جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
کوٹرنکہ، راجوری: سینئر پی ڈی پی رہنما اور سماجی کارکن محمد فاروق انقلابی نے زون کوٹرنکہ کے سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے باورچیوں کی گزشتہ چھ ماہ سے زیرِ التوا تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
فاروق انقلابی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک بات ہے کہ غریب باورچی سرکاری اسکولوں میں اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں، لیکن گزشتہ چھ ماہ سے انہیں ان کی محنت کی اجرت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین معمولی آمدنی پر اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور اتنے طویل عرصے تک تنخواہ کا انتظار کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کو پہلے ہی چیف ایجوکیشن آفیسر (CEO) راجوری کے ساتھ اٹھایا تھا اور انہیں یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ مسئلہ حل کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود ZEO کوٹرنکہ کے دفتر کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
فاروق انقلابی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر راجوری ضلع کے دیگر زونوں میں سرکاری اسکولوں کے باورچیوں کو تنخواہیں جاری کی جا چکی ہیں تو صرف زون کوٹرنکہ کے باورچیوں کی تنخواہوں میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی باقاعدہ اور وقت مقررہ کے اندر انکوائری کروائی جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ چھ ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کس وجہ سے ہوئی اور آیا اس میں کسی سطح پر غفلت یا دانستہ تاخیر تو نہیں ہوئی۔
فاروق انقلابی نے کہا، ’’یہ غریب باورچی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، لیکن چھ ماہ سے اپنی محنت کی اجرت کے منتظر ہیں۔ اگر دیگر زونوں میں ادائیگی ہو سکتی ہے تو زون کوٹرنکہ کے ساتھ یہ امتیازی تاخیر کیوں؟ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے CEO راجوری، ZEO کوٹرنکہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام زیرِ التوا تنخواہیں فوری طور پر جاری کی جائیں اور مزید تاخیر سے بچنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
فاروق انقلابی نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ باورچیوں کی تنخواہیں فوری طور پر جاری نہ کی گئیں تو وہ متاثرہ باورچیوں کے ساتھ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس مسئلے کو انتظامیہ اور عوام کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’’چھ ماہ کا انتظار بہت ہو چکا ہے، اب ان غریب کارکنوں کو مزید انتظار پر مجبور نہ کیا جائے۔ فوری طور پر تنخواہیں جاری کی جائیں اور تاخیر کی وجوہات کی انکوائری کی جائے۔‘‘











Users Today : 362
Users Yesterday : 250