اس وقت پوری دنیا جہاں کرونا جیسی وبائی مرض کا شکار ہے وہیں ہندوستان بھی اس کی لپیٹ میں ہے اس وقت ہندوستان اس عالمی وبا سے بہت متاثر ہوا ہے مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر بھی اس مرض سے کے بدترین دور سے گزر رہا ہے جموں کشمیر کے تمام محکمہ جات گزشتہ سال اگست کے اوائل سے بے چینی کا شکار ہے ریاست کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد سب سے زیادہ اثر یہاں کے تعلیمی نظام پر پڑا ۔لاک ڈاون سیاسی شورش اور مواصلاتی بندشوں نے جموں کشمیر کے طلباء کو خوب متاثر کیا ہے اور جو تعلیم کا نا تلافی نقصان ہوا ہے شاید ہی اس کی بھرپائی ہوسکے ۔ اور چونکہ اب یہی اسکول وغیرہ کھلے تھے کئی کرونا نے دستک دے دیں اور ایک بار اسکول کالجز یونیورسٹیز ویرانی کی تصویر پیش کرنے لگے اور بہت سارے اسکول پھر سے قرنطینہ کے مراکز میں تبدیل ہو کر رہ گئے المختصر یہ کہ یہاں پر تعلیمی نظام پوری طرح سے اپنے ساخت کھو چکا ہے
پرآشوب حالات میں اُس وقت طلبہ برادری برہم نظر آئی جب یونیورسٹی نے یو جی کورسز کے دوئم اور چہارم سمسٹر کے طلباء کو جزوی طور پر جبکہ کہ ششم سمسٹر کو بغیر کوئی راحت دے امتحان لینے کا اعلان کیا اس نوٹیفکیشن کے آتے ہیں طلباء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے نظر آئے
جہاں جموں میں بچے اس امتحانات کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ رہے ہیں وہی پونچھ اور راجوری کے طلبہ بھی اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں حال ہی میں نیشنل سٹوڈنٹ یونین NSUI کے سرگرم کارکنان نے پریس کانفرنس کی اور جموں یونیورسٹی اور کلسٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے
اسی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے آج گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ اور سرنکوٹ کے طلباء نے الگ الگ پریس کانفرنس کی اور جموں یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ کو کلی طور پر راحت دی جائے اور ماس پرموشن کے تحت ان کو اگلی کلاس میں پروموٹ کیا جائے
طلباء کا کہنا تھا کہ آیا ایک طرف پورا ملک کرونا وبا سے لڑنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہیں دوسری طرف اگر آپ بی اے بی ایس سی انجینئرنگ اور لا کے طلبہ کے امتحانات منعقد کرنے کی بات کر رہے ہیں جہاں آپ امتخانات لے رہے ہیں وہاں پہلے ہی سے لوگوں کو کورنٹائن کیا ہوا ہے اور امتحانات کے دوران سماجی دوری کا پالن بھی نہیں ہو پائے گا تو یہ قدم کرونا وبا کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے اور اگر آن لائن موڈ میں امتحانات لیے جائیں تو بھی ناممکن ہے کیونکہ تمام طلبہ کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے اور اگر ہیں بھی تو انٹرنیٹ کی سست رفتاری آن لائن امتحانات کی آڑے آ جاتی ہے اور تیسری اہم بات جو طالبہ کی جانب سے کی گئی وہ یہ تھی کہ طلبہ کا نصاب تیس فیصد بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ پورا ملک لاک ڈاؤن ہو گیا تھا ۔بعد ازیں آن لائن کلاس کے نام پر محض ایک ڈرامہ رچایا گیا کیونکہ سست رفتار انٹرنیٹ کے ذریعہ آن لائن کلاسیز ممکن ہی نہیں تھی ان تمام تر باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کے تمام طلباء کو کشمیر یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی کانپور کی طرز پر اگلی کلاس میں پروموٹ کیا جائے جس سے طلبہ کے مستقبل پر کوئی اثر نہ پڑے طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر یونیورسٹی اپنے اس بات پر اڑی رہی تو طلبہ امتخنات کا بائیکاٹ کریں گے اور لاک ڈاؤن کے بعد سڑکوں کا رخ بھی کر سکتے ہیں اس لئے یونیورسٹی کو چاہیے کہ طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے











Users Today : 190
Users Yesterday : 622