GNS ONLINE NEWS PORTAL

چھترال سے لوہرکالابن سڑک خستہ حالی کا شکار. ایک سال گزرنے کے بعد تار کول اکھڑ گئی محکمہ ہوش کے ناخن لے

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

۔۔۔تنویراقبال قریشی

مینڈر//کسی بھی علاقہ کی تعمیر و ترقی میں رابطہ سڑکیں پُل کا کام کرتی ہیں لیکن تعمیرو ترقی کے پُل کی حالت بھی مستحکم ہونی چاہیے تب جا کر ہی یہ عمل مکمل ہوتا ہے ۔مینڈر تا لوہرکالابن سڑک گزشتہ سال بنائی گئی تھی مگر ا یک سال گزرنے کے بعد خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے ہر روز علاقہ کے عوام کو اسی دشوار گزار راستہ سے گزر کر اپنی منزلوں کی طرف مجبوراً جانا پڑتا ہے ان باتوں کا اظہار تنویر اقبال قریشی نےکیا۔۔قریشی نے کہا کہ اگر چہ موجودہ دور میں عوام کو گھر کی دہلیز پر رابطہ سڑک کی سہولیت فراہم کرنے کی دعویٰ کئے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر حالات بلکل مختلف ہیں۔مہنڈر کی بیشتر آبادی دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقیم ہے اور تحصیل صدر مقامات کی دوری بھی بیس کلو میٹر سے زائد ہے ۔تمام سڑکیں اپنی بدحالی پر حکمرانوں کے لئے بے بسی کے آنسوں رو رہی ہیں ۔مہنڈر سے پٹھانہ تیر کی طرف جانے والی سڑک اگر چہ اس پر کشادگی کا کام شروع کیا گیا ہے لیکن کا کام کئی برسوں سے چل رہا ہے جو مکمبل نہ ہو سکا اس سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے لوگ گوناگوں مشکلات سے دو چار ہیں۔اور درمیانی گاؤں نڑول ۔چکبنولہ۔ کی طرف جانے والی سڑک سیدھے آسمان کی طرف جاتی ہے ۔تین سو کے قریب گھروں پر مشتمل تین ہزار سے زائد آبادی والے گاؤں کے لئے کئی برس پہلے سڑک کا کام شروع کیا تھا اُس وقت عوام میں ہر سو خوشی کی لہر تھی کیونکہ اس علاقہ کو قدرت نے حسین جمیل کوہساروں کے دامن میں پناہ دی ہے ہر طرف دیوداروں سے نکلنے والی ٹھنڈی فضائیں لوگوں کے روح کو دلی سکون پہنچانے کا کام کرتی ہیں ۔ لیکن جب حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی سہولیت کی باری آتی ہے تب وہ مور والی کہاوت سامنے آ جاتی ہے ۔کیونکہ وہ گاؤں کی خوبصورتی سے تو َخوش ہو جاتے ہیں لیکن جب پاؤں کی طرف یعینی سڑک سہولیت کی طرف نظر جاتی ہے تو مایوسی چھا جاتی ہے ۔یہ بات سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ جب حکومتی سطح پر سڑکوں کو تعمیر کرنے کے جب منصبوبے تیار کئے جاتے ہیں تب وہ لوگ کیوں سڑک کو تعیمر کرنے کے بعد کے لائے عمل طے نہیں کرتے ہیں ۔مذکورہ سڑک پر تاحال ایک بار بھی تار کول نہیں بچھایا گیا ہے ۔علاقہ کے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور حکومت سے یہ گلہ شکوہ رکھتے ہیں کہ کیوں غریب عوام کی قدر صرف انتخابی میلے کے دوران کی جاتی ہے جیسے کسی ہے جانور کی بلی چڑھانے کے وقت کی جاتی ہے ۔پھر مطلب نکل جانے کے بعد اُس کا ذکر تک کیا جاتا ہے۔ویسا ہی حال مہنڈر کے سیاست دانوں حکمرانوں نے عوام کے ساتھ کیا ہے ۔یہاں آفیسر شاہی عروج پر ہے اور عوامی مسائل کو لے کر جب آوازیں اُٹھتی ہیں اُس کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا تو عوامی غصّہ کو ٹالنے کے لئے جھوٹے دلاسے دئیے جاتے ہیں ۔

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 2 6 4
Users Today : 175
Users Yesterday : 622