لگاتے اور ان کو غور سے سنتے اور اس کے بعد موقعہ پر حل کر دیتے ہیں اور ہر شخص کو بات کرنے اپنے پریشانیاں انتظامیہ کے سامنے لانے کا پورا موقعہ دیا جاتا ہے۔ اس سے عوام خوش ہے اور انہیں لمبا سفر تہہ کر کے ضلح انتظامیہ کے پاس جانے کی مشکت نہیں کرنی پڑھتی ہے۔ ان کے مسائل گھر کے دروازے پر سنے اور حل کیے جاتے ہیں ۔
دوسرے نمبر پر جنہیں عوامی نمائندوں کی ضرورت پڑھتی تھی ان میں عوام کے چنے ہوئے نمائندے نہ تو کسی کی نوکری لگا سکتے ہیں اور نہ کسی کو مفت میں تعلیم دلوا سکتے ہیں۔ نہ ہی روزگار کا کوئی ذریعہ میسر کروا سکتے ہیں ۔ ان سے عوام کو زیادہ سے زیادہ کسی کی درخواست کو ضلع ترقیاتی کمشنر، پولیس کے ایس ایس پی ، کسی ڈی ایس پی ، ایس ایچ او ، تعصیلدار یا کسی ایکس ای این کی طرف شنوائی کے لیے لکھ کر بھیج دیتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں ضلح ترقیاتی کمشنر جناب اعجاز اسد آئی اے ایس کی موجودگی اور قیادت میں کسی کے لیے بھی ان کا دروازہ بند نہیں پایا جاتا ہے۔ جب چاہے جو چائے ان کے آفس میں صبح دس سے شام کے آٹھ بجے تک آ سکتا ہے اپنی بات رکھ سکتا ہے اپنے مسائل حل کروا سکتا ہے ۔ کوئی بھی شکایت تعمیری کاموں کی یا کوئی ذاتی یا کسی آفیسر کی لاپروائی یا کوتاہی کو بیان کر کے اس پر کاروائی کروا سکتا ہے۔ دوسری طرف پولیس جو گونا گون عوامی مسائل میں مبتلا ہوتی ہے اس کے سربراہ جناب یوگل منہاس صاحب کی نرم طبیعت اور سادگی ہر کسی کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔ بغیر کسی پریشانی کے لوگ اپنی اپنی مشکلات رکھ سکتے ہیں اور لوگ انصاف حاصل کر رہے ہیں۔ اب عوامی نمائندوں کی بات صرف ایک رہی کہ ان کے پاس اسمبلی تعمیراتی رقوم ہوتی ہے جس سے یہ اپنے چاہتے کھڑپینچوں کو بیس تیس ہزار روپیہ دے کر خوش کر دیتے ہیں اور کوئی چھوٹا موٹا کام کروا دیتے ہیں لیکن اعجاز اسد صاحب نے جہاں جس کی ضرورت دیکھی جس نے جو کام عوامی فلاح کے لیے بتایا اسے فوری متعلقہ محکمہ سے عملی جامہ پہنانے کا حکم صادر فرما یا ۔ اس کے علاوہ جو یہ عوامی نمائیدےکام کرتے تھے وہ یہ کے کسی کے خلاف ایف آئی آر لگوا دینا یا کسی کے خلاف کاروائی نہ ہونے دینا تو اس سے آزادی حاصل ہوئی عوام کو بھی اور انتظامیہ کو بھی وہ انصاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جس سے عوام بہت خوش ہے کسی کو حراس نہیں کسی کو خوف نہیں۔
ایسی انتظامیہ کا میسر ہونا اور انتظامیہ میں اتنا انصاف پسندی بنیادی بات کیا ہو سکتی ہے اس پر بھی بحث لازمی بنتی ہے۔ آج اللہ کے فضل وکرم سے ریاست کے ہر علاقہ سے بچے تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور انہوں نے یہ دور دیکھا ہے جب بوسیدہ ذہن اور کٹٹر سوچ کے مالک سیاست دان اپنی سلطنت قائم رکھتے تھے جس پر چاہتے عنایت فرما دیتے جس پر چاہتے ظلم و جبر کا قہر برپا کروا دیتے اس بات سے باخوب واقف ہیں میرے ہم عمر جو آج ریاست و ضلع کے انتظامیہ میں زمہ دار ہیں۔ یہ عہدوں پر فائز ہیں صرف اپنی قابلیت کی بنا پر نہ کے کسی کی پشت پناہی کی وجہ سے۔ انہوں نے اپنے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ علاقائی تعصب زات برادری کا تعصب یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آج اللہ نے انہیں طاقت بخشی ہے اور یہ انصاف کی کرسی پر فائز ہیں۔ اعجاز اسد صاحب نے راجوڑی کے اندر جو مفاد عامہ کے کام کیے ہیں وہ کسی سے اوجھل نہیں ہیں یہ کام اگر اس ضلع کے دو قابینہ کے وزیر بھی ہوتے تو نہ کر سکتے تھے ۔ محکمہ تعلیم میں محکمہ تعمیرات میں محکمہ صحت میں ہر جگہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں جہاں آج کام جاری و ساری ہیں ۔ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کی سڑک جس کی خستہ حالت تھی جو آج وسیع چوڑی دو لائیں ہی نہیں بلکہ چار لائیں والی سڑک بن رہی ہے۔ جو اس خطہ کا واحد ایسا ادارہ ہے جہاں سے ہم اپنے سنہرے مستقبل کو پیدا کر سکتے ہیں ۔ یہ کام ایک مثال ہے ایسے سینکڑوں ہی نہیں بلکہ ہزاروں کام ہیں جو اعجاز اسد صاحب کی ذاتی کاوشوں کی بنا پر چل رہے ہیں۔ دوسری طرف نوجوان نسل کو منشیات سے ہٹا کر اصل راستے پر لانے کی لگاتار کوششیں جاری ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام کو سیاست دانوں کے بند دروازوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑھتا ہے۔ اور ان سیاست دانوں کے دائرے محدود ہو کر رہے گئے ہیں۔ جس سے انہیں آنے والے دور میں ایک سبق حاصل ہو گا شاید یہ بھی انصاف پسند زندگی کو ترجیح دیں

۔ تحریر لیاقت علی چودھری 9419170548 7051070548

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

2 2 8 6 2 2
Users Today : 59
Users Yesterday : 86