تحریر عرفان پاشا…
متحدہ ریاست جموں و کشمیر کے عظیم بانی اور ریاست کی واحدانیت کو ہمیشہ قائم رکھنے والے شری مہاراجہ ہری سنگھ کا آج جنم دن ہے ، شری مہاراجہ ہری سنگھ اب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے جنم دن پر میں انکی اعلی ظرفی کو، انصاف پسندی کو اور انسانیت کے اعلی اقدار کو سلام پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔!
انکی خوبیاں کیا تھی اور انہوں نے ریاست میں کیا اصلاحات عمل میں لائی تھی مختصراً اس تحریر میں جانئیے ۔۔۔۔!
مہاراجہ ہری سنگھ نے 1928 میں ہائیکورٹ آف جموں و کشمیر کا قانون بنایا جس کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کے باشندگان کے تمام سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی اور ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کا قیام عمل میں لا کر ان عدالتوں کو رِٹ پٹیشن کے اجراء کا اختیار دیا ۔ حتیٰ کہ عوام کو سرکار کے خلاف بھی رٹ پٹیشن کا حق دیا گیا ….!
جولائی 1931 میں سرینگر میں پولیس نے مشتعل مظاہرین پر گولی چلائی جس سے متعدد شہری ہلاک ہو گئے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اس واقعے پر سوموٹو ایکشن لیا اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیئے انگریز افسر کی قیادت میں ایک کمیشن بنایا جسے تاریخ میں گیلینسی کمیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، مہاراجہ نے اس کمیشن کی سفارشات پر دو ماہ کے قلیل عرصے میں عملدرامد کیا اور ذمہ دار پولیس افسروں کو تحت ضابطہ قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا ۔ قارئین کرام اب خود تجزیہ کر لیں کہ آج کے جمہوری اور عوامی دور میں کیا اس قسم کا انصاف اور ایسے انتظامی اقدامات ممکن ہیں؟ بہت سے قارئین کرام اس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ 1931 کی اس تحریک کے لیڈر مولوی عبدالرحیم کو 1934 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے جج تعینات کیا ۔ مولوی عبدالرحیم کی یہ تعیناتی مہاراجہ ہری سنگھ کے عدل، میرٹ کی پاسداری اور سیاسی بغض و نفرت سے پاک انتظامی قابلیت کا انمٹ ثبوت ہے ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے 1934 میں ریاست کے اندر پارلیمانی سیاست کو متعارف کیا اور ریاستی پارلیمنٹ پرجہا سبھا کے انتخابات منعقد کیئے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے مرزا افضل بیگ جیسے قانونی ماہرین کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو برِصغیر کا پہلا حکمران ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس نے ریاست کو ایک آزاد آئین عطا کیا جس کی بدولت ریاست کے اندر آزاد عدلیہ اور منتخب سیاسی نمائندوں اور ریاستی اسمبلی پرجہا سبھا کا قیام عمل میں آیا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے پہلگام، ڈچیگام اور گلمرگ جیسے سیاحتی مراکز تعمیر کر کے ریاست جموں و کشمیر کو عالمی سیاحتی نقشے پر روشناس کرایا ۔
جموں و کشمیر کی 86% آبادی مسلمان تھی مگر
مہاراجہ کے زمانے میں ریاست کے اندر کہیں بھی مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے دور میں اس امر کو یقینی بنایا کہ سیاسی مخالفین کو بھرپور سہولیات اور آزادی فراہم کی جائے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں (بلکہ 101 سالہ ڈوگرہ دور میں) سرکاری تحویل میں کسی کی ہلاکت کا ایک واقعہ بھی وقوع پزیر نہیں ہوا ۔مہاراجہ ہری سنگھ نے اس امر کو یقینی بنایا کہ سیاسی مخالفین ریاستی مشینری اور پولیس کے ہاتھوں کسی قسم کی زور زبردستی کا شکار نہ ہوں ۔
جب 1947 میں پاکستان اور بھارت دنیا کے نقشے پر ابھرے تو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کو بھوٹان، سری لنکا، برما اور نیپال کی طرز پر ایک آزاد و خودمختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے علاوہ ریاست کے تمام سرکردہ سیاسی اور مذہبی قائدین ریاست کو بھارت یا پاکستان میں ضم کرنے کے لیئے سرگرمِ عمل تھے ۔ یوں آزاد و خودمختار ریاست جموں و کشمیر کے نظریئے کا خالق مہاراجہ ہری سنگھ ہے
پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناح اور دیگر پاکستانی قائدین اس امید میں تھے کہ ریاست کے عوام کی غالب مسلمان اکثریت کے باعث ریاست کو پاکستان میں شامل کر دیا جائے گا مگر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے اس توقع کے برعکس ریاست کو آزاد و خودمختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا تو 22 اکتوبر 1947 کی رات کو پاکستان نے اپنے تابع ریاستی سیاسی رہنماوں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے مذہب کی آڑ لے کر قبائلی جتھوں اور باقاعدہ فوج کے ذریعے ریاست پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زیادہ معصوم اور نہتے ریاستی شہری قتل ہوئے، ہزاروں عورتوں کو اغوا کر کے پنجاب اور سرحد میں لے جایا گیا اور ہزاروں عورتوں کے ساتھ جبری نکاح کر کے انہیں زبردستی مسلمان بنا دیا گیا ۔ بچوں کے سامنے والدین کو اور ماں باپ کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو کاٹا گیا ۔ بہنوں کے سامنے بھائیوں کو قتل کیا گیا اور بھائیوں کے سامنے بہنوں کی عزتوں کو تاراج کیا گیا ۔ یہ سب ریاست کو ہری سنگھ کے نظامِ حکومت اور ڈوگرہ حکمرانوں سے آزادی دلانے کے نام پر ہوا ۔
ہماری نئی نسل کو تاریخ کشمیر سے دور رکھا گیا انہیں مطالعہ پاکستان پڑھا کر سُدھ بُدھ بنا گیا انہیں بتایا گیا کے مہاراجہ ظلم تھا لیکن تاریخ کریدیں تو حقائق اسکے برعکس ہیں مہاراجہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنیوالے الحاق نواز اور عہدوں کی خاطر بکنے والے ضمیر فروش وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دھرتی کو بیچ کر اپنا اور اپنی اولادوں کا اُلو سیدھا کیا ۔۔۔۔!











Users Today : 98
Users Yesterday : 622