GNS ONLINE NEWS PORTAL

گوجر بکروال کب تک سہارے کی زندگی بسر کریں گے۔

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

آج 33برس گزر چکے ہیں ریاست میں گوجر بکر وال قوم کو شڈیولٹرائب کا درجہ دیے ہوئے۔ یہ درجہ انہیں اپنی پسماندگی دور کرنے کے لیے تعلیم یافتہ بنانے کے لیے اور دوسری قوموں کےساتھ برابر زندگی بسر کرنے کے لیے دیاگیا تھا۔ آج تین دشک گزر جانے کے بعد گجربکروال قوم کا محاسبہ لازمی ہے کہ انہوں نے کس حدتک ترقی کی ہے۔ کیونکہ کہ آج بھی شڈیول ٹرائب کی اہمیت قوم کے لوگ اتنی ہی ضروری بتا رہے ہیں جتنی آج سے تیس سال قبل تھی۔ موجودہ وقت میں بھی ترقی کےلیے صرف شڈیلوٹرائب کوہی واحد راستہ بتا رہے ہیں۔

آج ہماری قوم کی بدحالی ہے یا غیر تعلیم یافتہ ہے تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ آج اسی قوم کے کچھ لوگ آسمان کو چھو رہے ہیں تو کچھ آج بھی قابل ترس زندگی بسر کرتے ہوئے بطورِ ثبوت پیش کیے جارہے ہیں۔
آئی اے ایس آئی پی ایس کی طویل طویل فہرست گوجر بکر وال قوم کے نوجوانوں کی ریاست میں ہر علاقہ سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری طرف کے اے ایس کی طرف نظر دوڑائی جائے تو کوئی گاوں ایسا نہیں ہے جہاں سے کوئی نہ کوئی گوجر ایڈمنسٹریشن سروسز میں شامل نہ ہو۔
ہر بار اس قوم سے کم ازکم دس ایم ایل اے منتخب ہوتے ہیں۔ انہوں نے قوم کا تعلیمی شعبہ میں اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیا کارنامہ کیے ہیں ۔ ہر بار آپ کے کم سے کم تین یا چار منسٹر ہوتے تھے۔انہوں نے قوم کی خاطر کیا کیا ❓اسی قوم سے تاریخ رقم کرتے ہوئے ممبرپارلیمٹ لوک سبھا منتخب ہوا ❓ہر بار آپ کے چار پانچ ایم ایل سی ہوئے ہیں انہوں نے کیا کیا ❓ آپ کے گوجر بکر وال ایڈوائزری بورڈ کے وائس چیرمین پچھلے تیس سالوں سے چلے آرہے ہیں انہوں نے کیا ❓آپ کے ممبر گوجر ایڈوائزری بورڈ، رہے ہیں انہوں نے کیا ❓
رواں دور کی بات کی جائے تو پورا نظام آپ کے ہاتھ میں ہے ہر جگہ آپ کےپنچ سرپنچ بی ڈی سی، ڈی ڈی سی، یہاں ہی نہیں بلکہ بہت ضلع کے ترقیاتی کونسل کے چیر مین گوجر بکر وال ہیں۔ کیا پالیسی مرتب کی ہے قوم کے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ اور بےروزگار کے خاتمے کے لیے؟
ریاستی بیورو کریسی میں دیکھا جائے کتنے ضلع کے ترقیاتی کمشنر گوجر بکر وال ہیں۔
کتنے ضلع کے پولیس کمشنر گوجر بکر وال ہیں۔
کتنے محکمہ کے سربراہ سکریٹری، ڈائریکٹر، چیف انجئیر اور کمشنر گوجر قوم کے فائز ہیں۔
جوڈیشری کے اندر دیکھا جائے کتبے جج صاحبان گوجر قوم سسے اپنے منصب پر فائز ہیں۔
ہر ضلع میں گوجر قوم کے آفیسر ان کی کثیر تعداد موجود ہے۔
کتنے ضلع انتظمیہ کے اندر ہیں۔
کتنے ایسیٹینٹ کمشنر ہیں، کتنے تحصیلدار ہیں
، کتنے ایس پی اور ڈی ایس پی فائز ہیں۔
کتنے سیپرٹینڈنگ انجئیر اور کتنے ایگزیکیوٹیو انجئیر الگ الگ عہدوں پر فائز ہیں۔
کتنے ڈسٹرکٹ آفیسر موجود ہیں
کتنے چیف ایجوکیشن آفیسر موجود ہیں
کتنے پرنسپل مقرر ہیں
کتنے زیونل ایجوکیشن آفیسر اور کتنے اسکولوں کے سربراہ تعینات ہیں،
کتنے اساتزہ کرام ہر اسکول میں موجود ہیں،
کتنے گرداور پٹواری و دوسرے ہر شعبہ میں گوجر بکر وال ملازمین ہیں جو صرف ایس ٹی کی بنا پر منتخب ہوئے ہیں۔ ان سے قوم کو کتنا فائیدہ ہوا ہے انہوں نے قوم کے پسماندہ کتنے بچوں کو پڑھانے کی زمہداری لی اور ان کے اخراجات ان کو مہیا کروائے ہیں۔ اس کا حساب بھی لازمی ہے۔ آج کس عہدے سے اللہ تعالی نے گوجر بکر وال کو نہیں نوازہ ہے پھر بھی کہتے ہو کہ ہم سب سے پیچھے ہیں۔ آپ سب سے پیچھے نہیں بلکہ آپ سب کے پیچھے ہو۔ کسی کو آگے لانے یا آنے کا موقع پی فراہم نہیں کرواتے ہو۔ جو عروج پر ہے اسی کا بیٹا ہی اہم نشستوں پر فائز ہونا چاہیے یہی واحدا مدعا ہے۔
حساب کسی سے نہیں آج قوم اگر شڈیلوٹرائب کی بنا پر سرکاری منصب پر فائز ہونے والے گوجر بکر وال آفیسر یاسیاتدان سے مانگے تو بجاہوگا۔ یہ حساب دیں کتبے اسکول کھولے ہیں جہاں ان کے بچوں کے لیے مفت تعلیم حاصل ہوتی کتنے بچوں کی پرورش انہوں نے اپنی تنخواہ سے کی ہے۔ کتنی بچیوں کو تعلیمی یافتہ بنانے کے بعد ان کی شادیاں انہوں نے کروائیں ہیں۔ کتبے لوگوں کے مکان بنا کر انہیں چھت میسر کروائی ہے۔

