GNS ONLINE NEWS PORTAL

 ڈاکٹر حسیب مغل صاحب علم، کردار اور خدمت کا روشن چراغ

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل 

 ڈاکٹر حسیب مغل، ڈی آئی جی پولیس صرف ایک اعلیٰ پولیس آفیسر نہیں بلکہ علم و عمل کا وہ روشن چراغ ہیں جو جہاں بھی جائے وہاں روشنی بانٹتے گئے خطۂ چناب کی سرزمین سے نمودار ہونے والی علم کی یہ شمع ریاست کے طول و عرض میں اپنی سماجی طور پر زرخیز بنانے کی مسلسل کوشش کرتی رہی
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی علمی بصیرت ہے وہ جہاں بھی تعینات ہوتے رہے محض انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنے علم، تجربے اور فہم و فراست کے ذریعے اداروں کو مضبوط بنایا افراد کو باخبر اور معاشرے کو باوقار بنانے کی عملی جدوجہد میں رہے ان کے نزدیک پولیس صرف ایک فورس نہیں بلکہ عوامی خدمت اور سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔

محکمۂ پولیس میں ڈاکٹر حسیب مغل کا نام نہایت با وقار، قابل احترام اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر جانبدارانہ عمل ہے کہ خود محکمۂ پولیس بھی ان پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ان کی قیادت میں پولیس کا وہ چہرہ نظر آتا آیا جو عوام کے لیے خوف نہیں بلکہ اعتماداور تحفظ اور انصاف کی علامت ہے
جمون کشممیر ریاست کے مختلف حساس اضلاع میں بطور ایس ایس پی خدمات انجام دینا کوئی معمولی بات نہیں، مگر ڈاکٹر حسیب صاحب ان مشکل ذمہ داریوں کو نہایت حکمت، صبر اور استقامت کے ساتھ نبھایا۔ ان اضلاع میں ان کی کامیاب کارکردگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پولیس پر عوام کا اعتماد بحال ہوا، قانون کی عملداری مضبوط ہوئی اور امن و امان کی فضا بہتر ہوئی۔

عمل، تقویٰ اور پرہیزگاری ان کی زندگی کا بنیادی وصف ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کے معاملے میں ان کی حساسیت اور احتیاط مثالی ہے۔ ان کی ذات میں دین اور دنیا، اختیار اور انکساری، قانون اور رحم دلی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ اقتدار کو خدمت اور طاقت کو امانت سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر حسیب مغل شفقت، محبت، عزت اور احترام کو محض الفاظ نہیں بلکہ عملی ہتھیار سمجھتے ہیں ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک، بزرگوں کا احترام اور نوجوانوں کی رہنمائی ان کے کردار کا لازمی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی حلقوں میں بھی نہایت قابلِ تعظیم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ریاست میں سب سے پہلے منشیات کی دستک کو سمجھا اور اس کے خلاف قدم اٹھایا جو ان کی زہانت کا عکس تھا شواہد کے مطابق ان کی قیادت میں جدید اور عوام دوست سہولیات کو فروغ ملا، پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوئے اور ایک ایسا نظام سامنے آیا جس میں قانون کی سختی کے ساتھ انسانی ہمدردی بھی شامل تھی۔ ڈاکٹر حسیب مغل کی شخصیت اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ اگر علم کردار اور نیت درست ہو تو وردی بھی عبادت بن جاتی ہے

ڈاکٹر حسیب مغل ڈی آئی جی پولیس ہماری ریاست کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں جن پر ادارہ بھی ناز کرتا ہے اور عوام بھی۔ وہ علم کا چراغ کردار کی روشنی اور خدمت خلق کا درخشاں ستارہ ادب پر گفتگو کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ ان کے ہونٹوں سے موتیوں کی صورت ٹپک رہے ہوں ان کی زبان میں شائستگی، بیان میں روانی اور فکر میں گہرائی ہوتی ہے۔ وہ ادب کو انسان کی تہذیب، شعور اور اخلاقی تربیت کا آئینہ سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو سن کر محسوس ہوتا ہے کہ ادب انسان کو نرم دل، باوقار اور مہذب بناتا ہے۔

جب وہ وطن کی محبت کا درس دیتے ہیں تو ان کا انداز نہ نعرہ بازی اور نہ جذباتی مبالغے پر بلکہ دلیل، تاریخ اور قربانیوں کی روشنی میں دلوں کو گرماتا ہے۔ وہ وطن کو مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ امانت، شناخت اور نسلوں کے مستقبل کا ضامن قرار دیتے ہی ان کی گفتگو سن کر حب الوطنی ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بن جاتی ہےاور جب وہ اس عظیم حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو ان کا بیان محض مذہبی وعظ نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بن جاتا ہے۔ وہ انسان کی عزت، اس کے حقوق، اس کی ذمہ داریوں اور اس کے کردار پر اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا خود احتسابی پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے ساتھ جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں عدل، امانت، رحم، دیانت اور جواب دہی یہ سب وہ اپنے اوپر عائد کرت ہیں پھر تبلیغ کرتے ہیںن ان کو وہ ایسی فکری پختگی کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ بڑے بڑے علماء بھی رشک کرتے ہیں اور ان کے کلام سے سبق حاصل کرتے ہیں

یہ میری پچھلے ڈیڑھ دشک سے ان کے متعلق جانکاری گفتگو و ان کے بیانات کا عکس ہے کہ ڈاکتر حسیب مغل صاحب محض ایک پولیس افسر نہیں رہتے بلکہ معلم، مفکر اور مصلح کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ان کی گفتگو دل کو چھوتی ہے، ذہن کو بیدار کرتی ہے اور روح کو جھنجھوڑتی ہے۔ وہ علم کو عمل سے طاقت کو اخلاق سے اور اختیار کو جواب دہی سے جوڑنے کا ہنر جانتے جناب ڈاکٹر حسیب مغل صاحب کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے ہر جملہ اصلاح کا پیغام دیتا ہے اور ہر گفتگو انسان کو بہتر انسان بنانے کی طرف ایک قدم آگے بڑھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی بات صرف سنی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے علمائی جاتی ہے اور یہی ایک عظیم شخصیت کی پہچان ہے

لیاقت علی چودھری 705107054

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 8 6 3 9 6
Users Today : 13
Users Yesterday : 159