GNS ONLINE NEWS PORTAL

مہنڈر میں ناجائز منافع خوری عروج پر،سرحدی علاقوں میں زندگی انتہائی دشوار ناقص مواصلاتی نظام سے نوجوان پریشان ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بے حد مشکل : تنویراقبال قریشیعلاق

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

مینڈھر// گزشتہ پانچ ماہ سے عالمی وباءکورونا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ کے باعث عوام الناس کے دل ودماغ میں نہ صرف اس مرض کی دہشت طاری ہے بلکہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی اس عالمی وباءکے خوف سے مجموعی انسانی زندگیاں مختلف قسم کے مصآئیب اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل جاری رہنے والے لاک ڈان کے دوران مجموعی عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی شہر ہو یا دیہات ہر جگہ اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی کے باعث عوام انتہائی دشواریوں سےدوچار ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا رجحان اپنے منطقی عروج تک پہنچ چکا ہے۔ زیرِ تعلیم طلباء کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، حکومتی سطح پر آن لائن درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لیکن اس نظام کا فائدہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے عوام کو یقناً مل سکتا ہے جہاں بلا خلل مواصلاتی نظام دستیاب ہے لیکن جموں وکشمیر کے عوام خصوصاً زیرِ تعلیم طلباءکو آن لائن درس و تدریس کا ہرگز فائیدہ نہیں مل رہا ہے، کیونکہ جموں و کشمیر میں خصوصاً سرحدی علاقوں میں فعال مواصلاتی نظامِ دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے اس سرحدی علاقے کی عوام کو آن لائن معلومات زندگی میں خاطر خواہ فائیدہ نہیں ہو سکتا ہے۔قریشی نے کہاکہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر کے عوام کو پشتینی باشندہ سرٹیفکیٹ کے عوض ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس کے لئے درخواست دہندہ کو آن لائن درخواستیں داخل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہے۔ بظاہر جاری کرونا کی وجہ سے عوامی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں لیکن اس عوام خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوان حصولِ اسناد اور درس و تدریس کی غرض سے قطار در قطار درماندہ پھر رہے ہیں لیکن کمزور مواصلاتی نظام کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مہنڈر ڈولپمنٹ فارم کے صدروسماجی کارکن تنویراقبال قریشی نے اخبارات کے نام جاری اپنے ایک تحریری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک دن گزرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی ہر ایک صبح جموں و کشمیر کی عوام خصوصاً سرحدی علاقوں میں آباد عوام کے لئے نئے مسائل اور مشکلات لے کر وارد ہوتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں آباد عوام کو تو کرونا وائرس سے پہلے بھی ذہنی سکون میسر نہیں تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سرحدی علاقوں میں آباد عوام کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے تنویرنے کہا کہ انتظامی سطح پر جواب دہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی مظلوم عوام کو درپیش کن کن چیلنجزکا ذکر کیا جائے تو اس سرحدی خطہ کے 80فیصد عوام کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا ہے لیکن بدقسمتی سے اس خطہ کے عوام نہ ہی تو بےخوف وخطر زمینداری کرسکتے ہیں اور نہ ہی مال مویشی پال سکتے ہیں، ایسی صورت حال میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سرحدی خطہ میں آباد عوام کو درپیش مشکلات کا مناسب اور معقول حل نکالے تاکہ یہاں کے عوام بھی عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 2 2 4
Users Today : 135
Users Yesterday : 622