GNS ONLINE NEWS PORTAL

جموں وکشمیر کے ’پہاڑی قبیلہ ‘کا شیڈیول ٹرائب مطالبہ غلط فہمیوں کی وضاحت

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email


الطاف حسین جنجوعہ
7006541602


انڈیا میں 705قبائل ایسے ہیں جنہیں حکومت ِ ہند نے درج فہرست قبائل یعنی’ایس ٹی‘زمرہ میں شامل کیا ہے جن کی سماجی، تعلیمی، اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ ا±نہیں سیاسی طور بااختیار بنانے کے لئے تعلیمی وپیشہ وارانہ اداروں میں داخلہ ، سرکاری نوکریوں اور پنچایت تاپارلیمنٹ تک سیاسی ریزرویشن دی جاتی ہے اور یہ ریزرویشن آبادی کے تناسب کے حساب سے دی جاتی ہے۔ وزارت برائے قبائلی امور حکومت ِ ہند نے کسی بھی قبیلہ کو ’شیڈیول ٹرائب‘زمرہ میں شامل کرنے کے لئے معیار وضوابط مقرر کئے ہیںاور اِس میں جو بھی قبیلہ آتا ہے ، ا±س کو وقتافوقتاً ایس ٹی درجہ دیاجاتاہے اور یہ عمل 1951سے آج تک لگاتار جاری ہے۔
جموں وکشمیر کا پہاڑی قبیلہ جس کے لوگ پونچھ راجوری اضلاع کے علاوہ وادی اوڑی کرناہ۔ ٹنگڈار، کپواڑہ کے علاوہ شوپیاں۔ اننت ناگ۔ بارہمولہ ۔ گاندربل اور بانڈی پورہ کے کچھ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں کامخصوص تاریخی، لسانی، طرز ِ زندگی ہے اور وہ منفرد ثقافتی ورثہ کی شناخت رکھتے ہیں، جن کا مطالبہ ہے کہ ا±نہیں بھی درج فہرست زمرہ ( ST)میں شامل کیاجائے۔ اس کے لئے قبیلہ کی 5دہائیوں پر محیط جدوجہد جاری ہے جس میں چند ماہ سے ایکبار پھر تیز ی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہر روز جموں وکشمیر میں متعدد مقامات پرعوامی اجتماعات، کنونشن، پریس کانفرنس، احتجاج کے ذریعے حکومت ِ ہند کی توجہ اپنے ایس دیرینہ مطالبے کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پہاڑی قبیلہ کے اِس دیرینہ مطالبہ کی جموں وکشمیر کے دیگر درج فہرست قبائل مخالفت میں بھی کررہے ہیں ۔ کئی سالوں سے جاری درپردہ مخالفت اب سوشل میڈیا پھر بھی ہورہی ہے جس میں سب سے زیادہ اور خاص کر مخالفت گوجر قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ہورہی ہے جنہیں ’پہاڑی قبیلہ ‘کو ایس ٹی دینے پر کئی خدشات و تحفظات ہیں۔ قبیلہ کی سرکردہ لیڈر شپ خاموش ہے البتہ تھرڈ لائن لیڈرشپ جس میں سیاسی وسماجی نوجوان شامل ہیں، کو فیڈ کر کے آگے کیاگیاہے جوکہ گاو¿ں دیہات میں رہنے والے عام شخص کے ذہنوں میں طرح طرح کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ گوجر قبیلہ کوجو خدشات ہیں، اِن میں سے ایک یہ کہ اگر مزید کسی قبیلہ کو جموں وکشمیر کے اندر ایس ٹی زمرہ میں شامل کیاگیاتو وہ ا±ن کو ملنے والے ’حق یعنی ریزرویشن کوٹہ میں حصہ دار بن جائیں گے۔دوسرا ’پہاڑی قبیلہ ‘کو ایس ٹی دینے سے ا±ن کا قبائلی تشخص خطرے میں پڑجائے گا۔