جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
جموں جنوری ۱۰۔۔سینئر پی ڈی پی رہنما محمد فاروق انقلابی نے اتراکھنڈ کے ضلع المورا، تحصیل دوراہٹ کے جالی گاؤں میں مسلم مزدوروں پر ہونے والے وحشیانہ اور فرقہ وارانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے سخت بیان میں محمد فاروق انقلابی نے کہا کہ گزشتہ رات دیر گئے کچھ اوباش عناصر نے مسلم مزدوروں کے کرائے کے کمرے میں زبردستی گھس کر ان پر بے رحمانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں کئی مزدور زخمی ہو گئے۔ ایک مزدور شدید زخمی ہوا جسے بہتر علاج کے لیے ایمس رشی کیش منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرہ مزدوروں کا تعلق گاؤں گلاپورہ، تحصیل چسانہ، جموں و کشمیر سے ہے۔
محمد فاروق انقلابی نے اس بات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا کہ اتنے سنگین واقعے کے باوجود تاحال ملزمان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے انتظامیہ متاثرین پر صلح صفائی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے جو کہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور قانون کی بالادستی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتراکھنڈ میں مسلمانوں پر حملے، چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر سے آئے ہوئے، روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں جو کہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کی خاموشی انتہائی قابلِ مذمت ہے اور یہ فرقہ وارانہ تشدد کو بالواسطہ شہ دینے کے مترادف ہے۔
محمد فاروق انقلابی نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سنگین معاملے کو اتراکھنڈ حکومت کے سامنے اٹھانے میں مکمل ناکامی دکھائی ہے اور نہ ہی جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
انہوں نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے، تمام ملوث اوباش عناصر کی گرفتاری اور انہیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا اور ملزمان کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو وہ اتراکھنڈ حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
آخر میں محمد فاروق انقلابی نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد اور اقلیتوں پر منظم حملے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے اور انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بے گناہ مزدوروں کی جان، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