حضرت مولانا محمد علی جوہر ایسی عظیم المرتب شخصیت کے مالک تھے جو انگلستان گول میز کانفرنس میں تقریر کرتے ہیں اگر تم ہندوستان کو آزاد نہیں کروگے تو میں یہاں ہی اپنی جان دے دوں گا۔ غلام ملک میں جانے کے بجائے ایک آزاد ملک میں مرنا پسند کروں گا۔ وہاں پر ہی 4جنوری ۱۹۳۱ کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں بیت المقدس میں دفنایا گیا۔
حضرت مولانا محمدعلی جوہر کی پیدائش ۱۵دسمبر ۱۸۷۸ کو رام پور میں ہوئی ابھی آپ دوسال کے ہی تھے کہ آپ کے والد عبدللہ علی خان رحلت کرگئے لیکن ان کی والدہ آبادی بانو نے ہمت سے کام لیتے ہوئے اپنے بچوں کی پڑھائی جاری رکھیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ میں چار سال اپنی تعلیم مکمل کی۔ واپس ہندوستان آکر ریاست بڑودہ میں ملازم ہوگئے لیکن ملک اور قوم کی خدمت کے جزبے سے متاثر ہوکر ملازمت ترک کی اور اردو میں اخبار ،، ہمدرد،، اور انگریزی میں،، کامریڈ،، نامی اخبار نکالنا شروع کر دیے ۔ یہ اخبار ملک کی آزادی کے خاطر بہت مقبول ہوئے اور جلد ہی محمدعلی پورے ملک میں مشہور ہوگئے۔ اس وقت ہمارے ملک پر انگریز حکومت کرتے تھے۔ مولانا نے اپنے اخباروں کے زریعے قوم کو بیدار کیا اور آزدی کے لیے جدوجہد کرنے کا جزبہ پیدا کیا۔
اس وقت گاندھی جی افریقہ میں انگریزوں کے ظلم و ستم کے مخالف آواز بلند کر رہے تھے۔ جب گاندھی جی افریقہ سے واپس ہندوستان آے تو انہوں نے دیکھا کہ مولانا محمد علی جوہر اور انکے بھائی شوکت علی انگریزوں کے خلاف آواز بلند کررہے تھے۔ ان دونوں بھائیوں اور گاندھی جی کا مقصد ایک تھا۔ لہزا ان لوگوں میں گہری دوستی ہوگئی۔ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے ترکوں کو شکست دے دی۔ انگریز چاہتے تھے کہ ترقی حکومت کے خلیفہ کو تخت سے اتار دیا جاے۔ جب کہ سارے مسلمان ترکی کے خلیفہ کو اپنا خلیفہ مانتے تھے۔ اور ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ اس لیےساری دنیا کے مسلمان انگریزوں کے خلاف تھے۔ یہاں ہندوستان میں بھی مولانا محمد علی جوہر نےاس معاملہ میں انگریزوں کی زبردست مخالفت کی پورے ملک میں تحریک چلائیں جسے خلافت تحریک کہتے تھے۔
گاندھی جی نے اس تحریک میں حمایت کی اور ہندوستانیوں سے کہا کہ وہ انگریزوں کا بائیکاٹ کریں۔ جب تحریک نے زور پکڑا تو انگریزوں نے گاندھی جی اور مولانا محمد علی جوہر کو گرفتار کرلیا۔
ملک کی آزادی کے لیے کئی بار مولانا جیل بھی گئے۔ ان کے اخبارات بند کردیے گئے اور پریس ضبط کر دیا گیا۔ لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں آپ کس وقت جیل میں ہوتے تھے اور کس وقت جیل سے باہر اس کا اندازہ نہیں تھا۔ آپ کا جیل کاسفر جاری رہا۔
مولانا محمد علی جوہر کو اردو اور انگیزی پر زبردست کمانڈ تھی۔ اتنی معیاری انگریزی لکھتے اور بولتے تھے کہ انگریز بھی حیران ہو جاتے تھے۔ اور انگریز بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔ مولانا ایک بلند پایہ کے ادیب ، مقرر، مصنف، صحافی، عالم وشاعر تھے۔ مولانا صاحب شاعری میں جوہر اپنا تخلص لکھا کرتے تھے۔
جامعہ میلیا اسلامیہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لانے کے لیے مولانا صاحب کا اہم کردار رہا ہے۔ انہیں یونیورسٹی کا سربراہ مقرر کرنے کے لیے بہت کوششیں کی گئی۔ لیکن مولانا صاحب نے اپنی سیاسی مصروفیات کی بنا پر اور زیادہ تر کبھی جیل کے اندر باہر کےسلسلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ عہدہ قبول نہ کیا اور 22نومبر 1920کو فاونڈیشن کمیٹی کے اجلاس میں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر کا عہدہ دینے کے لیے تجویز پیش کردی جس تجویز کو فاونڈیشن کمیٹی نے قبول کیا۔ اس کمیٹی میں مہاتما گاندھی بھی شامل تھے۔ اور گاندھی جی نے حضرت علامہ سر محمد اقبال کو خط لکھ کر یونیورسٹی کو سنبھالنے کی گزرش کی۔ گاندھی جی نے لکھا نیشنل مسلم یونیورسٹی آپ کو آواز دے رہی ہے یہ یونیورسٹی آپ کی صلاحیتوں کی منتظر ہے۔ اور جس میں علی بردرس، حکیم اجمل خان صاحب آپ کے نام کو تجویز کرتے ہیں۔ لہزا علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کچھ وجوہات و مصروفیات کی بنا پر اس عہدہ کو سنبھالنے اس افسوس کے ساتھ جواب لکھا کہ جن حضرات نے میرا انتخاب کیا ہے ان کا میرے دل میں بےحد احترام ہے اور انکار کردیا۔ اس طرح حکیم اجمل خان صاحب کو جامع کا پہلا چانسلر مقرر کیاگیا۔
مولانا وطن کی آزادی میں ۱۹۳۰ میں انگلستان گئے۔ اور وہاں گول میز کانفرنس میں زوردار تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا
میں یہاں ہندوستان کو آزاد کرانے آیا ہوں۔
ہندوستان کابچہ بچہ میرے ساتھ ہے۔
ہندوستانیوں کو ازدی ملنی چاہیے۔
اگر تم نے ازادی نہیں دی تو میں یہاں اپنی جان دے دوں گا۔
کیونکہ کہ میں غلام ملک میں جانے کے بجاے ایک آزاد ملک میں مرنا پسند کروں گا۔
اتفاق دیکھیے۔۔۔ کہ ان کی یہ آرزو، اللہ نے پوری کردی اور آپ 53سال کی عمر میں اسی دورے کے دوران 4جنوری 1931کو کو انگلستان میں ہی فوت ہوگئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں بیت المقدس میں دفن کردیا گیا۔ یہ تھا جزبہ ہندوستان کے مسلمانوں کا وطن کی ازدی اور محبت ملک کی خاطر ہنستے ہنستے جان کی بازی لگا جاتے تھے ۔۔ اس جزبہ کو دیکھتے ہوے انگریزوں کی ہمت دم توڑ گئی۔ اور 16سال بعد آزادی کی صبح کا سورج طلوع ہوا۔
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں علی برادرس کا نام صف اول کے رہنماوں میں درج ہے۔۔۔۔ تحریر لیاقت علی چودھری۔ 9419170548++7051070548











Users Today : 599
Users Yesterday : 386