جب بھی کوئی سرکاری نوکریوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کی جاتی ہے۔ اس میں امیدوار کی ایک لمبی قطار ہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں امیداوار اپنے فارم داخل کرواتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن ایس ایس آر بی کی جانب سے ہو یا پی ایس سی کی جانب سے ہو یا ضلع انتظامیہ کے کسی چھوٹے عہدہ پر امیدواروں کے لیے ہو ، امیدواروں کا اس میں یکساں جم غفیر ہی دیکھا جاتا ہے۔
درجہ چہار کے لیے امتخان میں بھی اکثر تعداد میں وہی امیدوار دیکھے جاتے ہیں جو پی ایس سی اور ایس ایس آر بی ہی نہیں بلکہ یوپی ایس سی کے امتخان میں بھی بیٹھتے ہیں۔
جنہوں نے انجئیرنگ کی ڈگری حاصل کی ہوتی ہے، ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہوتی ہے بی ایس سی ایگریکلچرل کی ڈگری ہو، ایم سی اے ہو، بی سی اے ہو، بی کم، بی اے ہو، بی ایس سی فاریسٹری میں ڈگری ہو میڈیکل کے کسی بھی شعبہ میں ڈگری یا تعلیم حاصل کی ہو پی ایچ ڈی ہو ایم ایس سی ہو ایم اے ہو بی ایس سی ہو بارہویں ، دسویں یا ڈپلومہ ہو۔ کیوں کہ نوٹیفکیشن میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ دسویں یا بارہویں کم سے کم اور اس سے اوپر تعلیم رکھنے والے کے لیے کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اپنی قسمت آزمانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ کے جس کا حق بنتا تھا وہ نظر نہیں آتا اور جن کا مستقبل سنہرہ ہے وہ اس نشست پر بھی کچھ وقت کے لیے قابض ہوجاتے ہیں جب تک ان کو تسلی بخش عہدہ نہ مل جائے۔ نتیجہ جس سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد احساس کمتری کے شکار ہو جاتی ہے۔
کیا ہمارے نوجوانوں کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے یہ اپنی تعلیمی اہلیت کا وقار قائم رکھنے کی سوچ بنائیں گے۔ یا پھر ریکریوٹمنٹ بورڈ کچھ بنیادی تبدیلی پیش کرے گا۔
آج بے روزگار نوجوان جب لاکھوں کی تعداد میں امیدوارں کو چند آسامیوں کے لیے دیکھتے ہیں تو خوف و ہراس کے شکار امتخان سے قبل ہی ہوجاتے ہیں۔ اپنی قابلیت کی بنا پر یہ اس آسامی کے لیے بہت بہتر امتخان دیتے ہیں لیکن جو اعلی تعلیم و ڈگری رکھتے ہیں عرصہ سے سیول سروسز اور پی ایس سی کی تیاری میں ہیں ان کا مقابلہ کیسے کر پائیں گے جو دہلی یا میٹرو سیٹی میں ایک معیاری تعلیم کے زیرتربیت ہیں۔
جس کی وجہ جن امیدواروں نے ایل ایل بی،انجئیرنگ، ایم سی اے، ایم کم، پی ایچ ڈی، ایم ایس سی، فاریسٹری، ایگریکلچرل، نرسنگ، اور دوسری تمام پروفیشنل شعبہ تکنیکی میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اور پہلے سے ہزاروں طلبہ کو یہ ایک نشست سے محروم کر کے اس شعبہ میں اپنی نشست پکی کر چکے ہیں۔ جس میں یہ لاکھوں روپیہ خرچ بھی کرچکے ہیں اور اس کے لیے پہلے سے ہی پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک امیدوار کی نشست وہاں دوران سلیکشن اپنے نام کر لی تھی۔ دراصل اس کا حق اب اسی شعبہ میں ہی جائز ہے کیونکہ اس نے کسی دوسرے سے اچھی کارگردگی دکھانے کی بنا پر یہ نشست اپنے نام کر لی تھی اور پیچھے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد نے مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے تکنیکی شعبہ میں دلچسپی رکھنے کے باوجود تعلیم سے منسلک رہے۔
لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب درجہ چہارم کے لیے امتخان ہوتا ہے تو یہ انجئیرنگ کا طالبعلم بھی اس امتحان میں ہوتا ہے یہ میڈیکل کا طالبعلم میں بھی یہ امتحان میں اپنی قسمت آزماتا ہے قانون کی ڈگری رکھنے والا بھی اس امتحان میں کامیابی کے لیے اپنی قابلیت کے زور پر اس امتحان میں بیٹھ جاتا ہے۔ جو سیول سروسز کی تیاری میں لگے ہیں وہ ان آسامیوں کے لیے برابر امتخان دیتے ہیں۔ آئی اے ایس کی تیاری والے بھی بیٹھ رہے ہیں اور کے اے ایس کے امیدوار بھی ان تمام امتحانوں میں حصہ لیتے ہیں جن کی نوٹیفکیشن سرکاری طور پر کی جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد ایک دوسری سزا تعلیم یافتہ لوگ اپنے پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں کو یہ دیتے ہیں۔ یہاں نوکری حاصل کی اور اپنے شعبہ میں واپس نشست حاصل کرنے کے لیے یا پھر اس نوکری سے بہتر حاصل کرنے کے لیے تاک میں رہتے ہیں اور باربار جاری آسامیوں میں اپنی قسمت آزماتے ہیں۔ اگر اب اس اچھی نوکری کیلئے ان کی سلیکشن ہوجاتی ہے تو جو پہلے کسی غریب کی حق تلفی کی ہے ایک بڑی زیادتی کر رہے ہیں جو تمام پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ اپنے ہی پڑھے لکھے زیادتی کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ کے نوجوانوں میں فر سٹیشن اپنے آپ کو سن کرنے کے لیے منشیات و دوسری چیزوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
آج راجوری میں ماں باپ اپنے ایک سہارا سے محروم ہو گئے ہیں یہ نوجوان جس کو دیکھنے سے یہ ہر سمت سے مکمل نظر آتا ہے خوبصورت چہرہ منہ پر داڑھی سجھی ہوئی اونچا لمبا قد اللہ تعالی عطاکردہ خوبصورت بناوٹ لیکن مستقبل کے لیے سوچتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار گیا اور لقمہ اجل بن گیا۔ اللہ تعالی گا نہیں جنت الفردوس عطا فرمائے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مزید کوئی ایسے حادثہ کے شکار نوجوان نہ ہے اللہ بہتر اسباب میسر کروائے۔
آج کے امتحان اکونٹ ایس ایسٹینٹ جس کے لیے شعبہ کامرس اکنامکس، کے طلبہ اہلیت رکھتے ہیں جو کل اس شعبہ میں انصاف کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے اس کے متعلق پڑھائی کی ہوتی ہے وہاں سائنس کا طالبعلم یا میڈیکل والا یا ایل ایل بی والا یا دوسرے تمام شعبوں والے کیا فرائض سرانجام دیں گے۔ اس لیے ہمارے طلبہ کو اپنے آپ کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے آگے بھیڑ لگا دینا کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ان کی محنت کا پھل ضرور انہیں ملے گا۔
تحریر لیاقت علی چودھری۔۔
9419170548










Users Today : 186
Users Yesterday : 386