لیکن جواب میں صاف طور سے استصال کے سوا کچھ نہیں ان کی غریبی کی رٹ لگا کر پرموشن پر پرموشن لیتے گئے ان کہ غریبی کو بیچ کر اپنے بچوں کے نام پروفیشنل کالجیز اور ایڈمنسٹریٹیو سروسز میں نشستیں مقرر کرتے رہے۔ آج جگی جگہ ڈگڈگی بجائی جا رہی ہے غریب گوجر بکر وال کا مستقبل خطرے میں ہے اگر شڈیلوٹرائب کو ضم کر دیا گیا۔ مگر زیادہ خطرہ آپ کے بچوں کو ہے جو میدانی شہروں میں بیٹھے ہیں۔ جنہیں پوری طرح سے اپنے گاوں کا نام بھی یاد نہیں ہے رشتہ دار تو دور کی بات ہے جنہوں نے لکڑیاں اور پتھر بیچ کر آپ کو اس قابل بنایا کے آپ قوم کے غریب گھر کی بیٹی کو چھوڑ کر محلوں سے اپنی شادیاں کر لی اور اپنے گھر کا دروازہ بھول گئے۔

قوم کی تقدیر کو آج شڈیولٹرائب کی بیساکھ یوں کے سہارے نہیں رکھنا چاہیے سرکار کب اس کی واپسی کا فرمان جاری کر دے کچھ معلوم نہیں۔ بلکہ آج اللہ نے ایک بڑی طاقت اس قوم میں بخشی ہے اس قوم میں اگر بیداری کی جنبش آجائے۔ اس ریاست میں اگر دس لاکھ ملازم ہیں تو ایک لاکھ کے قریب گوجر بکر وال بھی ہوں گے یہ ایک لاکھ صرف مہینہ کا ایک ایک ہزار روپیہ اپنی قوم کی بہتری کے لیے جمع کریں ۔ تو ایک مہینے کا دس کروڑ روپیہ جمع ہو گا۔ ایک سال کا سو کروڑ روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، صرف دو کروڑ شاہدرہ شریف کے ساتھ ہزاروں بے روزگار وں کو روزگار فراہم کر سکتی ہے لاکھوں طلبہ کو علم کے زیور سے آرستہ کرسکتی ہے تو سالانہ سو کروڑ سے کتنی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے کتبے میڈیکل اور انجئیرنگ کالج کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے ۔ اس لیے تعلیم کےساتھ شعور کی ضرورت ہے جس سے قوم کا روشن مستقبل سامنے آ سکتا ہے۔ ملک میں ایک آئی اے ایس آفیسر نے لوگوں کی سوچ بدل کر رکھ دی سنہری تقدیر لکھ دی ہے۔ ہمارے پاس اللہ کا کرم ہے کے درجنوں آئی اے ایس ہیں صرف پہل کی ضرورت ہے قربانی کی ضرورت ہے۔
لیاقت علی چودھری۔

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 6 9 6
Users Today : 229
Users Yesterday : 386