مینڈھر//علاقائی زبانوں کو نظر انداز کر کے حکومت نے عوامی جذبات مجروح کئے ہیں۔پہاڑی،گوجری، و پنجابی زبانوں کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کر کے سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ ان باتوں کا اظہارمینڈھرڈویلپمنٹ فورم کے صدر تنویر اقبال قریشی نے کیا کہ مرکزی کابینہ کی طرف سے سرکاری بل 2020کے مسودہ قانون میں اردو سمیت پانچ زبانوں یعنی ارد و،انگریزی،کشمیری،ہندی اور ڈوگری کو شامل کیا گیاہے لیکن بدقسمتی سے ہر دور میں پہاڑیوں کے ساتھ ظلم وستم اور ناانصافیاں ہوتی رہی لیکن اس بار یہ امید تھی کہ پہاڑی زبان کو بھی سرکاری زبان آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا جائے گا لیکن اس بار بھی ایسا نہ ہوا لیکن پہاڑی زبان جوکہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ برصغیر کی عظیم زبانوں میں سے ایک ہے اس زبان کو سرکاری زبانوں کی فہرست سے باہر رکھنا سمجھ سے بالا تر ہے قریشی نے کہا کہ کسی بھی قوم کیلئے مادری زبان اس کی شناخت ہوتی ہے اور اس کے تحفظ کیلئے تمام پہاڑی عوام کو آگے آنا چاہیئے قریشی نے کہا کہ پہاڑی زبان جموں وکشمیر کے علاوہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں بولی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ بھا جپاکا چہرہ پہاڑی کو نظر انداز کرنے سے بے نقاب ہو چکا ہے۔سرکار کی جانب سے ایک تجویز پاس کر کے کشمیری،ڈوگری،انگریزی،اردوو ہندی کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں کا درجہ دیے جانے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے تنویر نے مزیدکہا ہے کہ حکومت نے گوجری پہاڑی و پنجابی زبانوں کے ساتھ ہمیشہ تعصب روا رکھا اور ہمیشہ ہی ان زبانوں کا و زبان سے منسلک لوگوں کا استحصال کیا ہے۔قریشی نے کہا کہ مقامی زبانوں جیسے کشمیری ڈوگری کو سرکاری زبانوں کا درجہ دیا جانا خوش آئندبات ہے مگر پہاڑی وگوجری جو کہ کشمیری کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں ہیں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے مرکزی سرکار کی جانب سے سرکاری زبانوں سے متعلق پاس کی گئی تجویز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز نے دوبڑی زبانیں بولنے والوں کے جذبات مجروح کیے ہیں۔ تنویر نے کہا کہ اگر حکومت کو عوام کے جذبات کا ذرا برابر بھی خیال ہے تو وہ پہاڑی وگوجری زبانوں کو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرے جو کہ ان زبانوں کے بولنے والوں کی دیرینہ مانگ ہے۔قریشی نے جموں کشمیر کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے پرزور مانگ کی کہ وہ اس سلسلہ میں مداخلت کریں اور مرکزی حکومت سے سفارش کریں کہ وہ پہاڑی و گوجری زبانوں کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں شامل کریں ورنہ عوام احتجاج کا راستہ اختیار کرے گئی۔











Users Today : 98
Users Yesterday : 622