جموں کشمیر میں خاص کر وادی میں منریگا سکیم کے تحت دیہی علاقوں میں کام ماند پڑ گئے ہیں جبکہ مزدوروں کو سو دنوں کا روزگار فراہم کرنے کے سرکاری دعوے بھی زمینی سطح پر کھوکھلے نظر آرہے ہیں کیوں کہ اکثر بلاکوں میں فنڈس کی عدم دستیابی کے نتیجے میں منریگا کے کام التواءمیں رکھے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق منریگا کے تحت دیہی علاقوں میں تعمیرو ترقی کے کام کا سلسلہ ماند پڑ گیا ہے اور اس سکیم کے تحت مزدوروں کو ایک سودنوںکا رازگار فراہم کرنے کے وعدے بھی زمینی سطح پر کھوکھلنے ثابت ہورہے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دیہی علاقوں خصوصاگاﺅں میں روزگار فراہم کرنے والی سرکار کی اہم اور دور رس اسکیم مہاتماگاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا )کا فنڈ ختم ہوگیا بلکہ ملک کی 21ریاستوں میں بجٹ سے زیادہ خرچ ہوچکا ہے ، جوبقایا کی صورت میں ہے۔فنڈختم ہونے کا مطلب صاف ہے کہ نئے فنڈ کے الاٹمنٹ سے پہلے لوگوں کو منریگا کے تحت کام اوراجرت نہیں ملے گی۔ظاہر سی بات ہے کہ اس سے لاکھوں کروڑوں مزدوروں کی پریشانیاں بڑھیں گی، ان کو گھرچلانا اوردیگر ضروری اخراجات کی تکمیل کرنا مشکل ہوجائے گا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی رواں مالی سال ختم ہونے میں 5ماہ باقی ہیں۔یعنی منریگا کے لئے بجٹ میں مختص فنڈنصف سال بھی نہیں چل سکا۔فنڈوقت سے پہلے کیسے ختم ہوگیا ، یہ لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ضرور ہوسکتا ہے لیکن سرکار کے لئے نہیں۔منریگا اسکیم کا مطلب روزگار کی گارنٹی اسکیم ،جو رائٹ ٹو ورک کے مقصد اورجذبہ کے تحت باقاعدہ قانون سازی کے ذریعہ شروع کی گئی تھی۔ قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005کے تحت یہ اسکیم 2فروری 2006کو ملک کے 200اضلاع میں شروع کی گئی تھی اوراپریل 2008تک تمام اضلاع میں نافذ کردی گئی۔ اس کے تحت روزگارحاصل کرنے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی رہی۔پچھلے مالی سال میں 11کروڑ سے زیادہ لوگوں کواسکیم کے تحت روزگار ملا جبکہ امسال اب تک 8.57 کروڑ لوگ فائدہ اٹھاچکے ہیں۔یعنی بڑی تعداد میں لوگوں کو منریگا کے تحت روزگار ملتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ بے روزگار ی کے اس دور میں اسکیم کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ اب اگر فنڈ کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو روزگار نہیں ملے تو ان کی پریشانی بھی کافی بڑھ جائے گی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ غیرضروری یازیادہ خرچ کی وجہ سے بجٹ کم پڑگیا یا ختم ہوگیا بلکہ فنڈ ہی ضرورت سے کم الاٹ کیا گیا تھا۔کورونا کے دور میں 2-2بار لاک ڈاﺅن کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کاروبار اورکارخانے بند ہوگئے۔ اس سے مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع کم ہوگئے۔ایسے میں ان کے لئے امید کی کرن منریگا اسکیم ہے۔ اس کا فنڈ ختم ہوجانافکرمندی کا باعث ہے۔بہرحال کوروناکے دوراوربے روزگاری اورمہنگائی کے حالات میں سپلمنٹری فنڈ الاٹ ہونا چاہئے،کیونکہ کروڑوں لوگوں کے روزگاراورگھریلومصارف کا مسئلہ ہے۔ورنہ بہت سے کنبوں کے سامنے 2 وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سی این آئی











Users Today : 380
Users Yesterday : 386