اِس طرح کی کئی دیگر باتیں کر کے قبیلہ کے عام لوگوں میں خوف وڈر کا ماحول پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ پڑھا لکھا حلقہ اِس مہم جوئی میں سرفہرست ہے۔ اس سے قبل کہ دونوں طبقات جوکہ صدیوں سے ایکساتھ ، ایک ہی ماحول اور مخلوط کلچر میں رہ دو بھائیوں کی طرح رہے ہیں، جن جے دکھ سکھ سانجھے ہیں، میں اِس معاملے کو لیکر اختلافات بڑھیں، یا جنم لینے والی غلط فہمیوں ایکدوسرے کے بیچ دوری کی وجہ بنیں، مذکورہ دو اہم خدشات کو دور کرنے اور اِس کی حقائق کے ساتھ وضاحت کی ضروررت ہے۔
ملک بھر میں درج فہرست قبائل کو دو سطح پرریزرویشن حاصل ہے۔ ایک آل انڈیا سطح پر اور ایک ریاستی ومرکزی زیر انتظام علاقوں(UT)سطح پر ہے۔ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں کے علاوہ سیاسی ریزرویشن آباد ی کے تناسب کے حساب سے دی جارہی ہے۔ آندھرا پردیش میںدرج فہرست قبائل کی آبادی 7فیصد ہے جبکہ ا±نہیں6فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔ اسی طرح اروناچل پردیش میں 68.6فیصد ایس ٹی آبادی ہے جنہیں80فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔آسام میں 12.4فیصد آبادی اور15 فیصد ریزرویشن، بہار میں 1فیصد، چھتیس گڑھ میں 32فیصد، مرکزی زیر انتظام دمن دیو اور دادرہ نگر حویلی میں9فیصد، دہلی میں7فیصد، گوا میں12فیصد، گجرات میں14فیصد، ہماچل پردیش میں4فیصد، جھارکھنڈ میں26فیصد کرناٹکہ میں3فیصد، کیرلہ میں3فیصد، لکشدیپ میں 100فیصد، مدھیہ پردیش میں 20 فیصد ،مہاراشٹرہ میں7فیصد، منی پور میں34فیصد، میگھالیہ میں80فیصد، میزروم میں80فیصد، ناگالینڈ میں80فیصد، اوڑیسہ میں22فیصد، راجستھان میں12فیصد، سکم میں21فیصد، تامل ناڈو میں1فیصد، تلنگانہ میں6فیصد، تری پورہ میں31فیصد، اترپردیش میں2فیصد، اترا کھنڈ میں3اورمغربی بنگال میں6فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔ کل ہند سطح پر درج فہرست ذاتوں(SC)کو15فیصد،ایس ٹی کو7.5فیصد اور او بی سی میں27فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔یعنی کہ یوپی ایس ایس سی ودیگر ملک سطح کے تقابلی امتحانات، پروفیشنل کالجوں، یونیورسٹیوں میں ایس ٹی کو 7.5فیصد ریزرویشن حاصل ہے اور اِس میں وہ سبھی 705قبائل آتے ہیں جنہیں ایس ٹی ڈکلیر کیاگیاہے۔
سیاسی ریزرویشن بھی دو اقسام ہیں۔ ایک لوک سبھا میں جوکہ ملک بھر میں ایس ٹی آبادی کے تناسب سے ہے اور ایک ریاستی /یونین ٹیراٹری میں اسمبلی کے اندر، پنچایتی وبلدیاتی اداروں میں۔اِس وقت ملک بھر میں ایس ٹی کو لوک سبھا اور اسمبلی میں جوریزرویشن مل رہی ہے وہ سال 2001کی مردم شماری کے مطابق ہے۔ آخری مرتبہ ہندوستان میں سال 2008کو حد بندی ہوئی تھی اور آئین ِ ہند کی 84ویں ترمیم کے مطابق 2026کے بعدنئی حد بندی ہونی ہے۔ 