GNS ONLINE NEWS PORTAL

بابا غلام شاہ بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی فراست بابا غلام شاہ بادشاہ ٹیکنیکل یونیورسٹی!!!

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

حضرت سید غلام شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بنا دانش گاہ کو کیا لکھنا، آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بنا علم کے اس منارہ نور کے وجود کو تسلیم کرنا پیرپنچال کی پہچان اور دھنور کی شناخت سے لے کر چودھری مسعود صاحب، مرحوم ارشاد احمد حمال صاحب، ڈاکٹر جاوید مسرت صاحب اور موجودہ وائس چانسلر اکبر مسعود صاحب کے کمالات کو کیا لکھنا۔
المختصر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے قیام اور عروج کی تمام داستان نامکمل ہوگی جب تک حضرت بابا غلام شاہ بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ سے جوڑ کر نہ لکھا جائے۔
حضرت سید غلام شاہ بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی فراست کی ایک چھوٹی سی کرن 15دسمبر 2004کا وہ تاریخی دن خطہ کے لیے درج ہوا۔ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کے وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

خطہ پیر پنچال پر اللہ کے ولی کی نگاہ کرم کے آج ہر طرف نور ہی نور بکھر رہا ہے۔ دھنور کے ایک چھوٹے سے جنگل میں صبح وشام دن و رات شمع نور سے اَبر نور کا سیلاب بہتا ہوا نظر آرہا ہے۔ آپ کی فراست سے اس خطہ میں ایسا انقلاب برپا ہوا جس کا قیاس بھی کبھی کسی کو نہ کیا تھا ایسی انمول دولت عطا ہوئی جس کو مانگنے کا بھی کسی کو شعور نہ تھا۔ یہ وہ دولت ہے جسے کوئی جتنا بانٹے گا یہ اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ جتنا کوئی خرچ کرے گا اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ جتنا کوئی اس خزانہ کو لوٹے گا زیادہ وسیع ہوتا جائے گا۔ اس کی عمر کے جتنے سال گزرتے جائیں گے اتنا ہی چمکدار اور مضبوط منارہ نور درخشندہ و تابندہ نظر آتا جائے گا۔

اللہ کے ولی نے اللہ کی کرم نوازی سے اس پسماندہ علاقہ کو ایک ایسا انمول تحفہ عطا کیا جو صرف کسی ایک شخص تک ہی محدود نہیں، کسی زات برادری تک نہیں، کسی ایک نسل تک نہیں کسی ایک علاقہ تک ہی محدور نہیں بلکہ لامحدود ہے ہر متنفس اس سے مستفید ہوتا جائے گا ہر نسل اس سے سنورتی جائے گی۔ ملک اور ریاست کا قریہ قریہ اس سے روشن ہوتا جائے گا۔ ہمیں ولی کامل کی طرف سے عطاکیا ہوا ایسا تحفہ ملا جسے جتنا کوئی سمیٹنا چاہے گا یہ اتنا پھیلتا جائے گا جتنا کوئی دبانا چاہے گا اتنا ہی ابھرتا اور بلندیوں کو چھوتا جائے گا۔ کیونکہ کہ اس کی نسبت اللہ تعالی کے ولی کامل سے جڑی ہوئی ہے۔ آج ایک مختصر وقت میں اس مقام بڑا بلند ہوگیا ہے وہ دن دور نہیں جب یہ شمع نور دنیا کی تمام یونیورسٹیوں سے اعلیٰ سرفہرست کہلائے گی۔

مومن کی فراست سے حاصل جو دولت ہو جائے
زرہ زرہ فیوض وبرکات سے مالا مال ہو جائے

حضرت سید بابا غلام شاہ بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہ کرم سے 15دسمبر 2004 کا مبارک دن خطہ پیر پنچال کے لیے بہتر مستقبل کا ضامن بن گیا تھا۔ اس روز خطہ پیر پنچال میں دنیا کی انمول دولت کا ایک دارلخلافہ کاقیام عمل میں لایا گیاتھا
یہ بنیاد تھی پسماندگی میں زندگی بسر کرنے والے نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی۔ ان کو گھر کے دروازے پر اعلی تعلیم کےساتھ ہر شعبہ میں تکنیکی و غیر تکنیکی علوم کی دستیابی فراہم کروائی گئی ہے۔۔ اس سے قبل اعلی تعلیم کے لیے ادارہ اور اخراجات کی عدم دستابی ایک بڑی وجہ بن جاتی تھی جس سے بنیادی تعلیم کے بعد علاقہ کی غیور عوام اوائل نسل تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیتوں کے باوجود کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتی تھی۔
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وجود کا قیام عمل میں آنے کے بعد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ نے اس یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہوتے ہوئے ڈاکٹر، انجنئیر، پروفیسر و دیگر تمام شعبہ میں تعلیمات سے لیس ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں پڑے لکھے و دوسرے غیرتعلیم یافتہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوئے ہیں۔
آج یوم تاسیس کے مواقع پر انتظامیہ یونیورسٹی کو ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ قابل احترام وائس چانسلر جناب اکبر مسعود صاحب کی زیرنگرانی پوری انتظامیہ کی محنت لگن و کاوشوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے شکر گزار ہیں کہ اتنے دور یی آپنی خدمات باخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔

انشااللہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس یونیورسٹی کی بنا پر کبھی تعلیم جسی انمول دولت حاصل کرنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑیں گے۔ ہم رہیں نہ رہیں آج کچھ چانسلر بھی چلے گئے کچھ وائس چانسلر بھی چلے گئے وہ حکومتیں بھی نہیں رہی لیکن یہ یونیورسٹی ہمیشہ قائم دائم رہے گی ہر نئی صبح ایک نئی روشنی کی کرن لے کر آئے گی۔

لیاقت علی چودھری گاوں دھنور ڈہنڈیاں 9419170548
Photo credit: Awais ahmed wagey

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 7 6 7
Users Today : 300
Users Yesterday : 386