جی این ایس آنلائن نیوز پورٹل
لیاقت علی چودھری
پیر پنجال کسی لغت کسی سرکاری فائل یا کسی رسمی اصطلاح کا محض ایک اندراج نہیں بلکہ یہ ایک زندہ خطہ ہے ایک تہذیبی اکائی اور ایک تاریخی حقیقت کا نام ہے۔
گلگت، لداخ، وادیٔ کشمیر، جموں اور پیر پنچال یہ وہ پانچ خطے تھے جن کی اپنی جداگانہ شناخت اور ذاتی تشخص تسلیم شدہ تھا جو ۱۹۴۶تک بحال رہا پیر پنچال وہ خطہ ہے جو دریائے چناب کے کناروں سے جنم لیتا ہوا پونچھ کی پہاڑیوں اور کشمیر کی سرحدوں تک پھیل جاتا ہے۔ یہاں کی زمین ہی نہیں بلکہ یہاں کی تاریخ بھی نشیب و فراز سے عبارت ہے۔
اگرچہ جموں و کشمیر کو قانونی طور پر جموں، وادیٔ کشمیر اور لداخ تین خطوں میں تقسیم کیا جاتا رہا، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ خطۂ چناب کو مضبوط، باوقار اور بصیرت افروز قیادت نے عوامی اور فکری منظرنامے پر نمایاں کیا۔ اس سلسلے میں شیخ عبدالرحمن جیسے قدآور رہنماؤں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم خود جو اسی خطے کے باسی ہیں طویل عرصے تک اپنے ہی تشخص سے بیگانہ رہے۔ جو لوگ اعلیٰ عہدوں تک پہنچے انہوں نے فوری طور پر نقل مکانی کو ترجیح دی اور جموں کے میدانی علاقوں کے مکین بن گئے ان کے عہدوں سے نہ اس خطے کی تعمیر و ترقی کو کوئی فائدہ پہنچا، نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ترقی ہوئی تو وہاں ہوئی جہاں ان کے مکانات تعمیر ہوئے، اور مزدوری بھی انہی علاقوں کے حصے میں آئی۔
مرحوم مسعود چودھری جیسے چند گنے چنے افراد تھے جنہوں نے اس خطے کی شناخت اور عوام میں روح پھونکی ان کے علاوہ اکثر نے اپنی زندگیاں جموں میں گزاری، یہاں تک کہ قبرستان نہ ہونے کے باعث ان کے جنازے ہی پیر پنچال کے حصے میں آئے یا آئیں گے ۔
یہ ان ہی لوگوں کی قربانی ہے جنہوں نے چار جنگیں دیکھیں، جان و مال کا نقصان اٹھایا، مگر اس خطے کو چھوڑنے کے بجائے اسی مٹی سے وابستہ رہے۔
طویل عرصے تک پیر پنچال کو محض لکھنے اور بولنے والوں کی اصطلاح میں، یا سرکاری فائلوں میں “ٹوئن بارڈر ڈسٹرکٹ ( سرحدی اضلاح راجوری پونچھ)” کہہ کر محدود کیا جاتا رہا، حالانکہ یہ خطہ اپنی ایک مکمل اور جداگانہ جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی شناخت رکھتا تھا۔ نسلی، تاریخی اور لسانی اعتبار سے یہ جموں کے میدانی علاقوں سے یکسر مختلف تھا اور شاید یہی فرق اس کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ بھی بنا۔
کی ۲۰۱۱سرکاری فنانس رپورٹ ن اس تلخ حقیقت پر مہر ثبت کر دی کہ پونچھ ریاست کا سب سے پسماندہ ضلع قرار پایا، جب کہ راجوری دوسرے نمبر پر رہا۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں تھے، سوال تھا ہم کون ہیں؟
کہاں کھڑے ہیں؟
اور ہمارے حصے میں ترقی اور سرکاری مواقع آٹے میں نمک کے برابر کیوں ہیں؟
اسی سوال نے سوچ کو جنم دیا، اور سوچ نے تحریک راجوری میں ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوا، جس میں یہ طے پایا کہ پیر پنچال کے نام سے خطے کے تشخص کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسی اجلاس سے ویلی چناب کی طرز پر، اور لداخ کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے، ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے مطالبے نے جنم لیا۔
