سرحدی سب ڈویزن مینڈھر میں لفٹ سکیموں پر بے سود کروڑوں روپیوں لاگت.بلاک منکوٹ کی پنچایت سلانی کی عوام دو ماہ سے پانی کی ایک بوند کے لئے ترس رہی ہے علاقوں کے اندر پانی کے لئے ہاکار مچی ہوئی.ایک ہی چشمہ پر تین سو گھر کی عوام اور مال مویشی کی باری لگاکر پانی حاصل کررہے ہیں۔سرپنچ سلانی کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے لیفٹ اسکیم بند پڑی ہے متعلقہ محکمہ کو کوٸی پرواز نہ ہے۔
ا سیلانی پنچایت میں پانی کی بہت زیادہ قلت ہے جو چشمہ ہے اب وہ بھی سوکھ چکا ہے اور جو لفٹ اسکیم ہے وہ برائے نام کی پائپیں لگاٸی ہوٸی ہیں اور برائے نام کے ٹینک بنے ہوئے ہیں اور ٹینک بیچ میں سے سوکھے ہوئے ہیں لفٹ اسکمیم کو چلانے والے ملازمین نہ ہی اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں اور نہ ہی پانی محلوں میں پہنچاتے ہیں لہذا ہماری گورنر انتظامیہ سے یہ گزارش ہے کہ ان ملازمین کو یہاں سے تبدیل کر کے لداخ کرگل میں لگایا جائے تاکہ ان کو پتہ چل سکے کہ ڈیوٹی کیسے دی جاتی ہے یہ جو پانی آپ چشمے کا دیکھ رہے ہیں اسی پانی پہ کم از کم تین سو گھر پانی لینے آتے ہیں
علاقائی عوام نے گورنر سرکا ر سے اپیل کی ہے کہ ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تشکیل دے اور محکمہ پی ایچ ای سب ڈویزن مینڈھر کے ذریعہ لگائی گئی تمام لفٹ سکیموں کی جانچ کرے تاکہ حقائق منظرِ عام پر لائے جائیں











Users Today : 28
Users Yesterday : 622