سماج کے اندر ہر طرف صنف نازک کے ساتھ ظلم و زیادتی کا بازار گرم رہتا ہے۔ گھریلو تشدد کے ساتھ ساتھ سماج کی بے راہروی نے ہمیشہ سے ہی ہوا کی بیٹی کو مجبوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا ہے۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کا تشدد بہت گہرے نقوش چھوڑے ہوے ہے جس پر مزید کدو گن لگانے کے بجائے نیے دن کوئی نئی صنف نازک اس تشدد کے شکار ہوتی ہے اور لقمہ اجل ہوجاتی ہے اس میں اس کے ساتھ تشدد، مارپیٹ سے لےکر زندہ جلا دیا جاتا ہے یا پھر جلنے پر مجبور کر دیاجاتا ہے یا دریا میں چھلانگ لگا دینے جیسا راستہ اختیار کر لینا اس کے علاوہ کوئی زہریلی دوا نگل کر اپنے آپکو اور اپنے معصوم بچوں کو دنیا کے اس ظلم سے ہمیشہ کے لیے خاموش کرلیتی ہے۔ دوسری طرف طلاق کے معمالات بھی عروج پر ہیں۔ تشدد تہمت اور دہہج میں موٹی رقم وموٹرکار نہ ملنے پر بھی دلہن کو سسرال میں آرپار کی جنگ کا سامنا کرنا ہے۔ ایسے تشدد غیر شرعی و غیر قانونی زیادتیوں کا دین کے اندر زرا بھی گنجائش نہ ہے۔
چند روز قبل درہال کے علاقہ میں انسانی روح کانپ جانے والا ایک نیا واقع پیش آیا۔ چند ماہ قبل ایک بیٹی شادی جیسے عظیم بندھن میں باندھ کر والدین کے گھر سے نئی زندگی ونیاگھر آباد کرنے کے لیے ڈولی میں بیٹھا کر اپنوں نے ایک اجنبی شخص کے حوالے کردیا تھا۔ اس صف نازک کی عمر صرف بیس سال تھی جو اس نے اپنے ماں باپ کے گھر بڑے ناز نخرےکےساتھ بسر کیے تھے۔ لیکن اس کو کیا معلوم کہ آنے والی زندگی اس کے لیے ایک آزمائش والی شروع ہونے والی ہے جس میں اس کے لیے خوشیاں نہیں بلکہ موت لکھی ہے ۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کہ یہ صاحبہ کی ہنستی کھیلتی زندگی خاموش ہو گئ اور ہر مکتبہ فکر کے لیے بہت اہم سوال چھوڑکر چلی گئی۔ یہ سوال ہر انسان کہ زہن میں گونج رہے ہیں۔ کہ اس بچی کا کیا قصور تھا اس کی زندگی کا پھلنے پھولنے کے بجائے خاتمہ کیوں ہوگیا۔ یہ آج شہر خاموشاں میں اور جنت کے باغوں میں ضرور سیر کر رہی ہے۔ لیکن سماج کے لیے ایسے گہرے نقوش چھوڑ گئی ہے۔ ہر بیٹی کے والد کو اپنی بیٹی کےساتھ انصاف کرنے کے لیے بیقرار کر گئی ہے۔ ہر بھائی کو اپنی بہن کے مستقبل میں ایسے دور سے نہ گزرنا پڑے اسے سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ درہال کے قصبہ میں ہر طرف انصاف کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ صاحبہ کوثر تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں ہم شرمندہ ہیں یہ نعرے وادی کے پہاڑوں سے ٹکرا رہے ہیں
یہ جزبہ عوام درہال کا دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی تبدیلی جو انسانی سوچ عورتوں کے متعلق سماج میں ہے اس میں نمایاں تبدیلی ہے۔ یہ انصاف کے نعرے یہ سڑکوں پر احتجاج یہ انتظامیہ سے صوبیا کےساتھ انصاف کرنے کی اپیل مردوزن کا بیٹی کے لیے فلک شگاف نعرے اس بات کی گوہی دیتے ہیں کہ سماج ابھی بھی ناانصافی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ احتجاجی ریلیاں یہ جلوس ہماری ہر ایک صنف نازک کی بقاء اور اس زندگی کی ضمانت ہے۔
صاحبہ تو چلی گئی اب واپس نہیں آسکتی لیکن عوامی ہجوم ، نوجوانوں کی پکار، بزرگوں کا احتجاج اس بات کی گواہ ہے کہ آئندہ کوئی بھی درندہ کسی صنف نازک کی عزت کو چاک کرنے سے قبل سو بار ضرور سوچے گا۔ کوئی بھی قاتل کسی معصوم پر تشدد ڈھانے سے قبل اپنی فکر ضرور کرلے گا۔ یہ احتجاج وادی درہال کو آواز دے رہے ہیں۔ اگر کوئی ایسا گناہ آئندہ سرنجام دینے کی کوشش کرے گا تو سماج اسے برداشت ہرگز نہ کرے گا۔ سماج کے اندر ایسے ناسور کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ جہاں ہوا کی بیٹی کی عزت تار تار کی جارہی ہے۔ جہاں بچیوں کو زندگی سے بہتر موت کو گلے لگانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ جہاں ان کا ہنستا کھیلتا روشن مستقبل مسل کر رکھ دیا جاتا ہے ایسے وحشی صفت انسان کی اس وادی کے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس بیدری کی جنبش کو دیکھ کر بہت سکون حاصل ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جو درد رکھتا ہے یہ فرشتہ صفت انسان ہفتوں سے جو درہال کی سڑکوں پر احتجاج شکل میں دکھائی دے رہے ہیں قوم کے اصل ترجمان اصل وارث یہی کہلاتے ہیں۔ اب سچ اور جھوٹ میں ثبوت ہی کام آئیں گے۔ لیکن جتنے بھی ثبوت ہیں وہ جھوٹ کو سچ کرنے میں کردار ادا کریں گے سچ تو بس تنہا ہی رہ جاے گا۔
اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس عطاء فرمائے اس کے ساتھ ساتھ سماج کی تمام بچیوں کی جان وعزت کی حفاظت فرمائے۔ اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچاے۔ لیاقت چودھری 9419170548











Users Today : 580
Users Yesterday : 386