2002میں حد بندی کمیشن سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس کلدیپ سنگھ کی قیادت میں بنائی گئی تھی لیکن اِس کی سفارشات کو عدالت عظمیٰ کی مداخلت کے بعد سال 2008میں لاگو کیاگیاتھا۔انڈیا میں 1952کو پہلی، 1963میں دوسری،1973کو تیسری اور سال 2002کو چوتھی حد بندی ہوئی۔سال2008کی حد بندی کے بعد543لوک سبھا نشستوں میںسے47ایس ٹی کے لئے مخصوص ہیں جن کی شرح 8.65فیصد بنتی ہے۔2001کی مردم شماری کے مطابق ایس ٹی کی مجموعی آبادی ملک میں 8.2فیصد تھی اور سال 2011کے مطابق یہ شرح بڑھ کر 10.42فیصد پہنچ چکی ہے۔ لوک سبھا میں ایس ٹی کے لئے جو نشستیں ریزرو ہیں، ا±ن میں آندھرا پردیش سے 3، آسام سے 2، چھتیس گڑھ سے4، گجرات سے4، جھارکھنڈ سے5، کرناٹکہ سے2،مدھیہ پردیش سے6، مہاراشٹرہ سے 4، منی پور سے1اور میگھالیہ سے 2، میزوروم سے1، اڑیسہ سے5، راجستھان سے3، تری پورہ سے 1اور مغربی بنگال سے2نشستیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی زیر انتظام علاقوں دادنر نگر حویل سے ایک اور لکشدیپ سے ایک شامل ہے۔
اسی طرح 2008کی حد بندی کے مطابق انڈیا کی سبھی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی کل اسمبلی نشستیں4,109ہیں جن میں سے ایس سی کے لئے 607اورایس ٹی کے لئے 554ریزرو ہیںیعنی کہ 13.48فیصد نشستیں شیڈیول ٹرائب کے لئے ہیں۔آندھرا پردیش کی 227میں سے19، اروناچل پردیش میں60، آسام کی کل 129میں سے 16، بہار میں 243میں سے 2، چھتیس گڑھ میں90میں سے 29، گجرات کی 182میں سے 27، ہماچل پردیش کی کل 68میں سے 3، جھارکھنڈ میں81میں سے 28، کرناٹکہ میں224میں سے15، کیرلہ میں 140میں سے 2، مدھیہ پردیش میں 230میں سے 47، مہاراشٹرہ میں288میں سے25، منی پور میں60میں سے19، میزوروم میں40میں سے39، ناگالینڈ میں 59، اڑیسہ میں147میں سے33، راجستھان میں 200میں سے25، سکم میں32میں سے 12، تامل ناڈو میں 188میں سے2، تری پورہ میں 60میں سے 20، اترا کھنڈ میں 70میں سے 2، مغربی بنگال میں294میں سے16ریزرو ہیں۔یہاں یہ اعدادوشمار بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ملک بھر میں آبادی کے تناسب کے حساب سے ایس ٹی کو ریزرویشن حاصل ہے۔لہٰذا پہاڑی قبیلہ کو ایس ٹی ملنے سے پہلے سے درج فہرست زمرہ میں شامل قبائل کو کوئی نقصا ن نہیں ہوگا، بلکہ ایس ٹی آبادی بڑھنے سے کوٹہ بھی بڑھے گا،مجموعی طور سبھی کا فائیدہ ہے۔ مراعات زیادہ آئیں گیں، خطے کی ترقی ہوگی اور اِس بات کے امکانات بھی روشن ہوجائیں گے کہ سال 2026کی حد بندی کے بعد جموں پونچھ لوک سبھا حلقہ ایس ٹی کے لئے ریزرو بھی ہوجائے۔
