راجوری: دوداسن بالا تحصیل تھنہ منڈی کی سکونتی بیوہ پروین اختر پہ گلزار حسین ھیڈ کانسٹیبل، جو آج آرمڈ پولیس کی بٹالین آٹھ میں بطور پولیس ھیڈ کانسٹیبل فرائض انجام دے رھا کے چند غنڈوں اور اور خود اس کے بیٹوں نے 02 جون کو پروین اختر کے گھر گھس کر اس پہ قہر برپا کردیا اس کے سر میں کلہاڑی کا ایسا شدید وار کیا کہ وہ بے ھوش ھوکر گئی پھر پروین اختر کے ساتھ زیادتی کی اور ایک چھوٹے بارہ سالہ معصوم بچے کو مار مار کر اس کے دونوں گردے فیل کردئے جو آج بھی موت و حیات کی کشمکش میں جموں ھسپتال میں زیر علاج ھے وہیں پروین اختر کا الزام ھیکہ طالب حسین جو محکمہ، سی آئی ڈی میں راجوری تعینات ھے کی ایماء پر گلزار حسین یہ سب کچھ کئے جارہا ھے ـ مذکورہ پروین اختر بیوہ ھے اور گلزار حسین کے بڑے بھائی کی بیوی ھے، مذکورہ پروین اختر کا خاوند 2010 میں ایسی ہی کسی سازش کا شکار ھوکر وفات پا چکا ھوا ھے ، اس دوران جب خاوند کی وفات ھوئی تھی تو گلزار حسین اور طالب حسین مذکوریان نے بیوہ پروین آختر سے تین لاکھ روپیہ نقد ایس آر او کے تحت اس کے بیٹے کو نوکری لگوانے کیلئے لئے تھے جو تاایں دم نہ تو واپس کئے ہیں اور نہ ہی اس کے بیٹے کی نوکری لگا پائے ہیں وہیں اب طرح طرح کی سازشیں کر کے یہاں سے مذکوروہ پروین اختر اور اس کے دو یتیم بچوں کو بے گھر کرکے ان کی جاہیداد و زمین ھڑپ کرنا چاہتے ہیں، اسی تناظر میں دو جون کو جب وہ اپنے عیال کیساتھ گھر میں موجود تھی تو اچانک گلزار حسین اور اس کے غنڈوں نے گھر میں گھس کر پروین اختر اور اس کے بچوں کی پٹائی کردی، پروین اختر کے سر میں شدید قسم کے کلہاڑی کے وار سے وہ بے ھوش ھوگئی خون بھی بیشمار بہہ گیا اور اس کے معصوم بچے کو پیٹ پیٹ کر اس کے گردے فیل کردئے جو آج جموں ہسپتال میں زیر علاج ھے اب اسے علاج کیلئے کٹڑہ منتقل کیا جارہا ھے جبکہ بیوہ پروین کے پاس اتنی رقم نہیں ھے کہ وہ اپنے بچے کا علاج کٹڑہ ھسپتال میں جا کے کروا سکے وہیں پولیس تھانہ تھنہ منڈی بھی لا پرواہی سے کام لے رہی ھے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ھے باقی سبھی فرار ہیں جس سے پروین اختر اب مزید خوف و ھراس میں ھیکہ وہ دھمکیاں جو طالب حسین مذکور اور گلزار حسین دیا کرتے تھے کہ ھماری رسائی ڈی جی پی اور آئی جی پی تک ھے وہ یہاں پولیس کا کاروائی نہ کرنے سے عیاں ھو رہی ھےـ وہیں پروین اختر اب گھر واپس جانے میں بھی خوف و ھراس محسوس کر رہی ھے
اس نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے اپیل کی ھیکہ وہ اسے اور اس کے بچوں کو تحفظ فراھم کرے ـ وہیں ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس جو نہایت ہی ایماندار اور قابل آفیسر ھے سے بھی اپیل کی ھے کہ وہ ان دو مذکورہ گلزار حسین اور طالب حسین پہ لگام کسے اور ان دونوں کے ماضی کے ریکارڈ چیک کریں یہ ضلع کے مانے ھوئے ھسٹری شیٹر ہیں کبھی کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں وہیں ایس ایس پی یوگل منہاس سے بیوہ پروین اختر کی بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں پروین اختر کو اب یہ بھی ڈر ھیکہ اس کے بچے کو 376 دفعہ کے تحت جیل بھیجنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ھے گلزار حسین اور طالب حسین یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ ان کے پاس کروڑوں ہیں وہ کیا کرے گی اس لئے وہ ایس ایس یوگل منہاس سے امید لگائے بیٹھی ھیکہ اس کیساتھ انصاف ھوگا.













Users Today : 63
Users Yesterday : 86