GNS ONLINE NEWS PORTAL

اسمارٹ اسکولوں کے وعدے، مگر بچوں کے حصے میں کھنڈرات” فاروق انقلابی کا حکومت پر شدید حملہ

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل

راجوری، 30 جولائی: سینئر پی ڈی پی رہنما محمد فاروق انقلابی نے ضلع راجوری کے زون خواص میں واقع گورنمنٹ مڈل اسکول بھیلہ کی انتہائی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکول میں 150 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اسکول کی عمارت کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہے اور بچے غیر محفوظ حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

اپنے جاری کردہ بیان میں محمد فاروق انقلابی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے “اسمارٹ اسکول” قائم کرنے اور تعلیمی نظام کو جدید بنانے کے بڑے بڑے وعدے کیے گئے تھے، لیکن زمینی حقیقت ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ اسکول تو دور کی بات، بچوں کو ایک محفوظ عمارت بھی میسر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ مڈل اسکول بھیلہ تقریباً 60 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس ادارے نے علاقے کی کئی نسلوں کو تعلیم دی ہے۔ “اس اسکول سے تعلیم حاصل کرنے والے بے شمار نوجوان مختلف سرکاری محکموں میں ملازم ہوئے اور اپنی ملازمت مکمل کرکے ریٹائر بھی ہو چکے ہیں، مگر افسوس کہ آج اسی تاریخی تعلیمی ادارے کی عمارت کھنڈر بن چکی ہے اور حکومت اس کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔”

محمد فاروق انقلابی نے مزید کہا کہ اس اسکول میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک صرف ایک ہی استاد تعینات ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ایک استاد بیک وقت آٹھ جماعتوں کو معیاری تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ یہ نہ صرف طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ ہے بلکہ اساتذہ پر بھی غیر انسانی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بھیلہ اسکول کی یہ حالت کوئی واحد مثال نہیں بلکہ کوٹرنکہ اور خواص زون کے سینکڑوں سرکاری اسکول یا تو اپنی عمارتوں سے محروم ہیں یا شدید خستہ حال عمارتوں میں چل رہے ہیں، جبکہ متعدد اسکولوں میں اساتذہ کی بھی شدید قلت ہے۔

محمد فاروق انقلابی نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر علی عمر عبدللہ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ مڈل اسکول بھیلہ کے لیے فوری طور پر نئی عمارت منظور کی جائے، تمام خالی تدریسی اسامیاں پُر کی جائیں اور کوٹرنکہ و خواص زون کے تمام سرکاری اسکولوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کر کے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا، “بچوں کا مستقبل انتخابی وعدوں سے نہیں بلکہ مضبوط اسکولوں، معیاری تعلیم اور مناسب تدریسی عملے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت کو اب دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی باوقار اور محفوظ تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔”

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

2 2 7 0 8 2
Users Today : 54
Users Yesterday : 99