بابائے غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے وائس چانسلر کی تقرری کے لئے تشکیل دی گئی سرچ کمیٹی پورے انتخابی عمل کا مذاق اڑانے اور یو جی سی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے اور نااہل اور داغدار امیدواروں کو انٹرویو میں کے لئے بلانے سخت تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ دو انتہائی سنگین بے ضابطگیوں میں ایک ایسے ہی امیدوار کا معاملہ بھی شامل ہے جو اس وقت سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں کنٹرولر امتحانات کے عہدے پر فائز ہے ، جس نے کبھی کسی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام نہیں دی ہیں اور صرف بی ایڈ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے کام کیا ہے ۔ یو جی سی کے اصولوں کے مطابق اور اشتہار کے مطابق امیدوار کے پاس دس سال بطور پروفیسر کا تجربہ ہونا لازمی تھا ۔ مزید یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک امیدوار سرچ کمیٹی کے ممبروں میں سے کسی ایک ممبر کا قریبی رشتہ دار بھی ہے۔
بی جی ایس بی یو سے تعلق رکھنے والے ایک اور امیدوار محمد اصغر غازی ، یونیورسٹی میں مالی بد عنوانیوں کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے معطل ہے.. یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے اور اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے کہ ایسے داغدار امیدوار کو جس کا سروس ریکارڈ مایوس کن ہے کو انٹرویو میں بلانے کی کیا مجبوری تھی؟
نیز سرچ کمیٹی نے چند اہم، نامور ماہرین تعلیم، با وقار اور تجربہ کار امیدواران کو نظر انداز کر کے کچھ داغدار اور نا اہل امیدواروں کو انٹرویو کے لئے کیوں بلایا؟
یہ تمام تر عوامل اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ سرچ کمیٹی غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے وائس چانسلر کی تقرری عمل میں لانے سے قاصر ہے
سرچ کمیٹی پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد آنریبل ایل جی جموں کشمیر منوج سنہا نے اس کمپنی کو التوا میں رکھ کر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے امور وائس چانسلر ماتا ویشنو دیوی کٹرا کو سونپ دیے ہیں
سرچ کمیٹی اب اس خدشے کے ساتھ کہ ان کے تجویز کردہ من پسند امیدوار کی تقرری کو لیفٹیننٹ گورنرجو کسی بھی طرح کی بدعنوانی برداشت نہیں کرتے اپنی منظوری نہیں دیں گے تو سرچ کمیٹی کے ارکان بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں ۔
اسی اثنا میں کشمیر یونیورسٹی کے جوائنٹ رجسٹرار نے اب سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کر رکھا ہے جو اس سے قبل بی جی ایس بی یونیورسٹی میں رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ مذکورہ جوائنٹ رجسٹرار سوشل میڈیا پرایسے تبصرہ کررہے ہیں گویا کہ وہی سرچ کمیٹی کے چیئرمین اور بی جی ایس بی یو کے وائس چانسلر کے انتخاب کے پورے انتخابی عمل ذمہ دار ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ موجودہ پینل سے ہی کسی کو وائس چانسلر بنایا جائے…











Users Today : 621
Users Yesterday : 386