GNS ONLINE NEWS PORTAL

کچھ باتیں کچھ یادیں

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

نسیم اختر(چنور،جموں)

یہ ُان دنوں کی بات ہے جب میں اسکول کی طالبہ تھی ۔ابو ّجی جہاں ہماری تعلیم کی طرف خاص دلچسپی دکھاتے تھے وہیں امی گھرکے کام کاج کی بھی تلقین کرتیں ۔ امی کاکہناتھاکہ لڑکیوں کو ہرگن میں پوراہوناچاہیئے ۔ تعلیم کے زیورسے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ گھرگرہستی,نظم ونسق سے بھی واقف ہونا چاہیئے ۔ہم بھی اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔میں ہرکام بہت خوبصورتی سےسر انجام دیتی۔خاص طورپرگھرکوسجانے سنوارنے اورصاف ستھرارکھنے کاکام بخوبی انجام دیتی تھی۔ وہیں میری امی میری چپاتی بنانے کولے کر میری بہت تعریف کرتیں اورکہتی چپاتی تم مجھ سے بھی اچھی بنالیتی ہواور تمسے بہتر کسی کو بناتے نہیں دیکھا. امی جب بھی یہ بات کہتیں میں بظاہر تو کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتی لیکن اندر ہی اندر خوشی سے جھوم اٹھتی تھی۔ہاں ایک کام تھا جس سے میں ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتی رہتی اوروہ تھا کپڑے دھونے کاکام۔ ان دنوں واشنگ مشین عام نہیں تھی اورمشین کااستعمال کاہلی سمجھاجاتاتھا۔میں جتناکپڑے دھونے کے کام سے بچنے کی کوشش کرتی ۔امی اتنی ہی تلقین کرتی کہ میں کسی کام میں پیچھے نہ رہ جاﺅں ۔ دراصل کپڑے دھونے کے صابن سے میرے ہاتھوں کی جلد متاثر ہوتی اور چھِل جاتی تھی اورہلکے زخم اُبھرآتےتھے ۔امی کے کہنے پرایک دن میں نے ڈھیرسارے کپڑے دھوئے اور انہیں رسی پرسوکھنے کے لئے ڈال رہی تھی کہ سامنے بیٹھے اخبارپڑھتے ابوجی نے بڑے پیارسے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔آج میری بیٹی نے صبح صبح بہت کام کیا ہے۔میں مُسکرا کر ابوجی کے پاس کرسی پربیٹھ گئی۔اورابوجی کواپنے ہاتھ دکھانے لگی جن کی رنگت یوں تو گوری اورجلدنازک تھی مگراس وقت یہ ہلکے گلابی اور زخمی بھی تھے ۔ابوجی نے چونک کرپوچھایہ کیاہوا ۔میرے ہاتھوں کی جلد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جوایک دوجگہ سے چھِل چکی تھی ۔
میں نے بڑی حلیمی سے جواب دیا۔ابوجب بھی میں کپڑے دھوتی ہوں میری جلدچھِل جاتی ہے اوردوتین دن دردبھی رہتاہے ۔ابو جی بولےتم نہ دھویا کرو کپڑے۔پاس کھڑی امی کی طرف دیکھ کرکہا اسکے ہاتھوں کی حالت تو دیکھو ۔کوئی میری بیٹی سے کپڑے نہ دھلوائے۔امی مُسکرا کر بولیں, میں نہ بھی دھلواﺅں لیکن جب سسرال جائے گی توکیاملازم ساتھ بھیجیں گے اور کام کاج میں لڑکیوں کا کامل ہونااشدضروری ہے ورنہ سسرال جاکر مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔حالانکہ ابو بھی اسی نظریہ کے قائل تھے لیکن اس وقت شاید بیٹی کی محبت اورجذبات غالب آگئے تھے ۔ایک پل خاموش رہے اورپھربولے ملازم نہ بھی بھیج سکوں مگرواشنگ مشین بھیج دوں گا اسکے ساتھ اور پھر اپنی بیٹی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے میں نے اور میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولے” یہ ہاتھ قلم پکڑنے کے لئے ہیں۔کپڑے دھونے کے لئے نہیں”۔آج سوچتی ہوں باپ کتنے مجبور ہوتے ہیں ۔اس وقت ان کی بے بسی محسوس کی تھی میںنے۔ ان کے پاس کسی چیزکی کمی نہیں تھی مگر پھربھی وہ یہ نہ کہہ سکے تھے کہ نہیں بھیجوں گا اسکو سسرال.یہ یہیں رہے گی۔باپ کی سلطنت کتنی بھی وسیع کیوں نہ ہو۔لیکن شاید بیٹی کی ذات اس میں نہیں سماسکتی اور معلوم نہیں کیوں بیٹیوں کے لیے وہ کم پڑجاتی ہے۔
خیرکچھ سالوں بعدمیری شادی ہوگئی۔خدامجھ پربہت مہربان رہا۔ میں جلدی ہی اپنے سسرال والوں میں گھُل مِل گئی ۔یہاں مجھے بہت محبت کرنے والے اورچاہنے والے لوگ مِلے۔ اپنے شوہرکی صور ت میں ایک بہت عمدہ اوراعلیٰ ظرف انسان کوپایااوراُنہوں نے مجھے زندگی کی ہرآسائش فراہم کی۔میرے سُسرال میں سب میرے مطابق ہوتا رہا۔کبھی کسی نے اپناکوئی حکم ،سوچ یاعمل مجھ پرمسلّط نہیں کیا۔کئی بارخیال آتاہے کہ امی کی اتنی فکر بے سودتھی۔ خیراب وہ زمانہ نہیں رہا۔ہرگھرمیں Washing Machine آگئی اورLaundary یا ملازم وغیرہ رکھنے کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ابوبھی دُنیائے فانی سے رخصت ہوگئے.آہستہ آہستہ سب بدل گیا. ہاں ایک چیز جو بالکل نہیں بدلی اورآج بھی ویسی ہی ہے ۔وہ یہ کہ جب کبھی کچھ کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھوتی ہوں توہاتھ چھل جاتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ اب میں وہ زخم کسی کونہیں دِکھاتی ۔ایک دودِن میں خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں. مگرجب کبھی اُن میں ہلکا سا دردمحسوس کرتی ہوں تو آنکھوں میں نمی سی آ جاتی ہے اور بے ساختہ کانوں میں کچھ الفاظ گونجنے لگتے ہیں.
”کوئی میری بیٹی سے کپڑے نہیں دھلوائے گا ۔یہ ہاتھ قلم پکڑنے کے لیے ہیں ۔کپڑے دھونے کے لیے نہیں“۔

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 5 9 4
Users Today : 127
Users Yesterday : 386