GNS ONLINE NEWS PORTAL

دوسری شادیاں کرنے سے کتنی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں؟ ایسے حالات میں ہے شریعت کی اجازت جس سے شخص کسی کی زندگی کا سہارہ بن سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

کچھ ایسے معمالات بھی رونما ہو جاتے ہیں جو اپنی نوعیت کے پہلی بار جن کو سن کر کچھ دیر کے لیے سماج و عقل قبول نہیں کرتی ہے۔ سماج کے اندر پہلے سے بہت برائیاں موجود ہیں جن میں خاص طورپر عورتوں کے ساتھ زیادتی، عصمت دری، مارپیٹ، طلاق، و خودکشی۔
رواں دور میں چھپے ہوئے شادیوں کے معاملات منظرعام پر دیکھے جارہے ہیں۔ جس میں بیوی کو معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ اس کے شوہر کی دوسری شادی کو کئی سال گزر جاتے ہیں اور بچے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ پہلے موجود بچوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ ان کے والد صاحب کی شادی ہورہی ہے یا ان کے کہیں دوسری جگہ بھی اولاد ہے۔ اکثر پوچھنے پر بڑے فخر سے جواب ملتا ہے شادی کرنا سنت ہے۔ کیا سنت رسولﷺ کو اپنانے کا یہی طریقہ ہے بیوی و اس کی اولاد کو دھوکے میں رکھ کر شادی کرلینا۔ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے دھوکے باز کو بڑا گناہ گار ہونے کا حکم فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے پہلی شادی چالیس سال کی بیوہ سے فرمائی دوسری شادی ان کے وصال کے بعد فرمائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شادی اللہ کی طرف سے انتخاب تھا۔ اللہ کے رسولﷺکےوصال کے بعد تمام صحابہ کرام کسی بھی علمی معاملات میں مشورے کے لیے حضرت عائشہ صدیقہرضیاللہ تعالیٰ عنہا سے رجوع کرتے تھے۔ جنگ بدر اور جنگ عہد میں بہت خواتین کے شوہر شہید ہوگئے تھے ان خواتین اور ان بچوں کی ایک بڑی تعداد باقی رہ گئی تھی قرآن کریم کی سورہ نساء کی ابتدائی آیات میں ان کی اس مشکل کو حل کرنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺنے ایک مثال قائم کی اور آپ ﷺ نے دو بیوہ خواتین زینب بنت حزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح فرمایا
۔

