فاروق انقلابی
ضلع نائب صدر جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی
مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے 4000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور چند دنوں میں مجرم کا پتہ لگا لیا۔وہاں کی وزیر اعظم نے اس پر تقریر کی اور اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
سیکولر جمہوریہ ہند یعنی ہمارے ملک ہِندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے اقلیتوں کو ہی ہمیشہ گرفتار کیا حالانکہ اکثریت کے رہنماؤں نے اپنی فرقہ وارانہ تقریروں سے سارا منظر بنایا۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب خاموش رہتے ہیں اور اپنے دفتر سے سارے معاملے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مجرم کو ضمانت ملنے کے بعد بنگلہ دیش کے کِسی بھی وزیر نے مُلزمان کو مالا سے سواگت نہیں کیا جیسا کہ میرے ملک ہندوستان میں کئی مقدمات کے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔
اس سے پہلے کہ آپ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر تشدد کرنے کے بارے میں کچھ کہتے ہیں، کم از کم کچھ شرم کریں اور اپنے آپ پر نظر ڈالیں کہ آپ اپنی اقلیتوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر 2014 کے بعد جب سے بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی۔
میں بنگلہ دیش کی عوام، وہاں کی پولیس اور ان کی حکومت کو اس معاملے پر سختی کرنے پر سلام کرتا ہوں۔ اقلیتیں کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ اکثریت کی انا کی تسکین کے لیے آپ ان پر کسی بھی طرح سے دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ کاش میرے ملک میں بھی حالات ایسے ہوتے۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کے میرے مُلک کے حالات ایسے نہیں ہو سکتے کیوں کے اگر ایسے حالات میرے مُلک کے ہو جائیں تو بہت ساری سیاسی دُکانیں بند ہو جائیں گی جو صرف ذات پات کے نام پر چلتی ہیں۔







Users Today : 80
Users Yesterday : 301
Users Last 7 days : 2148
Users Last 30 days : 5231
Users This Month : 1868
Users This Year : 5231
Total Users : 5232
Views Today : 107
Views Yesterday : 482
Views Last 7 days : 3433
Views Last 30 days : 8869
Views This Month : 2970
Views This Year : 8869
Total views : 8870
Who's Online : 1