GNS ONLINE NEWS PORTAL

ہم اہل قلم کیا ہیں ؟

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

یہ شکل یہ صورت ہے، سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسے کی ضرورت ہے

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

اپنا ہی بَھرم لے کر، اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں …کہ لکھتے ہیں، انسان کا غم لے کر

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اَسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

اَوصاف سے عاری ہیں ، نُوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پُجاری ہیں ، لفظوں کے مداری ہیں

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

تصویرِ زمانہ ہیں ، بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے، ہر اِک کا نشانہ ہیں


ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

رَہ رَہ کے ابھرتے ہیں ، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں ، کہتے ہوئے ڈرتے ہیں

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

بے تیغ و سناں جائیں ، با آہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطاں ہیں ، جائیں تو کہاں جائیں ؟

ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟

شورش کاشمیری

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 2 7 9
Users Today : 190
Users Yesterday : 622