ریاست و اضلاع سے آءیے سیاحوں کے چہروں کی مسکراہٹ سے اندازہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے وادی درہال( راجوری،جموں و کشمیر) کے بالاءی سیاحتی مقامات کو پسند کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر چہ چند مقامی سیاحوں کی طرف سے کھانے کو لے کر گلے شکوے بھی دیکھنے کو ملے مگر ہمارے یہاں ایک دستور ہے کہ” شادی یا کسی دوسرے خوشی کے موقع پر اکثر اپنے قریبی کھانے کی وجہ سے روٹھا کرتے ہیں یا ان کو منتظمین کے انتظام سے شکوہ ہوتا ہے اکثر وبیشتر ایسی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی جس پر تنقید کی جاءیے اور اگر اتنے بڑے پروگرام میں دس فیصد انتظام و انصرام میں کوءی کمی رونما ہو بھی جائے تو وہ قریبی خیر خواہ اس کمی کو دور کرنے میں کوئی مدد نہیں کرتے ہیں اور ان کی بے جا تنقید پر آءیے ہوے باقی مہمان ششدر رہ جاتے ہیں اور ان کی کم ظرفی پر الگ تأثرات قایم کرتے ہیں۔ چنانچہ شادی یا اس کے مترادف خوشی کا ایسا دوسرا کوءی پروگرام خوش اسلوبی سے پایے تکمیل کو پہنچ جاتا ہے پھر اکثر لوگ ایک آدھ دن کے بعد ان کی کم ظرفی کو درکنار کر کے باقی دنیا کے معاملات میں مشغول ہو جایا کرتے ہیں،اور ان کے ان گلے شکووں سے نہ تو منتظمین کی زات پر اثر پڑتا ہے اور نہ ہی اس پروگرام کے دوسرے مہمانوں پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔۔” بحر حال سیاحوں کا ان قدرتی مناظر کو دیکھ کر خوش ہونا اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ حکومت وقت مجبور ہو کر ان مقامات کو سیاحت کہ نقشہ پر لاءیے گی جس کی وجہ سے ان چراگاہوں میں جانے والے خانہ بدوشوں کی پسماندگی و بد حالی میں کمی آءیے گی۔۔۔مجھے اپنی بات کی تائید میں یہ بات سن کر خوشی ہوئی کہ شکر مرگ سے نندن سر جھیل تک گھوڑ سواری کے لیے 3200 روپے کرایہ مقرر ہوا تھا، ساتھیو یہی کہنا مقصود ہے کہ اس گھر میں کتنی خوشیاں رونما ہوءی ہوں گی جب وہ مزدور 3200 روپے لے کر گھر پہنچا ہوگا تو اس کے أہل خانہ نے ان رہنماؤں اور آفیسران کے لیے کتنی دعائیں کی ہونگیں جنھوں نے یہ مواقع فراہم کرواءیں۔۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمارے لیے حق، حلال روزگار کے مواقع فراہم فرماءیں۔آمین












Users Today : 449
Users Yesterday : 386