یوم النسا کے موقع پر ہر کوئی کسی خاتون کو بطور اعزاز پیش کر رہا ہے۔ اس موقع پر میرا سامنا ایک ایسی بیٹی سے ہوا جس نے تیس سال کے تمام دکھ دور ایک ہی بات کہہ کر مجھے خاموش کر دیا۔ دو بہنوں اور ایک ماں کی دکھ بھری داستان نے بین الاقوامی یوم النسا منانے والوں کے تمام دعویٰ کو کٹہرے میں لاکھڑا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی یوم النسا کے موقع پر بیٹی ایک بین الاقوامی شہریت رکھنے والے والد کو ڈھونڈ رہی ہے۔ یہ تلاش کوئی ایک یا دوسال سے نہیں بلکہ تین دشک تیس سال گزر گئے ہیں۔ جس کی تلاش کے لیے بیٹی کا جزبہ کم نہیں ہورہاہے۔ جب یہ بیٹی ڈیڑھ یا دوسال کی عمر کی تھی کہ والد ویزے کے زریعے پڑوسی ملک پاکستان میں اپنی بہن ورشتہ داروں سے ملنے چلا گیا۔ اس وقت دوسری بہن ماں کے پیٹ میں تھی کہ والد سرحد کے اس پار چلے گئے جہاں سے پھر آج تک لوٹ کر نہیں آئے۔ مجھے ان کا چہرہ بھی یاد نہیں ہے وہ کسیے تھے آج کچھ دنوں بعد دوسری بہن کی شادی ہے جس موقع پر ہم بہت پریشان ہیں وقت اور حالات کے مار سے ہر گھڑی ان کی طرف خیال جاتا ہے۔
ہمارے غریبی کے بچپن والے دن تو گزر گئے پتہ بھی نہیں چلا لیکن جب تھوڑی حوش سنبھالی تھی اس دن سے ایک ہی بات کھائے جارہی ہے کے والد کو ملنا ہے وہ کیوں ایسے ہمیں یہاں تنہا چھوڑ کردوسرے ملک میں چلے گئے۔ کس کے حوالے کر کے سرحد کے اس پار جا کر اپنا نیا گھر اور اپنی زندگی آباد کر لی۔ جب کے انہیں معلوم تھا کہ دو بچیاں اور ایک بیوی راجوری شہر سے چار کلومیٹر کے دوری پر دن رات انتظار کر رہی ہیں۔
راقم الحروف کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ عام خواتین کی طرح چہرہ ہزاروں زخم اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ ان کے اندر غموں کا ٹھاٹھ ے مارتا ہوا سمندر ہے۔ میرے منہ سے اس بیٹی کے سامنے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ ایسے والد کو ملنے کا دل کرتا ہے کیوں ملنا چاہتی ہو۔ تو ان کے صبر کا باند ٹوٹ گیا۔ یوں معلوم ہورہا تھا کہ ایک طوفان آگیا ہے۔ اس صنف نازک کے الفاظ یوں کانوں سے ٹکرا رہے تھے جیسے سرحد پر دھماکوں کی گن گرج پوتی ہے۔ اس نے کہا ملنا کیوں چاہتی ہوں بہت سی باتیں کرنی ہیں۔ ایسی باتیں ہیں جو بیٹی آج تک کسی سے نہیں کر پائی ہے۔ وہ باتیں صرف اسی سے ہوسکتی ہیں جس کی وجہ سے مجھے اس دنیا میں لایا گیا ہے۔ یہ تیس سال کی اور ایک ایک لمہے کی دکھی داستان ہمیں تنہا چھوڑ جانے والے والد سے ہی بیان کی جاسکتی اسی کے اندر ان باتوں کو برداشت کرنے کا جگر ہوسکتا ہے۔ بیٹی اپنے باپ سے پوچھنا چاہتی ہے۔ کہ ہمارے غربت سے بھرے بچپن کو کیوں اپنے سے علحیدہ کردیا گیا۔ ہم پوری عمر پاپا کا الفاظ کہنے کے لیے ترس رہی ہیں۔ میری بیٹی اس الفاظ کو سننے کے لیے آج بھی ہم انتظار کر رہی ہیں اور یہ انتظار مرتے دم تک رہے گا۔
ہم ایک ماں اور دوبیٹیوں کی یہ دکھی داستان جس سے اس دنیا کو کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ زندگی کیسے بسر ہوئی کسی کو کچھ معلوم نہیں کتنے دن بھوکے سوئے کسی کو پروا نہیں ہوئی۔ سرپر چھت ہے یا نہیں کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ آج چھوٹی بہن کی شادی ہے انتظار ہے کوئی اپنا آئےگا اور امداد کرے گا جس سے اس کی شادی کی رسم نبھائی جائے گی۔
یہ فلمی دنیا کی طرح ایک سچی کہانی ہے مرے گاوں کے پڑوس کی جہاں اتنے دکھ درد نے پرورش پائی ہے۔ صرف بیٹی سے یہ کہانی لکھی ہے ان کے نام اس مضمون میں نہیں لکھے گئے ہیں۔ اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے اور بہتر اسباب مہیا کروائے۔ ایسے باپ سے کسی دوسری بیٹی کا سامنا نہ ہو جو دکھوں کا پہاڑ چھوڑ جائے۔
تحریر لیاقت علی چودھری 9419170548










Users Today : 186
Users Yesterday : 386