GNS ONLINE NEWS PORTAL

کرونا کا قہر اور محکمہ خوراک و امور صارفین کا بایو میٹرک

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

ہم سب لوگ بخوبی اس چیز سے واقف ہیں کہ غالباً ایک سال سے پوری دنیا میں عالمی وبا کرونا کا قہر پھیلا ہوا ہے کرونا روز بروز ہمارے عزیز و اقارب کو چھینتا جا رہا ہے وہیں مرکزی سرکار نے ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم شروع کی ہوئی ہے کرونا مہاماری کو دیکھتے ہوئے ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال بھی ہانچ مہینے عوام کو مفت راشن دیا اور امسال بھی می اور جون مہینے کا مفت راشن دیا گیا ہے لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب عالمی وبا کے چلتے اسکول کالج یونیورسٹی وغیرہ سب بند ہیں جو کہ خوش آئند قدم ہے کیونکہ اگر وبا سے بچنا ہے تو سماجی دوری بناے رکھنا بہت لازمی ہے گزشتہ روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اور حکم جاری کیا کہ دفتروں میں بھی پچاس فیصد ملازمین کام کریں گے جو شفٹ پر کام چلائیں جس میں ان کے اعلیٰ حکام ایک ڈیوٹی روسٹر تیار کریں گے اور وہ ملازمین جو ڈیوٹی پر جائیں گے انکو باقاعدہ کرفیو پاس ملے گا جہاں سرکار عوام کیلئے اتنی سہولیات میسر کروا رہی ہے وہیں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ملازمین و ڈیلران کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی کی جا رہے پہلے ڈیلر آتھنٹیکیشن ہوتا تھا جس سے ڈیلران حضرات و محکمہ کے ملازمین اور عوام کو کرونا سے بچایا جا سکتا تھا لیکن اب سرکار و انتظامیہ کا دباؤ ہیکہ عوام کو راشن بایومیٹرک کے بعد ہی دیا جاے اس فیصلے سے عوام کے اندر غم وغصہ پایا جا رہا ہے کہ خدانخواستہ اگر کوئی ایک بھی پازیٹو ہوا تو پورے علاقہ اس قہر میں مبتلا ہو جائے گا جو ناقابل برداشت ہے اور اس قہر کو کنٹرول کرنا پھر سرکار کے دائرہ اختیار میں نہیں رہے گا اس کے علاوہ گجر بکروال جو خانہ بدوش لوگ ہیں انکا ڈھوکوں میں جانے کا وقت آ گیا ہے وہ لوگ جب اپنے مال مویشیوں کو لے کر ڈھوک بیک کی طرف رجوع جر چکے ہیں پہلے ان لوگوں کا راشن چھ چھ مہینے کا اکٹھا دیا جاتا تھا لیکن اب ان کی بدقسمتی یہ ہیکہ وہ اپنا راشن نہیں لے پائیں گے کیونکہ راشن پی او ایس کے زریعے ہی دیا جائے گا اور سننے کے اندر یہاں تک آیا ہیکہ اگر کسی شخص نے پی او ایس یعنی بایومیٹرک سے اپنا راشن نہیں لیا تو اس کا راشن کارڈ غیر فعال کر دیا جاے گا تو جو لوگ چھ مہینے ڈھوکوں میں رہیں گے اپنے مال مویشیوں اور اہل و وعیال کے ساتھ انکا کیا ہوگا یعنی ہم یہ مان لیں کے وہ اپنا راشن کارڈ کھو بیٹھیں گے اس سوال کے جواب کا منتظر رہوں گا وہیں جب راقم نے عوام اور ڈیلران سے پی او ایس یعنی بایومیٹرک کے سلسلے میں گفت وشنید کی تو عوام نے پی او ایس کے زریعے سے راشن لینے کیلئے صاف انکار کیا کہ ہم اس مہاماری میں اپنی جان جوکھم میں کیوں ڈالیں جب کہ ہمیں سرکار او محکمہ صحت کی طرف سے بار بار بتایا گیا ہیکہ سماجی دوری رکھو ایک دوسری کو چھونے سے یہ بیماری پھیلتی ہے گو پھر ایک ہی پی او ایس ڈیوائس کو جب سینکڑوں لوگ چھوے گے تو کیا گارنٹی ہیکہ وہاں سے کرونا کا پھیلاو نہیں ہو گا لہزا راقم اخبار کے زریعے سے سیکرٹری محکمہ امور و صارفین اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے گزارش کرتا ہیکہ جب تک کرونا مہاماری ہے تب تک ڈیلر تصدیق کو ہی بحال کیا جائے اور عوام کو سماجی دوری کے رکھ کر راشن تقسیم کیا جائے باقی خانہ بدوش کنبوں کیلئے بھی کوئی پالیسی مرتب کی جاے کہ وہ اپنا چھ مہینے کا راشن کہاں سے حاصل کریں خاص بات ایک یہ بھی ہیکہ کافی سارے ڈیلران کی پی او ایس ڈیوائس آف لائن ہیں محکمہ میں کچھ لوگ آن لائن راشن دیتے ہیں اور کچھ ڈیلر آف لائن لہزا یا تو تمام مشین آن لائن کی جائے یا ساری مشینیں آف لائن کی جائیں تاکہ تمام لوگ یکساں رہیں ایک ضروری بات یہاں بتلاتا چلوں کہ ہمارے وزیر اعظم نے گزشتہ سال کی طرح امسال بھی دو مہینے کا مفت راشن دینے کیلئے حکم جاری کیا ہے جو خوش آئند بات ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہیکہ وہ مفت راشن بھی پی او ایس ڈیوائس یعنی مایومیٹرک کے زریعے ہی دینی ہے جو بہت دکھ بھری بات ہے کیسے عوام اور ڈیلران کو مہاماری میں دھکیلا جا رہا ہے لہزا عوام اور ڈیلران کو اس وبا میں دھکیلنے کے بجائے انکی قیمتی جانیں بچانے کا کام کیا جائے اور ڈیلر تصدیق کو ہی دوبارہ سے بحال کیا جاے جب تک کرونا وبا کا قہر جاری ہے۔

راقم: وجاید چوہدری
فون نمبر :7006056756

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 0 7 6
Users Today : 609
Users Yesterday : 386