خواجہ اعجاز
آج مسلمان ساری دنیا بالخصوص ہندوستان میں تکلیف دہ دور سے گزررہے ہیں۔ہمارے قائدین ورہنما اپنی دکانیں چمکانے میں اورپیسے بنانے میں لگے رہے، ان کی ساری سرگرمیاں اورمذہبی دورے اونچی عمارتیں کھڑی کرنے اوردنیوی شہرت کیلئے ہوتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو خواب آور گولیاں کھلاکر ان کے جیب ہلکے کرتے رہے اوردشمنان اسلام اپنے منصوبے پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نہ مسلمانوں کادین واسلام محفوظ رہا اورنہ ان کی شریعت ومذہبی روایات، نہ ان کی جان محفوظ ہے نہ مال، اوراب تحفظ تحفظ کا شور مچایاجارہاہے جس میں بھی خودنمائی اورمادی منفعتوں کا عنصر نمایاں ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے سماج اوراپنے خاندان میں مثبت رول ادا کریں۔ وہ اپنے اختلافات کو فراموش کریں، باہم اتحاد پیدا کریں۔ہمارے رہنما بھی اپنے اختلافات اوردلی کدورتوں کو دور کرکے باہم بغل گیرہوں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے عمل میں اخلاص پیدا کریں۔ہمارا اس راہ میں ہر عمل چھوٹاہو یا بڑا وہ محض اللہ کے واسطے ہو، اس میں دنیوی منفعت اورشہرت ودکھاوے کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ہمارے دلوں میں اپنے مخالفین کے تعلق سے الفت ومحبت کے جذبات ہوں اوردین کی خاطر انہیں گلے لگانے کیلئے راضی ہوں،اس کے بغیر ہم ہزار جلسے جلوس کرتے رہیں اورتحفظ کے نعرے بلند کرتے رہیں، کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ۔ہم جب تک اپنے اندر تبدیلی نہیں لائیں گے دوسروں کے اندر تبدیلی لانے کا عمل یا اس کی کوشش محض ایک خواب ہوگی۔بالخصوص دین کا سہارا لے کر محض اس چند روزہ زندگی کے لئے اپنی آ خرت برباد کرنا نادانی ہے۔کیا ہم نے اس بات پر کبھی غور و خوض کیا کہ بظاہر ہم خود کو دین کا داعی اور امت کا درد رکھنے والا تصور کرواتے ہیں جبکہ پس پردہ ہم دین کا سہارا لے کر اپنی دنیا چمکانے میں مگن ہیں۔ہماری مساجد ہوں یا مدارس و خانقاہیں الغرض ہر مذہبی مقامات کو ہم صرف اور صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال میں لا رہے ہیں آ خر یہ دھوکا کب تک؟











Users Today : 131
Users Yesterday : 622