دوسری یہ غلط فہمی ہے کہ پہاڑی قبیلہ کے لوگ ایس ٹی مانگ کر گجربننا چاہتے ہیں اور یہ دعویٰ کئی تعلیم یافتہ بھی کرتے ہیں کہ گجرکے علاوہ کسی اور کو ایس ٹی نہیں مل سکتی ۔ اِس دلیل کی نہ کوئی قانونی جوازیت نہ ہے نہ منطق۔ سابقہ ریاست جموں وکشمیر جس میں خطہ لداخ بھی شامل تھا، میں کل بارہ قبائل کو ’شیڈیول ٹرائب‘قرار دیاگیا تھا جن میں سے آٹھ کا تعلق لداخ یوٹی سے ہے جبکہ اب جموں وکشمیر کے اندر چار یعنی کہ گدی سپی، گوجر اور بکروال قبائل کے لوگ ہیں۔اِن سبھی قبائل کی اپنی اپنی منفرد شناخت ہے ،گدی گدی ہی ہے، سپی سپی ہی ہے اور بکروال بکروال ہی ہیں، وہ گجرنہیں بنے۔کوئی قبیلہ جو لسانی، ثقافتی،نسلی اعتبار سے منفرد شناخت رکھتا ہے، سماجی، تعلیمی واقتصادی طور پسماندہ ہے، کی ترقی کے لئے حکومت اُنہیں درج فہرست ذمرہ میں لاسکتی ہے اور اگر کوئی بھی قبیلہ ’ایس ٹی ‘زمرہ میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ گجربننے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔انڈیا میںالگ الگ قبائل ہیں جوایس ٹی زمرہ میں ہیں، وہ گجرنہیں بن گئے۔اگر ہم ملک بھر کے اندر ایس ٹی کو ملنے والی ریزرویشن کا بغور مطالعہ کریں تو خود بخود تصویر واضح ہوجاتی ہے۔حکومتی سطح پریہ بات تسلیم کی گئی ہے پہاڑی ایک قبیلہ ہے جس کی خصوصی لسانی، ثقافتی اورنسلی شناخت ہے۔پہاڑی زبان قدیم زبانوں میں سے ایک ہے جس کی جڑیں اشوک دور سے ملتی ہیں جب یہ شاردہ یونیورسٹی میں ایک اہم مقام رکھتی تھی۔ 1947کے بعد پہاڑی زبان جموں وکشمیر کے آئین کے چھٹے شیڈیول میں بھی شامل تھی۔سترکی دہائی میں پہاڑی قبیلے کی سماجی، تعلیمی واقتصادی ترقی کے لئے شروع کی گئی تحریک جس میں اہم مطالبہ ”شیڈیول ٹرائب “کا درجہ ہے، میں اب تک کئی منازل طے بھی کی گئی ہیں۔سال1977کو کلچرل اکیڈمی میں پہاڑی زبان کا اعلیحدہ شعبہ قائم ہوا،سال 1989سے پہاڑی مشاورتی بورڈ https://www.jkpahariboard.org/about.phpقائم ہے۔پہاڑی قبیلہ کے طلبا وطالبات کے لئے ہوسٹلوں کا قیام ، پری وپوسٹ میٹرک اسکالرشپ ، آل انڈیا ریڈیو سرینگر سے پہاڑی میں خبریں، پروگرام، ایف ایم ریڈیو پونچھ سے پہاڑی پروگرام، بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے آٹھویں تک پہاڑی زبان میں نصابی کتابوں کو تیار کرنا، جموں یونیورسٹی میں پہاڑی مضمون متعارف کرنا،پہاڑی ریسرچ سینٹرکا قیام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔فاروق عبداللہ کے بعد جموں وکشمیر کے سبھی وزراءاعلیٰ، کئی گورنروں، کئی وزرااعظم، وزرا داخلہ، مرکزکی کمیشنوں،کمیٹیوں کی سفارشات میں پہاڑی قبیلہ کے دیرینہ مطالبہ کا ذکر ہے۔ چاہئے وہ جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ ہو، سہ رکنی مذاکرات کار، یک رکنی مذاکرات دنیشور شرما، پرائم منسٹر ورکنگ گروپ ہوں، ہرجگہ پہاڑی قبیلے کا نمایاں ذکر ملتا ہے۔