GNS ONLINE NEWS PORTAL

عالمی یوم بنات و جنسی تشدد کا عروج

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

اکتوبر11آج کے دن بین الاقوامی سطع پر بچیوں کا دن منایا جاتا ہے۔ دن منانے کا مطلب بچیوں کی بقاء ان کے وجود کو سمجھنے کے لیے چند لمہے نکالے جائیں۔ اور ان کی حالات زندگی کا محاسبہ کیا جاے کس دور سے گزر رہی ہیں؟ کیا ضروریات زندگی ہیں؟ کتنی ترقی پزیر ہیں کتنی خوشخالی ہیں ؟ سماج میں کیا مقام ہے؟ سماج کس نظر سے دیکھتا ہے؟ سماج میں کتنا کردار ہے ان کے وجود کا؟ ملکی و قومی سطع پر ان کے جوہر و کمالات کیا ہیں؟
زندوں کے لیے یوم محاسبہ ہے آج کا دن بچیوں کے لیے جو تشدد کی وجہ سے اخبارات کی سرخیاں اور ٹیلیویژن کی رونق بنی ہیں۔ ان کے لیے بھی جو ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوے ہیں۔ ان کے لیے بھی جواعلی منصب پر فائز ہیں۔ ان کے لیے بھی جو کھانے کی محتاج ہیں۔ انکے لیے بھی جو سڑکوں پر بھیک مانگ کر گزارا کر رہی ہیں۔ ان کے لیے بھی جو کھلے آسمان کے نیچے بھوک کی شدت میں سو جاتی ہیں۔ ان کے لیے بھی جو مزدوری کا پیشہ اخیار کیے ہوے ہیں۔ ان کے لیے بھی جو اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ انکے لیے بھی جو اپنے گھروں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ان کے لیے بھی جو دوسروں کے گھروں میں اپنا بچپن بیچ کر اپنے ماں باپ کے کھانے کا بندوبست کر رہی ہیں۔ ان کا بھی جو دوسروں کے گھروں میں برتن صاف کر کے اپنے ہم عمر بچوں کی گندگی صاف کر کے انہیں اسکول بھیجتی ہیں اور خود ان کے نوکرانی کی مانند تمام کام سرانجام دے رہی ہیں۔
ہر دن نہ سہی ہر لمہ نہ سہی 365دنوں میں ایک ہی بار ہر شخص اپنی ان بچیوں کا محاسبہ کر لے جن کے لیے ہمارے حضورﷺ نے ایک عظیم مقام و مرتبہ بیان فرمایا تھا۔ جن کی عظمت کی بلندیوں کا تزکرہ ہر منبر و کتب حدیث میں پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے جنت کا مقام انکے قدموں میں رکھا ہے۔ اور ان کی ولادت پر اس گھر و الدین پر مبارک بھیجی ہے۔ آج کس دور سے گزر رہی ہیں ہماری صنف نازک؟ کتنی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ان کی تعلیمات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کیا بیٹیاں بیٹوں کے برابر تعلیمی زیور سے آرستہ کی جا رہی ہیں۔ آج ان کے بچپن کو چھینا جا رہا ہے۔یہ لوگوں کے گھروں میں قیدی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ یہ بچیاں جنسی تشدد کے شکار ہو کر دماغی توازن کھو رہی ہیں اور زندہ لاش بن رہی ہیں۔ انہیں زہنی ازییت پہنچائی جا رہی ہے جب انکے ساتھ برابری کا سلوک نہیں ہوتا ہے۔ ان کا معصوم زہن غلامی کی زنجیروں میں اس قدر جکڑ دیا جاتا ہے۔ کہ یہ کتنی بھی ازیت برداشت کر لیتی ہیں۔ لیکن منہ سے کبھی آواز نہیں نکالتی ہیں۔ والدین کی عدم توجہ ہے انتظامیہ کی بے رخی ہے حکومت کی ناانصافی ہے۔ سماج کا ظالمانہ رویعہ ہے کہ جدھر دیکھو ان کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ دو سال کی بچیوں کو بھی جنسی تشدد کے شکار بنانے والے معاملے سامنے آے ہیں۔ ان کو سب سے پہلے تو دنیا میں آنے ہی نہیں دیا جاتا ہے اس کے بعد سماج میں اس قدر وحشی درندے پیدا ہو گے ہیں چاہے ان کی عمر پچاس سال کے پار ہے لیکن ان کی بری نظر پانچ سال کی بچی پر ہے۔ کتنی آصفیہ جو گھروں میں ہی دم توڑ دیتی ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کتنی بچیاں جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور ایک دن ان کی لاش والدین کو اٹھانی پڑتی ہے ایسے کتنے معمالات ہمارے علاقہ میں رونماں ہو چکے ہیں۔
لہزا ایسے باتیں کرنے سے تحریریں لکھنے سے سماج میں پیدا گندے عناصر، کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ ہر شخص کو عہد کرنا ہو گا کہ بچیوں کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ والدین اگر کہیں زیادتی کرتے ہیں تو وہاں کے لوگوں کو سامنےآنا چاہیے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے ۔ ایک اہم بات جس کا ہمیں فیصلہ لینا بہت ضروری ہے جو معصوم بچیاں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ کہیں بھی ان کےساتھ انصاف نہیں ہے چاہے کوئی منتری ہے یا سنتری ہر جگہ ان بچیوں کو تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ حیوانیت نما سلوک کیے جا رہے ہیں۔ انہیں اس گھر کے ہر فرد چاہے باپ ہو یا بیٹے سب کی گندی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں ان کے جنسی تشدد پر خاموشی اختیار رکھنی پڑتی ہے کیوں کہ غریب والدین نے ان کو چند سکوں میں بیچا ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو آزاد کروانا وقت کی پکار ہے۔ سماج میں اس وقت سب سے بڑا گناہ اور ان گھروں میں جہاں بچیاں نوکرانی بنی ہوئی ہیں ان کے ساتھ ہورہا ہے ۔ کم سے کم نابالغ بچیوں کو ان بڑے گھروں سے آزادی دلائی جاے۔ سماج کا یہ اولین فریضہ ہے آج وہ وقت نہیں جہاں کنیزوں کی عزت عظمت کی بقاء و رہنمائی اس گھر کی ماندہ بچیوں کے برابر ہوتی تھی۔
آج یوم بچیاں کے دن پر بھی اخبار میں چھپی خبر کہ راجوری کی ایک پانچ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جو اس وقت راجوری کے شفاخانہ میں زیرعلاج ہے۔ سماج میں کب بیداری پیدا ہو گی کب اسیے واقعات پر عبرتناک سزا دی جاے گی۔ تاکہ سماج کے لیے یہ سزا ایک نمونہ کے طور پر بن جاے اور ایسے درندے صفت اشخاص کو ایسے جرائم کرنے سے خوف پیدا ہو۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ سماج میں بیٹھے زمہ دار انصاف کا دامن کو لبیک کہیں اور ایسے گناہ کے خلاف اپنا مجرمانہ خاموشی کو توڑیں۔ ✒ لیاقت علی چودھری 9419170548

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 1 8 9
Users Today : 100
Users Yesterday : 622