طارق خان انقلابی
مینڈھر//عوامی تعمیر و ترقی کے لئے نئے چہروں کو سامنے لائیں ڈی ڈی سی انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد سے اب تک سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں عوام کو لبھانے کے لئے کھوکھلے نعروں کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار خطئہ نثار احمد سلطانی نے پریس کے نام جاری اپنے ایک پیغام کیا انہوں نے کہاکہ حیران کن بات یہ ہے خطئہ پیر پنجال سے کئی قد آور سیاسی لیڈران سابقہ وزراء اور ممبران قانون سازیہ بھی ڈی ڈی سی انتخابات کے لئے میدان میں اترے ہیں, ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کوئی بھی الیکشن ہو چاہے اسمبلی انتخابات ہوں, پنچایتی یا اب ڈی ڈی سی انتخابات, ہر بار یہ لیڈران کرسیاں اپنے پاس رکھنے کی جد و جہد میں لگ جاتے ہیں جب خطئہ پیر پنجال کے لوگ ان کی سابقہ کارکردگیوں پر سوال اٹھاتے ہیں اور لوگ اپنے ساتھ کئے گئے وعدے یاد دلاتے ہیں تو پھر یہ لوگ وہی پرانا ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں گوجر و پہاڑی کا اور یہ کہا جاتا ہے کہ اب قوم کا وقار خطرے میں ہے اصل میں کسی قوم کا وقار خطرے میں نہیں ہوتا بلکہ ان کی کرسیاں خطرے میں ہوتی ہیں, اگر زمینی سطح پر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ آج بھی ہمارے لوگ بجلی پانی اورسڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں, سڑکوں کی خستہ حالی سیاسی قیادت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں,اگر ہم اپنے علاقہ م مینڈھر کی بات کریں تو مینڈھر تا بھمبر گلی سڑک کی خستہ حالت عام مسافروں خاص کر مریضوں کے لئے کتنی بڑی پریشانی کا سبب ہے تعمیر و ترقی کے کھوکھلے نعرے لگانے والوں کو اس کا جواب دینا چاہئیے, کتنی واٹر سپلائی اسکیمیں بیکار پڑی ہیں؟ نئی بننے والی اسکیمیں برسہا برس سے مشینری کی عدم دستیابی کی وجہ سے قابلِ استعمال نہ ہو سکیں, سرحدی طلبہ و طالبات کے لئے محفوظ مقامات پر ہاسٹل تک تعمیر نہ کئے جا سکے آخر ترقی کہاں ہے جس کے دعوے کئے جاتے ہیں؟ یہاں کے طبی نظام میں آج تک جدید طرز کی سہیولیات فراہم نہ کی جاسکیں جس کی وجہ سے نارمل مریضوں کو چھوڑ کر باقی سب کو راجوری یا جموں ریفر کر دیا جاتا ہے سفر اور دیگر ضروریات کے اتنے اخراجات اٹھانا غریب عوام کے بس کی بات نہیں, تقریبا یہی صورت حال پورے خطئہ پیر پنجال کی ہے دور اندیش سیاسی قیادت کے فقدان کی وجہ سے ہمارا خطئہ پیر پنجال آج تک پسماندگی کا شکار ہے طبی و تعلیمی نظام کی پورے خطے میں ابتر صورت حال ہے علاوہ ازیں خطئہ پیر پنجال اپنے قدرتی حسن کے باوجود اس کو سیاحتی نقشے پر نہیں لایا جا سکا, پہاڑی علاقوں کا زیادہ تر انحصار کھیتی باڑی پر ہے مگر اس حوالے سے بھی یہ خطہ عدم توجہی کا شکار رہا ہے ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے عوام کو سمجھداری سے فیصلہ کرنا چاہئیے اس کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ خطہ پیر پنجال کے لوگ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نئے چہروں کو سامنے لائیں اور انہیں موقع ضرور دیں ہم بھی ان سے یہی امید رکھیں گے وہ خطئہ پیر پنجال کی ہم جہت تعمیر و ترقی میں بہتر رول ادا کریں گے











Users Today : 621
Users Yesterday : 386