GNS ONLINE NEWS PORTAL

یونیورسٹی میں انتظامی خلا، طلباء و عملہ پریشان — انقلابی نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل 

راجوری، 29 اگست – سینئر پی ڈی پی رہنما محمد فاروق انقلابی نے یونیورسٹی میں جاری شدید انتظامی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریجسٹرار اور چیف اکاؤنٹس آفیسر (CAO) کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کا تعلیمی و انتظامی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

انقلابی نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے ریجسٹرار کا عہدہ خالی ہے اور اس کا اضافی چارج ایک ضلعی افسر کے پاس ہے جو پہلے ہی پورے ضلع کے انتظامی امور کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، اس لیے وہ یونیورسٹی کو درکار وقت اور توجہ نہیں دے پا رہے۔

اسی طرح چیف اکاؤنٹس آفیسر کا چارج بھی ایک انجینئرنگ محکمے کے افسر کے پاس ہے، جو یونیورسٹی کے مالی و انتظامی امور کے لیے وقت نکالنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا، “اس انتظامی خلا نے یونیورسٹی کو جمود کا شکار بنا دیا ہے۔ طلباء پریشان ہیں، عملہ مایوس ہے، اور روزمرہ کے کام بھی تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ نہ کوئی نگرانی ہے، نہ ہی کوئی ترقی۔”

انقلابی نے خبردار کیا کہ اگر اس ادارے کو یوں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کا خمیازہ علاقے کے طلباء کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا، “یونیورسٹی صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ اسے انتظامی بے حسی کے باعث زوال کا شکار ہونے دینا ناقابل قبول ہے۔”

انہوں نے معزز لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور ریجسٹرار اور چیف اکاؤنٹس آفیسر کی باقاعدہ اور مستقل تعیناتی عمل میں لائیں تاکہ یونیورسٹی کا نظام دوبارہ فعال ہو سکے۔

اختتام پر انقلابی نے کہا کہ “یہ معاملہ فوری توجہ کا مستحق ہے، اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 5 9 0 4 9
Users Today : 202
Users Yesterday : 60