اپنی ہی کرنی کا پھل ہے نیکیاں روسوایاں
اپکے پیچھے چلیں گی اپکی پرچھائیاں
عاشق دیو
کشتواڑ کے سیاسی و سماجی کارکن ارشد گیری جو کہ خود بھی ایک تاجر ہیں مگر پھر بھی انہوں نے اخبار کے نام اپنے ایک پیغام میں ناجائز منافع خوری بلخصوص ماہِ رمضان کی امد کے ساتھ ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ارشد گیری نے اپنے ایک بیان میں ان سب چیزوں کا تزکرہ کچھ اسطرح سے کیا
ارشد گیری نے بتایا کہ ہم لوگ تجارت برایے تجارت نیں کرتے بلکہ ہم لوگ اگر اپنے ارد گرد نظریں دوڑایں گے تو پایں گے کہ ہم ہر محاز پہ صرف اور صرف اپنی انے والی نسلوں کے لیے محنت کرنے کے دروازے اپنے ہی ہاتھوں بند کر رہیے ہیں،اور پھر الزام یہ کہ اجکل کی اولاد نافلق اور بے حیاح و والدین کی ہی نہیں بلکہ بزرگوں کا احترام بھی نہیں کرتی،مگر اس پہ غور نہیں کرتے کہ یہ سب کہیں نہ کہیں اس سب کے ہم خود زمیدار ہیں۔
ہم لوگ تجارت کرتے ہیں تو ناپ طول کی نہیں بلکہ انے والی نسلوں کے لیے دولت کا زخیرہ جمع کرنےکے لیے کرتےہیں ملازمت کرتے ہیں تو اس نیت سے نہیں کہ ہم تنخواہ لیتے ہیں تو اسکے عوض ہماری جو زمیدارئیاں ہیں وہ پورا کریں نہیں بلکہ وہاں بھی اپ دیکھو غریبوں کی حق کو مارنے میں لگے رہتے ہیں بغیر رشوت کے کام نہیں کریں گے
اب ان حالات میں اپ کیا امید رکھ سکتے ہو کہ اپ کسی پہ انگلی اٹھاسکھیں،جہاں تک بات اج کل مارکیٹ میں اپ دیکھو تو ہم ہی وہ لوگ ہیں جو قسعاب کے گھر جاکر انسے 500روپے دے کر گوشت کی خرید کرتے ہیں،تو انکو دوکان پہ جانے سےیا پھر فروخت کرنے سے کس نے روکا ان سرمایہ داروں نے جن کا زکر میں اس سے پہلے کر چکا ہوں۔
ان حالات کے چلتے ہم صرف دوسروں پہ انگلی اٹھاتے ہیں مگر اپنے اپ پہ نظر نہیں دوڑاتے کہ یہ سب کر کے بھی ہم اس اہم ترین ماہِ مقدس کے ماہ میں بھی کہیں نہ کہیں غریبوں کے راستے کا پتھر بنتے جا رہیے ہیں۔اور دوسری جانب ہم ہی لوگ ان غریبوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی دیکھاتے ہیں چند روپیے زکاۃٰ کے نام پہ یا صدقے کے نام پہ انکے ہاتھ میں دیے کر،یا پھر ایک اٹے کی گوتھی یا پھر دوسری چند ضروریات زندگی کی ایشیاء دے کر۔مگر اصل وجہ جو ہم انکے لیے بنتے جا رہیے ہیں اس کی طرف طوجہ نہیں جاتی ہے۔
اس سے بھی بڑی بات یہ کہ پھر ہم اپنی غلطیوں کا سارا سہرا ایڈنسٹریشن پہ ڈال دیتے ہیں۔اب ایڈمنسٹریشن نے تو کسی سے نہیں کہا کہ اپ گھر جاکر گوشت کی خریداری کریں۔
اپ دیکھو ہر تہوار پہ آفر دیے جاتے ہیں سامان کم قیمت پہ دستیاب کیا جاتا ہے وہ کیا کوئی اور کرتا ہے وہ بھی ہم ہی لوگ کرتے ہیں تو پھر زرا سوچو کہ پھر کیوں کر اسئ ماہِ مبارک میں قیمتیں ایتدال پہ نہیں رکھ پاتے مانا کہ لاک ڈون بھی ہے مال اتنی مقدار میں نہیں مل رہا ہے مگر پھر بھی اتنا زیادہ مہناگا بھی نہیں ہے کہ ہم لوگ گھروں سے خرید کرنا شروع کردیں اور دوسروں کے لیے مشکلات کا سبب اگر کہیں ہیں تو ہم لوگ خود ہیں اس پہ نظر دوڑانے کی اور اپنے اپ میں اصلح کرنے کی ضرورت ہے۔تو راستے خود بہ خود آسان ہو جایں گے۔
اللّٰہ بھی مدد انکی کرتا ہے جو اپنی مدد اپ کرنے کا جزبہ رکھتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میرے ایک غیر مسلم بھائی کو یہ سب دیکھ کر سوشل میڈیا میں لکھنا پڑھا کہ گوشت کی خرید و فروخت میں بیضابتگی ہو رہی ہے صرف اسلیے کہ اکل رمضان کے روزے چل رہیے ہیں مگر ہم جو رکھ رہیے ہیں ہمیں اسکا خیال تک نہیں اور نہ احساس ہے۔











Users Today : 50
Users Yesterday : 86