کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ نوجوان صرف سرکاری نوکریوں پر منحصر نہ ہوں بلکہ خود بھی روزگار کے ذرائع تیار کریں جہاں سے وہ دوسرے نوجوانوں کو بھی روزگار مہیا کرکے اپنے ملک کو اور زیادہ ترقی یافتہ اور بے روزگاری سے آزاد کر سکیں۔ اس کیلئے یہ بے حد ضروری ہے کے سرکاری افسران اور سرکاریں بھی نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور ہر ممکن مدد بھی فراہم کریں، کہ سرکاری افسران اور سرکاروں کی مدد کہ بنا بے روزگاری ختم کرنا ممکن نہیں۔ سرکار اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے کام کر رہی تمام تر غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس میں کام کرنا ہوگا۔ بہت ساری غیر سرکاری تنظیمین انفرای طورکئ غریب لوگوں کی مالی مدد کرتی ہیں جو مدد بہت کم عرصہ تک ہی انکی ضرورتیں پوری کر سکتی ہے۔ اس کے عوض ان امدادی غیر سرکاری تنظیموں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے بڑے ایسے پروجیکٹس لگا کر ان لوگوں کو دے کہ جہاں سے انہیں مستقل روزگار مل جائے۔ اور ہر ایک پروجیکٹس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وابسطہ کیا جائے۔ جیسا کہ مینے شروع میں عرض کیا کہ سرکاری افسران اورسرکاروں کی مدد کے بنا نوجوانوں کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خود سے روزگارتیار کر سکیں۔ میں محمد عرفان بھٹی قادری ذاتی طور پر بھی چاہتا تھا کہ میں کچھ ایسا کروں جس سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار دیا جا سکے اور اپنے وطن عزیز ہند کی خاطر کچھ کیا جا سکے۔ جس کیلئے مینے تہہ کیا تھا کہ میں نیوز ایجنسی رجسٹر کرواوں اور مینے ۲۰۱۸ میں آر این آئی میں اپلی کیا اور مزید تحقیقات کیلئے ڈپٹی کمشنر دفتر راجوری میں کئ چکر کاٹنے کے بعد بالآخر ۲۰۱۹ میں میری فائل جمع کی گئ۔ جسکےبعد متعلقہ افسران نے رشوت کی مانگ کی پر انہیں رشوت نہ دینے کی وجہ سے ۲۰۱۹ میں جمع کی گئی تحقیق کیلئے فائل کی تحقیق ابھی ۲۰۲۲ میں بھی مکمل نہیں ہوئی جو کہ یقینً موجودہ نظام کی کمزوری ہے جس کا اثر ہمارے نوجوانوں کے روزگار اور وطن عزیز ہند کی ترقی پر پڑھ رہا ہے۔سرکاری دفتروں میں کسی بھی فائل کی پروسیسینگ/تحقیق کو مکمل کرنے کی طہ شدہ میعاد کا نہ ہونا جہاں نوجوانوں کے روزگار کو متاثر کر رہا ہے وہیں رشوت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ کہ اگرہر طرح کی فائل کی پروسیسسنگ یا تحقیق کو مکمل کرنے کیلئے تہہ شدہ میعاد ہوگی تو رشوت خور افسران یہ انتظار نہیں کر سکیں گے کہ انہیں کچھ گھوس ملے تو وہ کام کریں اور نہ ہی کسی اپنے وطن کیلیے فکر مند ایماندار شہری کی طرف سے گھوس نہ ملنے پر وہ اسکی فائل کو لمبا لٹکا پائیں گے۔ بلکہ ایماندار افسران بھی فکر سے ہر فائل پر کام کریں گے۔ لہزا جب عوام کو یہ پتہ ہوگا کہ انکے رشوت دینے یا نہ دینے سے کوئ فرق نہیں پڑے گا اورخود باخود انکے کام مقررہ مدت میں ہوجائیں گے تو اس سے عوام رشوت دینے پر مجبور نہیں ہوگی۔ جس سے بڑی حد تک جہاں رشوت پر روک لگے گی وہیں پر نوجوانوں کے روزگار پر رکاوٹیں بھی نہیں ہونگی اورہمارا ملک تیزی سے آگے بڑے گا، اور بے روزگاری سے آزاد ہوگا۔ لہزا میں بالخصوص لیفٹیننٹ گورنر جموں کشمیر اور وزیر اعظم ہند سے اپیل کروں گا کہ اس پر قانون بھی بنایا جائے اور سرکاری افسران کو فوری طور ہدایت دی جائے کہ وہ ہر طرح قسم کی فائل کیلئے مدت مقرر کریں کہ کس قسم کی فائل کیلئے کتنی مدت ہوگی پروسیسسنگ مکمل کرنے کیلیئےاور مقررہ مدت میں پروسیسسنگ مکمل نہ کر پانے والے افسران کی گرفت کو یقینی بنایا جائے۔
بانی و امیر سنی تحریک کونسل
مع نوجوان سیاسی و سماجی رہنما
محمد عرفان بھٹی قادری
+919858976734
FEAOSB786@GMAIL.COM










Users Today : 233
Users Yesterday : 386