۲۰۰۸ راجوری میں ایک بڑا اور فیصلہ کن اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیر پنچال ریجنل فورم کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ اس اجلاس کی سرپرستی فاروق شاہ بخاری (کے اے ایس) نے کی۔ تنظیمی ڈھانچے کے تحت راقم الحروف کو صدر، خورشید احمد تانترے صاحب کو نائب صدر، تعظیم احمد ڈار صاحب کو جنرل سیکریٹری اور شاہباز خان صاحب کو کوآرڈینیٹر منتخب کیا گیا۔
فورم کے منشور میں پیر پنچال ہل ڈیولپمنٹ کونسل، پیر پنچال لوک سبھا نشست، پیر پنچال سینٹرل یونیورسٹی، الگ ڈویژنل کمشنر اور آئی جی پولیس کے قیام جیسے بنیادی مطالبات شامل تھے۔
اس فورم کے منظرِ عام پر آتے ہی پیر پنچال ایک بار پھر خبروں، مضامین اور مباحث کا مرکز بن گیا، اور ہل ڈیولپمنٹ کا مطالبہ ریاستی اسمبلی کے ایوانوں تک گونجنے لگا۔
۲۰۱۱ وزیر برائے منصوبہ بندی جموں و کشمیر جناب علی محمد ساگر سے، حویلی کے رکنِ اسمبلی پونچھ جناب اعجاز احمد جان نے سوال کیا کہ پیر پنچال کو ہل ڈیولپمنٹ کونسل کا درجہ دینے کے لیے حکومت کیا فیصلہ کر رہی ہے۔ وزیرِ منصوبہ بندی کے جواب نے عوام کے دلوں کو شدید ٹھیس پہنچائی، جب انہوں نے یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیا کہ پیر پنچال کا خطہ کرگل یا لداخ سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتا۔
اس کے بعد درہال کے مقبول رہنما ایم ایل اے جناب ذوالفقار علی چودھری نے اسمبلی میں خطے کی قدیم و جدید تاریخ کو اجاگر کیا اور ہل ڈیولپمنٹ کونسل کا مطالبہ پوری قوت سے پیش کیا۔ اعجاز احمد جان صاحب نے بھی اس مدعا کی تائید کی، جب کہ اس وقت قانون ساز کونسل کے رکن اور سابق ایم ایل اے مینڈر جناب جاوید احمد رانا صاحب نے خطے کے ذاتی تشخص کی بحالی، ہل ڈیولپمنٹ کونسل اور الگ پارلیمانی نشست کا مطالبہ کیا جو پیر پنچال فورم کا بنیادی نکتہ تھا۔
اس تحریک کو فکری ایندھن فراہم کرنے کا کارنامہ خطے کے عظیم دانشور اقبال شاہ کاظمی صاحب نے انجام دیا۔ ان کے اخبار نے وہ کردار ادا کیا جو نہ کوئی تنظیم کر سکی، نہ کوئی سیاست دان، اور نہ ہی اسمبلی۔
معروف اخبار “اُڑان” پیر پنچال کی آواز بنا، یہاں تک کہ اس میں پیر پنچال کے نام سے مستقل صفحہ شائع ہونے لگا۔ اس صفحے پر خطے کے مسائل، صلاحیتوں اور شناخت کو اجاگر کیا گیا، جہاں راقم الحروف کے ساتھ جناب نزیر قریشی صاحب جیسے سینئر قلم کاروں کے مضامین شائع ہوئے، اور نئے لکھنے والوں نے بھی بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داری نبھائی۔
اُڑان کو دیکھتے ہوئے ریاست کے سب سے بڑے اردو اخبار کشمیر عظمیٰ نے بھی پیر پنچال کے نام سے مکمل صفحہ مختص کر دیا۔ یوں گویا ایک فکری لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔
۲۰۰اور ۲۰۱۰ء کی یہ تحریک پیر پنچال کو عوام کی زبان، سرکاری فائلوں اور اخبارات کی سرخیوں میں ایک زندہ حقیقت بنا گئی۔
یہ کوئی افسانہ نہیں یہ ۱۹۴۶کے بعد پیر پنچال کی سب سے منظم، فکری اور عوامی جدوجہد کی داستان ہےخطے کے اپنے وجود کو پہچاننے اورمنوانے کی









Users Today : 331
Users Yesterday : 208