
*وسیم حیدری*
منڈی//سابق ممبر قانون ساز اسمبلی و کونسل ، وائس چیئرمین گجر بکروال مشاورتی بورڈ اور کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری بشیر احمد ناز طویل علالت کے بعد جموں کی رہائش گاہ پر اتوار دیر شام انتقال کر گئے جس کے بعد ریاست بھر میں غم کا ماحول دیکھنے کو ملا – جموں سے ان کے جسد خاکی کو پونچھ منتقل کیا گیا جس کے بعد سوموار دن کے گیارہ بجے ان کی نمازِ جنازہ عیدگاہ پونچھ میں ادا کی گئی جہاں لوگوں کا سیلاب دیکھنے کو ملا – پونچھ سے ان کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں لورن ڈنہ منتقل کیا گیا اور وہاں پر بھی ان کی نمازِ جنازہ قریباً 3 بجے ادا کر 4:30 پر انہیں پرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا – اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں جہاں لوگ شریک تھے وہیں تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور چودھری بشیر احمد ناز کی وفات کو بڑے نقصان کے ساتھ تعبیر کیا –
*متعدد سیاسی سماجی و مزہبی رہنماؤں کا اظہارِ تعزیت*
چودھری بشیر احمد ناز کے انتقال پر جہاں ریاست جموں و کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک غلام نبی آزاد کے علاوہ کانگرس کے سینئر رہنماؤں نے اظہار تعزیت کیا وہیں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی سماجی اور مزہبی رہنماؤں نے بھی تعزیت پیش کی ہے – تحصیل منڈی سے پی ڈی پی کے سینئر رہنما شمیم احمد گنائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ چودھری بشیر احمد ناز کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے اور اس سے جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا – انہوں نے چودھری بشیر ناز کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کے ساتھ امید کی ہے کہ ان کے فرزند ریاض ناز اپنے والد کے نقش و قدم پر چل کر لوگوں کی امیدوں پر کھرا اتریں گے – جماعت رضائے مصطفےٰ منڈی کے صدر سیّد مسرت حسین بخاری نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ موت بے شک برحق ہے لیکن ایسے عظیم رہنما کا دنیا سے گزر جانا یقیناً نقصان عامہ ہے –
*62 برس کے سفر کا مختصر خاکہ*
سابق ممبر قانون ساز اسمبلی و کونسل ، وائس چیئرمین گجر بکروال مشاورتی بورڈ اور ایک عظیم رہنما چودھری بشیر احمد ناز کی ولادت ضلع پونچھ کے گاؤں لورن میں سن 2 اپریل 1957 میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول ونڈ گیگیاں لورن و ہائی اسکول لورن سے حاصل کی جبکہ سکنڈری سطح کی تعلیم ہائر سکنڈری اسکول منڈی اور گریجویشن گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ سے کی – چودھری بشیر احمد ناز نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز سن 1984 میں کیا جس کے بعد 1987 میں پہلی مرتبہ انہوں نے آزادانہ طور پر حویلی اسمبلی انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی اور ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہونے کے چند عرصہ بعد نیشنل کانفرنس جماعت میں شمولیت اختیار کی – ابھی بطور ممبر قانون ساز اسمبلی ان کی مدت ختم نہ ہوئی تھی کہ حالات خراب ہونے کی وجہ سے 1989 میں اسمبلی تحلیل ہو گئی اور وہ بطور ممبر قانون ساز اسمبلی 1989 تک ہی اپنے فرائض سر انجام دے سکے – وقت گزرا اور 1996 کے اسمبلی انتخابات آ پہنچے جس میں چودھری بشیر ناز نے دوبارہ آزادانہ طور پر انتخاب میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوئے جس کے بعد قریباً 2001 میں وہ دوبارہ نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے اور حویلی اسمبلی نمائندہ غلام محمد جان کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی