Day: March 2, 2019

  • DEO Rajouri reviews election preparedness for upcoming elections*  Deadline set up for ensuring AMF at each polling station_

    DEO Rajouri reviews election preparedness for upcoming elections* Deadline set up for ensuring AMF at each polling station_

    GNS SPECIAL REPORTER

    Rajouri March,02: District Election Officer, Rajouri, Mohammad Aijaz Asad, today chaired a meeting with nodal officers and other officers associated with elections to review the preparedness for upcoming elections.

    ADC,Nowshera,Sukhdev Singh Sanyal,ADC,Sunderbans,Vinod Bhel,Additional DC koteranka,Ved Parkash, Additional SP,ACD,Akhter Qazi,Liaqiat Choudhary,ACR,Mohd Ashraf,Deputy District Election Officer,Rizwan Asger, EXN PWD,PDD,PHE ,tehsildar and other were present on the occasion.

    Threadbare discussion was held on various issues for smooth conduct of upcoming general election/State assembly elections 2019.The issues deliberated upon included functioning of District Contact Centres (DCCs), providing of necessary infrastructure for polling stations, status of polling stations and providing AMF at every polling station and functioning of various teams, facilities of webcasting in the polling stations, requirement and movement of EVMs/VVPATs, progress under SVEEP program, communication plan, transport facilities for polling parties, security management, imparting of training to the polling staff as per schedule and several other allied issues, related to the election process.

    DEO also reviews the status of DSEs Logical errors and other aspects like addition deletion and transposition of voters. EROs were directed to expedite the process and submit the report within two days.DEO also discussed the progress made under the bridging gender gap and directed the EROs to generate booth level awareness among the rural masses so that the vast gap can be mitigated.

    Regarding the training of polling personnel, the nodal officer training and manpower informed that the first phase of training has been concluded. The training was conducted constituency wise at different locations and were conducted by master trainers and the assembly constituency level master trainers. He further informed that around 5000 polling personnel have been trained so far.

    Nodal officer SVEEP informed that the special election vans Jashn-e jumariyat, exclusively flagged off for generation of awareness among voters and to acquaint them with the EVMs and VVPATs.He also informed that under SVEEP a total of 1200 ASHAs and Anganwadi workers were sensitised about the election process. He further said special awareness camps and nukad Nataks are being organised at different locations in association with J and K academy of art, culture and languages Rajouri.

    Regarding the Assured Minimum facility at each polling station,DEO directed RDD mad PWD for the construction of Ramps and set 10th March as the deadline.Similarly EXN PDD,PHE were directed to ensure power and water supply at each polling station. Regarding the construction of toilet education department was directed to conduct a survey and construct the toilet at each polling station by 10th of March and submit a compliance report.
    It is informed that there are 614 polling station out of which 65 have been categorised as hyper sensitive and 147 as sensitive polling stations.Similarly the ASP was instructed to deploy the police personnel accordingly.

    DEO asked the concerned officers to work in coordination and remain proactive for successful completion of ensuing elections.

  • Extension of winter vacations on the pattern of Kashmir demanded for Chenab Valley

    Extension of winter vacations on the pattern of Kashmir demanded for Chenab Valley

    GNS SPECIAL REPORTER

    BHADERWAH , Mar 2: Advocate Mohd Majid Malik , has made an appeal to the Governor Jammu and Kashmir Satya Pal Malik that the winter vacation for schools in Doda , Ramban , Kishtwar , Bhaderwah and other far-flung areas of Chenab Valley be extended further in view of the bad weather conditions in the area.In a statement issued here, today, Advocate Mohd Majid Malik said heavy snowfall has taken place in the hilly reaches of Chenab Valley and other parts of the districts and the students have to travel four to five kilometers by foot to reach the schools where there is no road connectivity.
    He said in view of the bad weather conditions and heavy snowfall the winter vacations on the pattern of Kashmir division be extended further so that the small children don’t face the problems.Malik said weather condition of Chenab Valley is same between Kashmir and Chenab Valley region of Jammu Province so there is dire need of extension of further winter action .

  • بھارت سونے کی چڑیا کیسے بنا حقائق جاننے کی کوشش کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

    بھارت سونے کی چڑیا کیسے بنا حقائق جاننے کی کوشش کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

    ….…………………………………

     

    کیا ہندوستان شروع دن سے ہی سونے کی چڑیا تھا یا اِسے باقاعدہ سونے کی چڑیا بنایا گیا تھا؟ کیا مغلوں سے پہلے بھی ہندوستان سونے کی چڑیا تھا؟ یا اسے سونے کی چڑیا بنانے میں مغلوں کا بھی کوئی کردار تھا؟ آئیے! حقائق تک پہنچنے کے لئے دنیا کے نامور محققین اور مورخین کی کتابیں کھنگالتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر کارل جے شیمتھ کو ہی لے لیں، ڈاکٹر کارل امریکہ کی سب سے قدیم جامعہ ساو¿تھ ڈکوٹا یونیورسٹی میں علم تاریخ اور سیاسیات کے استاد، تاریخ دان اور محقق ہیں۔