آپ کی اپنی بیوی کو ہی معلوم نہیں اور آپ کی دوسری شادی ہوجاتی ہے آپ کے بچوں کو ہی معلوم نہیں اور آپ کا نکاح ہوجاتا ہے آپ کے رشتے داروں کو ہی خبر نہیں اور بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں جہاں بیوہ سے شادی کے بجاے کسی کو بیوہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے صرف بیوی کےساتھ ہی دھوکا نہیں بلکے پورے سماج کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اور سماج کے اندر یہ ایک نئی بگاڑ ہے۔ جس کا اثر ایک بیوی کو زہنی طور سماجی طور بری طرح متاثر کرتاہے ایسے معاملات ان معصوم بچوں کے مستقبل پر اور ان کی زہن پر گہرے نقوش چھوڑجاتے ہیں۔ جس کی برپائی نہایت ہی مشکل ہے۔ کیوں کہ وہ بچے جن کے لیے سارا جہاں اپنے ماں اور باپ ہیں وہ بیٹی جس کی جان اسکے والد ہیں وہ بیٹا جس کا سارا جہاں اپنا والد ہے جب انہیں یہ خبر ملتی ہے ان معصوم بچوں پر پہاڑ ٹوٹ جاتا ہے اور جب اپنی ماں کی حالت زار کودیکھتے ہیں۔ ان کے تو سارے خواب چکناچور ہوجاتے ہیں یہ تو کچھ دیر کے لیے یقین نہیں کرسکتے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ والد بھی دھوکہ دے سکتا ہے تو انہیں دنیا کی ہر سچائی پر سے یقین اُٹھ جاتا ہے اور ایسی عمر میں یہ زہنی مریض بن جاتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یا تو یہ کسمپرسی اختیار کرلیتے ہیں یا پھر ایسا انقلاب اور طوفان ان کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ وہ باپ جس کے دیکھے بنا یہ صبح آنکھیں نہیں کھولتے تھے جس کے بنا کبھی کھانا نہیں کھاتے تھے۔ اس کے سائے سے بھی نفرت ہوجاتی ہے اور کبھی زندگی میں ان کا سامنا نہ ہو یہ ہمیشہ انکی یہی دعا ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ باپ کے بنا اپنا نام خود پیدا کرنے کی ایسی جی توڑ کوشش کرتے ہیں کہ یہ پورے علاقہ کے لیے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔
آج سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے معاملات کیوں پیدا ہورہے ہیں اور بہت سے زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔ کیا سنت رسولﷺ کو اپنانے کے لیے یہ کر رہا ہے یا پیسے کے زور پر یا مال کی دوڑ میں یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ کیا اس کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان یاد نہیں تم نکاح کرو تمہاری رزق کشادہ کر دیا جاے گا آج اگر یہ پیسے کے زور پر دوسری بیوی خرید رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سب پیسہ مال دولت اسے میسر ہوا اس میں بیوی کا کتنا رول ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تمہارے رزق میں اضافہ ہو جاے گا جب تم نکاح کرو گے۔ اپنی پہلی حیثیت بھی آپ دیکھیں آپ کی کیا حالت تھی کون جانتا تھا تمہیں آج اللہ نے تمہیں یہ سب کچھ دیا ہے بیوی کی بدولت اور اسے معلوم نہیں یہ جو تمہارے لیے سوٹ بھی دس بار سوچ کر خریدتی ہے اور اس کی اجازت کے بنا آپ دوسری بیوی سے شادی کر لیتے ہو ۔ جس سے ملاقاتیں کرنے کے لیے سالوں سے جوٹھ بھولتے ہوے وقت گزر جاتا ہے آپ کو معلوم ہے جب آپ شادی کے لیے گئے ہوں گے یہ بتا کر کہ میں فلاں علاقہ یا ریاست میں جارہا ہوں یا فلاں ملک میں جارہا ہوں اور آپ کی بیوی اس سفر کے لیے کے اور سلامتی کےساتھ واپسی کے لیے سجدے میں رہی ہو گی آپ کے لیے نوافل پڑھرہی ہو گی آپ کی خریت سے گھر واپسی کی دعائیں اللہ سے مانگ رہی ہو گی۔ اور آپ عیش کے ساتھ دوسری بیوی کےساتھ گھوم رہے ہیں۔ کچھ بیرون ملک چلے جاتے ہیں مال دولت کی لالچ میں تمام عمر واپس نہیں آتے بیوی ادھر ہی تمام زندگی انتظار میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔ کچھ سرمایہ کی بنا پر دوسری شادی کیے ہوے ہیں بغیر کسی کو اطلاع کے ایسے ایک نہیں بلکہ ہزاروں معاملات ہیں جن پر آج بھی پردہ پڑا ہوا ہے۔
شریعت کن مجبوریوں اور حالات میں مزید شادی کی جازت دی ہے ناکہ شریعت کو ڈھال بنا کر بہت زندگیوں کو برباد کر دیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے اصل قصوروار کون ہے چند باتیں رکھنے کے ضرورت ہے۔ کیا جو عورت شادی کرنے جارہی ہے اس کا قصور ہے اس شوہر کا ہے یاسماج کا ہے۔ کیا دوسری شادی کرنے والی عورت یہ نہیں جانتی کہ اگر یہ اس بیوی کو دھوکہ دے سکتا ہے جس کے ساتھ پندرھ سے بیس سال گزارے ہیں تو مجھے وفا کہاں کی۔ کیا سماج کی مجرمانہ خاموشی ایسی غیرسماجی رسوم کو فروغ دے رہی ہے۔ ایسے مردوں کو بھی سوچنا چاہیےکہ جس سے تم شادی کر رہے ہو اسے یہ معلوم ہے کہ تم بنا کسی عزر کے پہلی سے اگر وفا نہیں کر پائے تو مجھ سے بھی نہیں ہوسکتی اس کا رشتہ تمہارے ساتھ بہت محدود ہی رہے گا۔ اور پہلی بیوی کے ساتھ تمہارا دھوکا زندگی بھر تمہیں اس کی نظروں میں گراےرکھے گا۔ دونوں میں سے ایک بھی تم پر اعتماد نہیں کرے گی۔ رہا بچوں کا سوال ہمارے سماج میں پیار کی بھی انتہا نہیں ہوتی اور نفرت کی شدت بھی کم نہیں جس عمر میں تم ان بچوں کو چھوڑ کر جارہے ہو کبھی مڑکر یہ تمہیں عزت و امید کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔
قصہ مختصر ہے کہ ایسے معاملات میں جو اشخاص الجھتے جارہے ہیں۔ جب یی دیکھا جاے کہ نہ تو کسی بیوہ کا سہارا بن رہے ہو نہ کسی کے بچوں کو مشکل میں کام آنے کے لیے شادی کر رہے ہو اور نہ ہی اولاد کی ضرورت سے شادی کیے جارہے ہو تو ہر کسی کا آپ سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے سماج کی نظروں میں بھی گرجاتے ہو برادری میں بھی قدر نہیں رہتی کسی بھی بیوی یا بچے کے دل میں تمہارے لیے مقام نہیں ہوتا ہے۔ ایسے معاملات کو رونما ہونے سے قبل روک لگانی چاہیے جس سے کسی بھی جان کو زہنی، جسمانی یا سماجی اذیت پہنچے۔ سنت رسول ﷺ پر ہماری زندگی کا ایک ایک خون کا قطرہ بھی قربان لیکن شریعت کی آڑ میں ایسے بگاڑ کو باریکی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شکریہ
تحریر لیاقت علی چودھری 9419170548

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 0 7 6
Users Today : 609
Users Yesterday : 386