GNS ONLINE NEWS PORTAL

پگ اور پگ کی لڑائی کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے پہاڑی قبیلہ اور اس کا پیدائشی حق

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

اس میں کوئی شک نہیں پگ ایک عزت وقار غیرت کی نشانی تصور کی جاتی ہے جو مختلف جگہوں پر مختلف رنگ ،قد ،قامت اور تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتی ہے اور اس کو ہر جگہ افتخار کی نشانی سمجھا جاتا ہے اصل میں پگ کے بارے میں کچھ تاریخی شوائد جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پگ کب سے شروع ہوئی اس کا تہذیب و تمدن کے ساتھ کیا رشتہ تھا ۔۔سب سے پہلے پگ ہوتی کیا ہے
ایک مخصوص قسم کا کپڑا جو سر پر باندھا جاتا ہے اسے پگڑی ،پگ ،صافہ ،کیسکی ،دستار،عمامہ(جب اس کے اندر ٹوپی رکھی جائے ) کہتے ہیں ۔۔یہ بر صغیر اور ،جنوب مشرقی ایشیا ،عرب امارات ،مشرق وسطی ،وسطی ایشیا ،مشرقی بلکان قفقار ،مغربی اور شمالی افریقہ ،ترکی ،روس اور اشکنزی کے یہودی استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ اگر اس کی ابتداءکی بات کی جائے اس کی ابتداء کیسے ہوئی اس کے بارے میں تاریخی شوائد کا فقدان ہے مگر اثار قدیمہ کے وافر تعداد میں شوائد ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ آثار قدیمہ کے جتنے تمدن ہیں ان میں اس کا پایا جانا ثابت ہے چاہئے وہ قدیم ہندوستان کی تہزیب ہو  Mesopotamia, کی ہو Sumerian, کی ہو یا babylonian کی ہو ،اس میں پگڑی کا تصور ہے یہی تاریخی شوائد ہیں حتی کہ ایک خاص قسم کی پگڑی جس کو پھاکیولی کہتے تھے Byzantine کی آرمی اور عوام 400 تا 600 پہنتے تھے جس کے شوائد یونانی فرسکوز میں ہیں جہاں

بیسویں صدی عیسوی تک یہ پہنی جاتی تھی ۔۔
۔اگر مذہب اسلام کی بات کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ پہنا کرتے تھے جو عموما” سفید رنگ کا ہوتا تھا اسی تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو یہ بات 570 تا 632 کی ہے اور آج تک امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بطور سنت چلی ا رہی ہے یہی عمامہ ( پگڑی کے اندر اگر ٹوپی کا استعمال ہو ) علماء، صوفی اولیا اکرام ،مسلمان بادشاہ اور اہل علم اسلام میں پہنتے ائے اگر چہ بعد میں مسلمانوں نے الگ الگ رنگ کی پگ استعمال کرنے لگے مگر اج تک یہ سنت چلی ا رہی ہے ۔۔۔جیسے مسلمانوں میں مختلف رنگ مختلف قسم کے مسالک کی نشاندہی کرتے ہیں بلکل افریقہ میں یہ رنگ مختلف اقوام کے لئے استعمال ہوتے ہیں
مختلف قد و قامت رنگ کی پگ مختلف جگہوں پر پہنی جاتی ہے وہ وسطی ایشیاء ہو افریقہ ہو ،مسلمان ہوں عیسائی ہوں ہندو برہمن و راجپوت ہوں ،سکھ ہوں ۔اسی طرح افغانی ہوں ،یورپ میں ستار ویں اٹھارویں صدی ہو ،برصغیر ہو ،نیپال ہو بنگلہ دیش ہو ،بالنیزی ہوں ،انڈونیشیا کے ہوں ،ملیشیا کے ہوں عرب وعجم کے ہوں یہ پگ پہنی جاتی ہے