    ڈاکٹر کارل نے اپنی کتاب ”این اٹلس اینڈ سروے آف ساو¿تھ ایشین ہسٹری“ میں اُن لوگوں کو بالخصوص آڑھے ہاتھوں لیا ہے جو مغل شہنشاہوں اور مغلیہ سلطنت کا مذاق اُڑاتے نہیں تھکتے۔ اپنی کتاب کے صفحہ 45 پر ڈاکٹر کارل نے لکھا ہے کہ ”سترہویں صدی میں مغلوں کے دور میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی ایک بڑی معیشت تھی، جس کی وجہ سے ہندوستان دنیا کا خوشحال ترین خطہ تھا“۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اینگس میڈیسن نے ”عالمی معیشت اور تاریخی اعداد و شمار“ کے نام سے اپنی تحقیقی کاوش کے صفحہ 256 پر دیے گئے جدول میں بتایا ہے کہ ”سترہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی جی ڈی پی یعنی مجموعی ملکی پیداوار چین کی منگ سلطنت کے بعد دوسرے نمبر پر آتی تھی، اس وقت دنیا کی مجموعی پیداوار کا 22 فیصد ہندوستان میں پیدا ہوتا تھا اور یہ مجموعی ملکی پیداوار سارے یورپ کی مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ تھی، سترہویں صدی کے اختتام تک یعنی اورنگزیب عالمگیر رح کے دور میں یہ جی ڈی پی 24 فیصد سے زیادہ ہوچکی تھی جو کہ چین اور سارے یورپ کی مجموعی جی ڈی پی سے بھی زیادہ تھی“۔ یہی وہ دور تھا، جب اہل مغرب نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہنا شروع کیا اور پھر اچھے مستقبل کی تلاش میں باقاعدہ ہندوستانک ا رخ کرلیا۔ز

    از قلم میاں شیراز ازہری مغل
    گورسائی مہنڈر جموں وکشمیر
    انڈیا رابطہ 9682527586
    …………………

    ”یورپ کیوں امیر ہوا اور ایشیا امیر کیوں نہ ہوسکا؟ “ کے نام سے بوسٹن کالج کے پروفیسر ڈاکٹر پراسنان پراتھا سراتھی لکھتے ہیں کہ ”مغل دور میں ہندوستان مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا تھا“۔ اِسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹرجیفری گیل ولیم سن نے ”اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں صنعتی انحطاط“ نامی اپنی تحقیقی کاوش میں بتایا ہے کہ ”مغل دور میں ساری دنیا کی 25 فیصد مینوفیکچرنگ صرف ہندوستان میں ہورہی تھیں“۔

    ڈاکٹر اینگس میڈیسن نے ”عالمی معیشت اور تاریخی اعداد و شمار“ میں مزید لکھا کہ ”مغل دور میں ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں جس برق رفتاری سے اضافہ ہوا، اس کی مغلوں سے پہلے کے ہندوستان کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی! مغل دور کے پہلے دو سو سالہ دور میں ہونے والی ترقی ہندوستان کی معلوم تاریخ کی چار ہزار سالہ تاریخ کی ترقی سے سو گنا زیادہ تھی“۔ اسی طرح ڈچ مورخ لیکس ہیرما وین واس نے ”متحدہ ہندوستان کے ٹیکسٹائل یعنی کپڑے کی برامدکنندگان اور گلوبلائزیشن“ کے عنوان سے اپنی کتاب میں مغل دور کی معیشت کو جدید صنعتی دور کی اساس قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے صنعتی انقلاب سے پہلے یورپ انقلاب کی بنیادیں استوار کرچکا تھا۔

