Author: editor

  • Self Promotion Was Altaf Bukhari’s Sole Agenda: PDP*  Bukhari sabotaged Agenda of Alliance by offering Nagpur his services after Mufti sahib’s demise*

    Self Promotion Was Altaf Bukhari’s Sole Agenda: PDP* Bukhari sabotaged Agenda of Alliance by offering Nagpur his services after Mufti sahib’s demise*

    Srinagar, Jan 21: Refuting that his name was at any point suggested as an interim president of the party, Vice President Peoples Democratic Party (PDP) Abdul Rahman Veeri on Monday said that seeking self promotion through illicit, undemocratic and unethical measures was Altaf Bukahri’s sole agenda in PDP.

    Reiterating his faith in the leadership of Mehbooba Mufti as the PDP President, Veeri said that across the state, party functionaries, workers and activists en-masse support her in her every endeavour to get the state out of the present cycle of violence. Every person associated with the PDP, said Veeri, has witnessed how amid the tumultuous times Mehbooba Mufti built the party brick by brick and made it a guiding force in Jammu and Kashmir’s political landscape. He added that in spite of taking over in very trying circumstances, PDP President ran the government with integrity and calibre. However, according to Veeri, she was back-stabbed by some people especially Altaf Bukhari.

    Veeri said that by giving out his desire to become PDP President , Mr Bukhari has exposed his real agenda which he initiated within days of Mufti saheb’s death. “For that he even made Nagpur Yatra in a bid to seek their blessings for forming the government at the cost of party and state interest.Ever since the death of Mufti Mohammad Sayeed, he tried to grab the party and sell it out for promotion of his personal ambitions,” said Veeri.

    The PDP Vice President stated further that every person is now aware that when party President Mehbooba Mufti was standing firm before the government of India, Bukhari even went up to Nagpur to offer his services as an alternative. “Such acton of his sabotaged the agenda of alliance and the negotiations Mehbooba Mufti was having with the government of India ,demanding implementation of specific points in the agenda of alliance as a precondition for taking over as the Chief Minister of the state,” Veeri said.

    The PDP veteran added that even when the government headed by Mehbooba Mufti was formed in April 2016, a clear signal was given to Bukhari as he was dropped from the cabinet. It was later, according to Veeri, on assurances of good conduct from Bukhari that his position was restored.

    He said that the ousted leader had no problem with the party till the government was in place and he begun inventing issues soon after the dissolution of assembly. “Till the dissolution, Mr Bukhari had the hopes of getting the government back. Though, till then, he was behaving like a party man but his one foot was in PDP and his soul and spirit were with all other parties except PDP. He was in contact with the outlaws and even made hectic efforts to instigate rebellion within the party,” Veeri said, adding that soon after dissolution of assembly, Bukhari saw only one way of finishing the PDP and that was by taking over as President and he openly told some party leaders that he wants to take over as a prize for him to stay in the party. “He had a one point agenda and that was to take over the party and sell it out for promoting his political and other interests. Now exposed, he is openly declaring his ambitions in public,” Veeri said.

    He added that people of the state know Mehbooba Mufti as a person with selfless courage with a desire to ensure betterment in peoples’ lives. “It is not Mehbooba Mufti who needs PDP. It is actually the PDP which needs the person of her stature. Her command and sincerity in work is already being praised by one and all, not only in JK but across the country. She has battled against various forces very bravely and the impression she has left on the minds of people is that she is actuated by high sense of fairness and impartiality. Every person associated with the PDP is proud of her leadership and is hopeful that she will lead the people of the state to their permanent prosperity,” said Veeri.