اج بات کرنا چاہتا ہوں پیر پنچال اور پگ
جموں کشمیر سرکار نے 1990میں پیر پنچال میں ایک ہی کلچر ایک ہی پہنوا ایک ہی جغرافیائی جگہ ایک جیسی مشکلیں ایک جیسا پانی ایک جیسی اقصادیت ، ،ایک جیسی غربت ایک جیسا احتصال ہونے والے لوگوں میں ایک طبقہ گوجر بکروال کو مختلف قسم کے شبعہ جات میں مخصوص درجہ دیا گیا جب کہ دوسری طرف باغ میں مختلف پھول جن میں ہندو مسلمان ،سکھ، عیسائی کو نظر انداز کیا گیا جن کو پہاڑی کہا جاتا ہے ۔۔پہاڑی اپنی لڑائی 1972سے لڑتے ا رہے ہیں جن کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا اس کی وجہ یہ بھی رہی کہ جہاں کی سرکار کے منتری رہے ان کو پہاڑی اور گوجر زبان میں فرق ہی محسوس نہ ہوا 1941 کے بعد سروے بھی دونوں کا یکجاہ کیا گیا جس سے پہاڑی شناخت ختم ہو گئی ۔۔۔اس شناخت کے بھینٹ وہ لوگ بھی چڑھے جنھوں نے 1947 کی اذیت ناک ہجرت دیکھی تھی ۔۔ وقت گزرتا گیا پہاڑی گوجر ایک سیاسی ووٹ بٹورنے کا ہتھیار استعمال ہوتا رہا ۔جس طرح تیز پتا ہم سالن میں ڈالتے ہیں پھر اس کا ذائقہ لئے کر کھاتے وقت دسترخوان پر ڈال دیتے ہیں پھر باہر کوڑے دان میں یہی کچھ پہاڑیوں کے ساتھ ہوا ۔الیکشن میں استعمال کیا پھر پھینک دیا ۔۔۔اگر باڈر کو دیکھا جائے دونوں

برادریاں برے طریقے سے متاثر ہیں ۔۔
اسی لڑائی نے 2020 میں اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب پہاڑیوں کو چار فی صد کا مخصوص درجہ دیا گیا مگر اس کو شیڈول ٹرائب میں داخل نہ کیا یہ بات اج آکر وزیر خارجہ امت شاہ کے سامنے پیش کیا گیا جس میں پہاڑی لوگوں نے تین قسم کی پگ باندھی تھی ،ایک پگ جس کے اندر ٹوپی یا کلہ تھا ،دوسرے پیلے اور لال رنگ کی جس کی شروعات مہارجہ کے دور میں ہوئی تھی اور اجتک راجپوت اس کو پہنتے ہیں ،تیسری بغیر ٹوپی کے ۔۔جب کہ تینوں میں کپڑے کا کچھ حصہ لٹکا رہتا ہے ۔۔اس پر بات شروع ہو گئی یہ گوجر پہنتے ہیں پہاڑی پہنتے ہیں ۔۔جن ممالک کا اوپر زکر کیا گیا ہےوہاں سے جتنے لوگ ائے ہیں پگڑی ان کے تہزیب میں ہے مزہب میں ہے جو افریقہ سے ائے ہیں ان کی ذاتوں میں مختلف رنگ سے ہیں ۔۔۔۔اب اندر سے ٹوپی والی پگڑی مسلمانوں کے لئے سنت ہے ،اور مہاراجہ رنگ کی راجپوتوں کی تہذیب ہے ،بغیر پلو لٹکائے ہوئے ہندو براہمن کی ہے ،اللہ بھلا کرے کپڑے کی فیکٹری والوں کی جس نے رنگ برنگی بھی بنائی ۔۔اس میں کوئی شک نہیں جہاں کپڑے کی میلز ہوں گی وہاں اس کپڑے کا رواج زیادہ ہو گا ۔۔۔
ایک شعر کسی نے پوسٹ کیا تھا بہت ہی موزوں لگتا ہے اس پگ کی لڑائی کے تناظر میں وہ کہتے ہیں کسی شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے

شیشے دلوں کے ،گرد تعصب سے اٹ گئے
روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

اظہار کا دباو بڑا ہی شدید تھا
الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی میرا مکاں گرا بادل چھٹ گئے
افسوس تب ہوتا ہے جب اس کا شکار پڑھا لکھا طبقہ ہوتا ہے اجکل فیس بک پیجیز اس سے بھرے پڑے ہیں کہ یہ پگڑی فلاں طبقہ کی ہے یہ فلاں طبقہ کی ہے اور سب لوگ یہ تاثر دئے رہے ہیں کہ ہم بات کو بڑا کر اچھال کر ایک کریں گے سب شہر میں تاریکیوں کی بات کرتے ہیں مگر انصاف کا چراغ کون بنائے کاٹھ کی بلی میاوں نہیں کرے گی جتنا مرضی زور لگاو گے ۔۔کم از کم اپسی اتحاد بھائی چارہ تو قائم رکھو ۔۔یہ بڑے لوگ عام ادمی کا جینا حرام کریں گے خاص کر سیاست دان اور پڑھا لکھا طبقہ جو جانے بغیر کچھ بھی لکھتا رہتا ہے

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 8 0 7
Users Today : 340
Users Yesterday : 386