حمایت کی اور 2003 میں انہیں ممبر قانون ساز کونسل منتخب کیا گیا اور 2008 تک وہ بطور ممبر قانون ساز کونسل عوام کی خدمات انجام دیتے رہے – 2009 کے اسمبلی انتخابات آنے تک چودھری بشیر ناز نے کانگرس جماعت میں شمولیت کر لی تھی اور اسی جماعت کی ٹکٹ پر انہوں نے 2009 کے حویلی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا لیکن ناکام رہے – اگر چہ وہ یہ انتخاب جیت نہیں سکے لیکن 18000 ووٹ حاصل کرنے کے بعد کانگرس میں ان کی الگ شناخت بنی اور اس کے عوض میں انہیں غالباً 2010 میں گجر بکروال مشاورتی بورڈ کا وائس چیئرمین منتخب کیا گیا اور 2014 تک وہ گجر بکروال مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین رہے – 2014 میں چودھری بشیر احمد ناز نے آخری کانگرس جماعت کے مینڈیٹ پر اپنی زندگی کا آخری حویلی اسمبلی انتخاب لڑا لیکن اس بار بھی وہ جیت حاصل نہیں کر پائے اور اس کے بعد سے وہ کانگرس جماعت کے ساتھ ہی منسلک رہ کر لوگوں کی خدمات سر انجام دیتے رہے – غالباً ایک سال قبل چودھری بشیر احمد ناز پونچھ میں علیل ہوئے جس کے بعد وہ علاج و معالجہ کے لئے جموں اور بیرون ریاست بھی گئے لیکن آخر کار ایک سال کی علالت کے بعد 12 مئی 2019 کو یہ آفتاب غروب ہوا جس کو 13 مئی 2019 کو آبائی گاؤں لورن ڈنہ میں 4:30 پر سپرد خاک کر دیا گیا –
*چودھری بشیر احمد “ناز” کیسے بنے*
چودھری بشیر احمد پرائمری اسکول ونڈ گیگیاں میں زیر تعلیم تھے جہاں اس وقت کے نامی گرامی استاد عبدل جبار تانترے نے ان سے متعدد سوالات کئے جن کے معقول جواب چودھری بشیر احمد نے انہیں دئے – ان کی ذہانت اور حاضر دماغی سے متاثر ہوتے ہوئے عبدل جبار تانترے نے ان سے کہا کہ مجھے آپ پر ناز ہے جس کے بعد انہوں نے ہی تعلیمی سرٹیفکیٹ پر چودھری بشیر احمد کے نام کے ساتھ ناز بطور اضافی شامل کیا اور تب سے چودھری بشیر احمد بطور چودھری بشیر احمد ناز کہلائے اور ایسی زندگی بسر کی کہ ہر ایک کو ان پر ناز ہے
*چودھری بشیر احمد ناز گجر لیڈر یا سیکولر رہنما*
چودھری بشیر احمد ناز کا جب نام لیا جاتا ہے تو عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ ان کو گجر طبقہ تک محدود کر یہ کہا جاتا ہے کہ چودھری بشیر احمد ناز گجر برادری کے لیڈر ہیں لیکن اگر ان کی 35 سالہ سیاسی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو انہوں نے بغیر ذات پات رنگ و نسل اور طبقات کے فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کی خدمات سر انجام دی ہیں اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت ان کی نماز جنازہ میں شامل ہزاروں افراد کی شکل میں ملتا ہے جنہوں نے پرنم آنکھوں سے بشیر احمد ناز کو سپرد خاک کیا –
*چودھری بشیر احمد ناز کے انتقال پر عوام کا اظہار دکھ*
چودھری بشیر احمد ناز کے انتقال پر جہاں ریاست بھر میں غم کا ماحول پایا جائے رہا ہے وہیں تحصیل منڈی میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس سلسلہ میں دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے – ان کی نماز جنازہ کے موقع پر سیاسی و سماجی حلقوں کے لوگوں نے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم رہنما اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے اور سیاسی زندگی کو برے رکھ کر کر ان کی عام زندگی کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ اچھے انسان تھے جو ہر وقت لوگوں کی خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے – اس عظیم رہنما کے انتقال پر جہاں ایک جانب ہر آنکھ نم دکھائی دے رہی تھی وہیں اس شخصیت کی مغفرت کے لئے دعائیں بھی کی جا رہی تھی –











Users Today : 14
Users Yesterday : 63