  • پہاڑیو ں طبقہ کے مسائل اورخوابوں کے نئے سوداگر احوالِ پیرپنچال

    پہاڑیو ں طبقہ کے مسائل اورخوابوں کے نئے سوداگر احوالِ پیرپنچال

                                             الطاف حسین جنجوع

    جوں جوں اسمبلی وپارلیمانی انتخابات کا وقت نزدیک آرہاہے مختلف سیاسی جماعتوں نے رائے دہندگان کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔اس کے لئے علاقہ، ذات پات، فرقہ ،مذہب، رنگ ونسل، امیرو غریب، سیاہ وسفیدکے کارڈ کھیلے جارہے ہیں اور جہاں جوپتہ فٹ بیٹھتا ہے اُسی کو بروئے کار لانے کی تگ ودد شروع ہوچکی ہے۔ پہاڑی طبقہ کے بھی اب کچھ نئے سوداگر میدان میں آگئے ہیں۔اس سے قبل بھی بیشتر سیاسی جماعتوں جس میں نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پینتھرز پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی وغیرہ شامل ہیں، نے اپنے انتخابی منشور میں پہاڑی طبقہ کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنے کا وعدہ کیاتھا لیکن اقتدار ملنے کے بعد صدِ ق دلی سے اس طرف کسی نے بھی توجہ نہ دی۔ اگر کوئی پیش رفت کی بھی گئی تو اس میں اتنی خامیاں رکھی گئیں کہ بات آگے بڑھ نہ سکی۔ سال 2019لگتے ہی پچھلے کچھ روز سے پھر سیاستدانوں کو پہاڑیوں کی یاد ستانے لگی ہے ۔نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس لیڈران اس حوالہ سے اگر چہ ابھی خاموش ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور پیپلز کانفرنس لیڈران کافی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں جن کی نظریں پونچھ، راجوری اور کپواڑہ اضلاع جہاں پہاڑی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے، پرمرکوز ہیں۔ اس حوالہ سے پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون، پی ڈی پی کوخیر آباد کہہ کر پیپلز کانفرنس میں شامل ہوئے عمران رضا انصاری نے گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کی اور ان سے گذارش کی کہ پہاڑی طبقہ کو ملازمتوں میں تین فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق جوبل راج بھون میں پڑا ہے، اس کو منظوری دی جائے۔ کچھ روز گذرنے کے بعد سابقہ پولیس آفسر راجہ اعجاز علی خان جنہوں نے بھی پی ڈی پی سے نکل پیپلز کانفرنس خیمہ میں پناہ لی ہے، نے راجہ شرافت علی خان کے ساتھ مل کر پہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئر فورم کے بینر تلے گورنر سے ملاقات کی۔کپواڑہ ضلع میں جہاں پیپلز کانفرنس کا اثر رسوخ کافی ماناجاتاہے، نے پہاڑی طبقہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس معاملہ کو زور وشور سے اٹھانا شروع کیا ہے تو وہیں راجوری پونچھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کچھ سرگرم نظر آرہی ہے۔پونچھ سے پارٹی کے ایم ایل سی پردیپ شرما نے بھی گورنر سے ملاقات کی اور دوسرے روز ہی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیاکہ انہوں نے پہاڑی طبقہ کے جائزہ مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کافی کام کیا ہے اور جلد یہ حل ہوجائے گا ۔ایک روز قبل ہی راجوری میں ایم ایل سی ایڈووکیٹ وبودھ گپتا نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ بی جے پی پہاڑی طبقہ کے ساتھ انتخابات کے دوران کئے گئے ریزرویشن کے وعدے کوپوراکرنے کی وعدہ بندہے۔انہوں نے کہاکہ پہاڑی طبقہ کی اس مانگ کوجلدپوراکیاجائے گا۔ ٹھیک اسی روز جموں سے بی جے پی ترجمان اعلیٰ ایڈووکیٹ سنیل سیٹھی کا بھی ایک بیان پہاڑی طبقہ کے دیرینہ مطالبہ کے حق میں سامنے آیا جس میں انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ پہاڑی طبقہ کو ریزرویشن دی جائے۔حیران کن امر ہے کہ یہ لیڈران اس سے پہلے کہاں تھے۔ انتخابات نزدیک آتے ہی کیوں انہیں پہاڑیوں کی یاد آئی۔ فروری2018میں پہاڑیوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں تین فیصد ریزرویشن دینے کے لئے بل قانون سازیہ سے دوسری مرتبہ پاس کر کے منظوری کے لئے راج بھون بھیجاگیاتھا جس پرپہلے گورنر این این ووہرہ نے پھر کچھ اعتراضات لگادیئے جنہیں اس وقت کے وزیر قانون وپارلیمانی امور عبدالحق خان نے جواب دیئے لیکن پھربھی دستخط نہیں کئے۔ بعد ازاں ستیہ پال ملک کی بطور گورنر تقرری ہوئی جنہوں نے پہ در پہ آرڈی ننس کے ذریعہ کئی قوانین پاس کئے۔ کئی بڑے پالیسی ساز فیصلے لئے مگر اس طرف انہوں نے بھی توجہ نہیں دی۔ اس مدت کے دوران کسی بھی سیاسی لیڈران نے پہاڑی ریزرویشن بل بارے کوئی بات کی اور نہ ہی اس معاملہ کو اُجاگر کیا۔اب الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کے لئے کی جارہی سرگرمیوں کے پیش نظر سبھی لیڈران نے ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیئے ہیں اور اولین فرصت میں راج بھون کے دربار میں حاضری دینا شروع کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سال2014کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں بھی پہاڑیوں کو ایس ٹی درجہ دلانے کا معاملہ شامل تھا ، مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مکمل اکثریت والی حکومت بھی موجود تھی لیکن پھر بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کرایاجاسکا۔ گورنرراج یا صد ر راج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ براہ راست ریاست کا کنٹرول مرکزی سرکار کے پاس ہے۔ اگر بھاجپا قیادت مخلص ہوتی تو گورنر سے بل پر دستخط کروائے جاسکتے تھے۔پاس جماعت کی نیت میں بھی کھوٹ نظر آرہا ہے اور لیڈران کے بیانات صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ہیں۔اگر صدق دلی ہے تو پھر ریزرویشن بل کو منظوری نہ ملی۔ بھارتیہ جنتاپارٹی جموں وکشمیر کے ریاستی صدر راویندر رینہ جوکہ ضلع راجوری کے نوشہرہ اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے بھی رہے، بھی پہاڑی ہونے کادعویٰ کرتے ہیں، انہوں نے فروری 2018بجٹ اجلاس کےد وران اسمبلی میں پہاڑی طبقہ سے متعلق لمبی چوڑی جذباتی تقریر بھی کی تھی ، انہوں نے تو یہ تک کہاتھاکہ موجودہ گورنر ہمارا آدمی ہے ۔ انہوں نے گورنر کی نوٹس میں یہ معاملہ کیوں نہیں لایا۔اقتدار ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیاجارہا، صرف اخباری بیانات اور پریس کانفرنسوں سے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ بی جے پی جوکہ اس مرتبہ پیرپنچال سے پونچھ اسمبلی حلقہ اور راجوری حلقہ پر فتح حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس لئے اس مسئلہ کو اُچھالاجارہاہے۔ اگر واقعی پارٹی قیادت میں اس حوالہ سے اخلاص ہے تو ابھی بھی وقت ہے کہ التوا میں پڑے بل کو منظوری دلائی جائے۔آخر کب تک لوگوں کو بیوقوف بنایاجائے گا، کب تک ان کا سیاسی مفادات کی خاطر جذباتی استحصال کیاجائے گا کیونکہ یہ عمل زیادہ دیر تک چل نہیں سکتا…………!!
    ٭٭٭٭
    نوٹ :مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں
    ای میل:altafhussainjanjua120@gmail.com