پہاڑی زبان اور پہاڑی قبیلہ کے لوگ کن کن علاقہ جات میں رہتے ہیں، ا±ن کا منفرد ثقافتی، لسانی ونسلی خصوصیات کیا ہے، کوپہلے ہی وضع کیاجاچکا ہے۔ سال 2015کو محکمہ سماجی بہبود نے ’Socio-Economic‘سروے کیا اور 112صفحات کی تحقیقی رپورٹ پیش کی جس کو ریاستی کابینہ میں منظوری کے بعد حکومت نے اپنی سفارش کے ساتھ مرکزی حکومت کو روانہ کیا، اس رپورٹ میں پہاڑی قبیلہ کے لوگ، جغرافیائی حدو د حال، پہاڑی قبیلہ کا لوک ورثہ، ا±ن کی سماجی، اقتصادی تعلیمی صورتحال، شادی بیاہ ودیگر سماجی رسومات وغیرہ متعلق ہرچیز دلائل وحقائق کا تفصیل سے ذکر کیاگیاہے۔جموں وکشمیر بیکورڈ کلاس کمیشن نے بھی پہاڑی قبیلہ کے مطالبہ کی سفارش کی اور ان سب کی بنا پرایس ٹی ملنے تک جموں وکشمیر میںچار فیصد ریزرویشن پہاڑی قبیلہ کوپی ایس پی زمرہ کے تحت دی گئی ہے۔ ’پہاڑی ‘کو ایک اصطلاح کے طور استعمال کیاگیاہے، جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہرشخص جوپہاڑوں میں رہتا ہے ، وہ پہاڑی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو۔ پہاڑی قبیلہ کی اپنی منفرد لسانی، نسلی وثقافتی شناخت ہے ، جن کا مخصوص ثقافتی ورثہ، رہن سہن اور مخصوص علاقہ ہے۔پہاڑی قبیلہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آج اگر ایک سازش کے تحت تحت دیگر علاقوں کی طرف سے یہ آوازیں بلند ہوں کہ پہاڑوں پر رہنے سے وہ بھی پہاڑی ہیں، تو اِس کی جوازیت نہیں بنتی۔سال1989سے پہاڑی قبیلے کی ایس ٹی فائل مرکزی حکومت کے زیر غور ہے اور ہرنکتہ پر مفصل بحث وتمحیص ہوئی اوروقتاًفوقتاًمتعدد نکات پر جواب طلبی بھی ہوئی۔پہاڑی قبیلہ راتوں رات وجود میں نہیں آیا، اِس کا تاریخی پس منظر ہے، اِس کا شاندار ماضی رہا ہے ، بدقسمتی سے ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے یہ انصافی وزیادتی کا شکار رہا۔پہاڑی قبیلہ شیڈیو ل ٹرائب کے لئے مستحق ہے اور یہ بات حقائق ودلائل کے ساتھ ثابت ہوچکی ہے، مسند اقتدار کے گوش وگذار ہے جس کی توثیق واعتراف بھی ہوا ہے، اب صرف سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِس کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنا ہے جس کے لئے قبیلہ کی لوگ موجودہ حکومت سے پر ا±مید ہیں۔جموں وکشمیر کے پہاڑی قبیلہ کو ایس ٹی ملنا، یہاں کے دیگر قبائل کیلئے بھی فائیدہ مند ہے اور یہ خطے کی مجموعی بہتری کے لئے بھی ناگزیر۔اِس سے نہ کسی کی حق تلفی ہوگی، نہ کسی کی قبائلی شناخت کو خطرہ ہے۔پہاڑی قبیلہ لوگ انصاف کے متقاضی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کالم نویس صحافی اور وکیل ہیں
ای میل:altafhussainjanjua120@gmail.com

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 8 1 9
Users Today : 352
Users Yesterday : 386