    اورنگزیب عالمگیر رح کے دور میں ہندوستان بلاشبہ سونے کی چڑیا بن چکا تھا، لیکن یہ سب کچھ ایسے ہی خودبخود ہی نہیں ہوگیا تھا، بلکہ اس کے لئے مغلوں نے مضبوط بنیادیں فراہم کردی تھیں۔ جنوبی کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور امور مغلیہ کے معروف عالم جان ایف رچرڈز نے اس کی تفصیل اپنی تحقیقی کاوش ”دی مغل ایمپائر“ میں رقم کی ہے، جان ایف رچرڈز کا کہنا ہے کہ ”ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے کے لئے مغلوں نے تین بنیادی کام کیے، اول سلطنت کے اندر شاہراہوں کا جال بچھایا گیا، مختلف علاقوں کو آپس میں پختہ سڑکوں سے ایسے ملادیا گیا کہ دہلی سے سلطنت کے کسی بھی حصے تک محض دو دن پہنچا جاسکتا تھا، دوسرا کام یہ کیا گیا کہ ملک میں ایک یکساں کرنسی رائج کی گئی اور سابق بیرونی حکمرانوں کی طرح درہم یا دینار رائج کرنے کی بجائے تجارت اور لین دین کے لئے مقامی کرنسی“ روپیہ ”کو رائج کیا گیا، اس سے روپے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت کومضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی بہت مدد ملی، جبکہ تیسرا اور سب سے اہم کام سارے ہندوستان کو متحد کرنا تھا“۔
    عالمگیر کے دور میں جب سارا ہندوستان تاج مغلیہ کے زیرنگیں آگیا تو ہندوستان حقیقت میں سونے کی چڑیا بن چکا تھا، جس کے بعد مغربی ممالک اپنی قسمت آزمانے کے لئے دھڑادھڑ ہندوستان پہنچنا شروع ہوگئے۔ ڈاکٹر کارل جے شیمتھ نے بھی اپنی کتاب میں جان ایف رچرڈز کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر کارل رقم طراز ہیں کہ ”مغلوں نے دنیا کا پہلا پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ہندوستان میں قائم کیا، جس کا مقصد ہندوستان میں سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کے منصوبے تیار کرنا، شاہراہیں تعمیر کرنا اور بعد از تعمیر اِن سڑکوں کی مکمل دیکھ بھال اور باقاعدگی سے مرمت کرنا تھا۔
    مغل دور میں ہندوستان کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہیں تھا، جو سڑکوں کے ذریعے اپنے اردگرد کے شہروں اور قصبات کے ساتھ نہ ملا ہوا ہو، سڑکوں کی تعمیر کا مقصد تجارت میں آسانی، روانی اور تیزی لانا تھا ”۔ گرینڈ ٹرنک روڈ کا بنیادی منصوبہ بابر کے دور میں بنا، شیر شاہ سوری نے اس پر عمل کیا اور بعد میں مغلوں نے جی ٹی روڈ کو اس دور کی“ موٹروے ”کے مطابق بنایا، یہی حال ملک میں بنائی جانے والی دوسری سڑکوں اور شاہراہوں کا بھی تھا۔

    مغلوں نے متحدہ ہندوستان کو جن بنیادوں پر دنیا کی مضبوط، بڑی اور بہترین معیشت کے قالب میں ڈھالا، وہ کسی بھی معیشت کی ترقی کے لئے بنیادی اجزا اور عناصر سمجھے جاتے ہیں، مغل سلطنت کے بنیادی اصول
    اس تحریر کا مقصد وہ حقائق سامنے لانا ہے، جن کا اعتراف مکمل غیرجانبدار محققین نے اپنی کتب میں کیا ہے، ہندوستان بجاطور پر مغل دور میں سونے کی چڑیا بنا اور یہ کام مغلوں نے کیا، لیکن صرف اپنے لیے نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لئے، حتیٰ کہ غیر ہندوستانیوں کے لئے بھی! یہ سونے کی چڑیا آنے والی دو صدیوں میں کس طرح زوال اور انحطاط کا شکار ہوئی، آئندہ تحریروں میں اس پر بات ہوگی، فی الحال اس تحریر کا مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی کہانی بہت رفتہ بھی نہیں ہے، بلکہ یہ ابھی کل کے متحدہ ہندوستان کی بات ہے! ہمارا یہ روشن ماضی اتنا قدیم بھی نہیں ہے جسے چھوا نہ جاسکے! یہ ماضی بعید نہیں ماضی قریب کی ہی کہانی ہے! اور بالکل سچی کہانی ہے، جس کا اعتراف مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہیں!

  • Constitution of CPCs finalised at Shopian*_

    Constitution of CPCs finalised at Shopian*_

    GNS SPECIAL REPORTER

    SHOPIAN MARCH 02:–The Development Commissioner of Shopian Dr. Owais Ahmad today, in a meeting with District Child Protection Officer Mohammad Shafait and other officials of ICPS, finalised constitution of Child Protection Committees at block and village level for smooth implementation of child care services envisaged under Integrated Child Protection Scheme and subsequent Juvenile Justice (Care and Protection) Act, 2013 and rules there under.

    The Block Level Child Protection Committees (BLCPCs) will work under the chairmanship of concerned Block Development Officers with Zonal Education Officers as member secretary and Block Medical Officer, Child Development Project Officer and Chairperson of Village Level Child Protection Committees i.e. elected representatives (sarpanches) as members. Besides the committees will have a civil society and a female representative as member to be nominated by Chairperson in addition to one representative from District Child Protection Unit.

    Meanwhile a Village Level Child Protection Committee will have an elected representative i.e. sarpanch as chairperson with Anganwari worker, ASHA worker, Village Level Worker, Chowkidar, a School teacher, a boy and a girl from village high/higher secondary school, a civil society representative and a female representative from same village as member.

    The committees, both at block and village level, will work in coordination with each other to identify children in need of care and protection specifically orphans, dislodged children, children involved in begging and child labour, children victims of natural calamities, militancy related incidents and cross firing, sexual abuse, drug abuse and those in conflict with law and communicate cases to DCPU for providing rehabilitative institutional based and non-institutional child care services. The awareness of children and common masses about child rights and their legal entitlements at grassroots level is also an important role attributed to the CPCs.

    Dr. Owais, while emphasising the role CPCs can play in curbing the crimes related to children, rehabilitation of dislodged children besides propagating and safeguarding rights of children, directed the DCPO to conduct a series of workshops and orientation programmes for CPC members at block and village level.