  • Was attacked by corporators backed by RSS, BJP: SMC deputy Mayor*

     

    Srinagar | Jan 21 2019W:-Wasattacked by corporators backed by RSS, BJP: SMC deputy Mayor

    The deputy mayor of Srinagar Municipal Corporation (SMC), Sheikh Imran on Monday alleged that he was attacked by the RSS and BJP-backed corporators, even as he vowed to speak against ‘corruption’ in the corporation.
    Imran received few stitches after a corporator threw some object at him during a council meeting of the SMC earlier today.

    Addressing a presser, Imran said the assault on him was pre-planned by the BJP and RSS backed corporators.
    “I will not bow down by such tactics. I will continue to speak against corruption and injustice,” he said, adding that he was attacked for speaking against BJP and Hindutva campaigns.
    Imran said that he was committed to “kicking out” the BJP from Kashmir.
    He said the corporators who attacked him were backed by SMC mayor.
    He appealed to Governor Satya Pal Malik and Chief Secretary to look into the matter.
    “From the first day, I urged the administration to look into the issue of BJP, RSS sponsored Mayor but they turned dead ears,” he claimed.
    Imran said from past one week, he was continuously being trolled by the “BJP, RSS army” in the corporation.

  • Searches conducted in Kotbalwal jail in Jammu, 2 mobile phones, illegal items seized*

    Searches conducted in Kotbalwal jail in Jammu, 2 mobile phones, illegal items seized*

    Jammu: Police have recovered illegal items, including two mobile phones, five pendrives and some sharp-edged weapons from high-security Kot Bhalwal jail in winter capital Jammu, officials said Monday.

    LPG cylinders, deep freezers and several other incriminating items were also recovered from the barracks housing over 500 inmates, including local and foreign terrorists, during the day-long operation carried out by 300 policemen and jail staff under the supervision of Senior Superintendent of Police Tejinder Singh Sunday, they said.

    The officials said authorities were monitoring the activities inside the jail over the past couple of months, especially the use of mobile phones and accordingly planned the operation.

    However, no SIM card was recovered during the operation, they said, adding that these could have been disposed off or destroyed secretly by users when the searches started.

    The mobile phones and pendrives have been sent for a detailed analysis to extract data which will take some time, the officials said.

    In addition to over 200 hardcore local and Pakistani terrorists, the jail houses prisoners, including dreaded criminals, habitual stone-throwers and detainees under the public safety act. (PTI)

  • Liquor producing working still, Lahaan destroyed, liquor seized

    Liquor producing working still, Lahaan destroyed, liquor seized

    Rajouri,Jan 21:-,Jammuand Kashmir police on Monday morning unearthed a working still used for producing desi liquor in Mangiot village of Nowshera and destroyed lahaan besides seizure of fresh produced liquor.

    On a specific information, a team of police headed by SDPO Nowshera Brijesh Sharma along with SHO Nowshera Mohammad Amin under the supervision of Addl SP Nowshera Girdhari Lal Sharma conducted a raid in the said village and unearthed the working still near the house of a local man.

    The still was destroyed on the spot while 15 kilograms of Lahaan was also destroyed and four litres of desi liquor seized.

    Man namely Sat Paul son of Bari Ram resident of Mangiot Nowshera has been arrested.

    A case FIR No 11/2019 U/S 48 (b)and 48(e) of Excise Act has been registered and investigation taken up.