پونچھ//سری مستان ٹرایبل گجر ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک تعذیتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں فاؤنڈیشن کے ساتھیوں نے آن لاین شرکت کی۔ اس موقع پر ممبرس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے حال ہی میں دینی، سماجی و سیاسی شخصیات کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوے ان تمام مرحومین کے لیئے دعائیں کی اور تمام شخصیات کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ممبرس نے مفتی فیضی الوحید، گلزار کھٹانہ، امین قمر اور زاہدہ چوہدری کے اچانک انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیات کا اچانک جدا ہونے سے سماج میں ایک خلہ پیدا ہو گیا ہے اور ان جیسی شخصیات کا ایک ساتھ جدا ہونے سے بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ سری مستان ٹرایبل کے ممبرس بے تمام شخصیات کو خراج پیش کرتے ہوے ان کی دینی و سماجی خدمات پر بات کرتے ہوے کہا کہ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ سری مستان ٹرایبل گجر ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین چوہدری محمد اسد نعمانی نے آخر میں اپنی بات رکھتے ہوے کہا کہ مفتی فیض الوحید نے اپنی مختصر سی عمر میں جو دینی خدمات دی ہیں اس کی مثال دور دور تک نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی مرحوم نے ایسے تاریخ کام سرانجام دینے ہیں جو آنے والی کئی نسلوں تک یاد کۓ جاۓ گے۔ اسد نعمانی نے کہا کہ پسماندہ طبقہ کو قرانی تعلیمات دینے کی گرز سے قران پاک کا گوجری میں ترجمہ کرنا ان کی شخصیت کے اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اسد نعمانی بے چوہدری گلزار کھٹانہ کو یاد کرتے ہوے کہا کہ وہ ایک بےباک، نڈر، اور صاف گوہ شخصیت کے مالک تھے۔ جو کہ سیاسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین لکھاڑی، مقرر، اور ادبی شعور رکھنے والی شخصیت تھی۔ نعمانی نے امین قمر کو یاد کرتے ہوے کہا کہ امین قمر کی شخصیت میں بھی کئی خوبیاں چھپی ہوئی تھی۔ جہاں وہ ایک ماہرِ تعلیم، گوجری نثر نگار، بہترین مقرر تھے وہیں وہ کئ تحریکوں کو لیکر بھی چل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امین قمر صاحب نے سری مستان ٹرایبل کے وجود میں آنے سے آج تک ہماری رہنمائی کی اور راستہ دکھایا۔ اسد نعمانی نے زاہدہ چوہدری کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زاہدہ چوہدری سیاسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ملازمین لیڈر بھی تھی جنہوں نے اعلی سطح پر خواتین کی نمایندگی بڑی بڑی انجمنوں میں کی اور پسماندہ طبقہ کے ملازمین کے لئے انہوں نے ہمیشہ جنگ لڑی۔ اسد نعمانی نے کہا کہ زاہدہ چوہدری سری مستان ٹرایبل فاونڈیشن کی شعری کی رکن تھی اور سری مستان کور گروپ کا حصہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمیشہ ساتھیوں کے حوصلے بلند کرتی تھی۔ اسد نعمانی نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں ان اہم شخصیات کے جانے سے سماج کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے جس کی بھرپائ ناممکن ہے۔ انہوں نے تمام شخصیات کو خراج پیش کرتے ہوے کہا کہ آنے والے وقت میں ان سب کو خراج پیش کرنے کے لۓ سری مستان کی جانب سے سیمینار منعقد کیا جائے گا۔ آخر میں دعایا مجلس کے ساتھ اجلاس ختم کیا گیا۔











Users Today : 599
Users Yesterday : 386