جی این ایس آنلائن راجوری
نومبر ۲تھنہ منذی
تحصیل تھنہ منڈٰی کی پنچائیت نیروجال میں ۱ اور ۲ نومبر کو “آو چلیں گاوں کی اور” پروگرام کے تحت تعینات افسران نے پنچائیت کا دورہ کیا اور مختلف ترقیاتی کاموں کا جائیزہ لیا۔ جب ایک صحافی نے تعینات افسر سے اس پروگرام کے بارے میں پوچھنا چاہا تو افسر نے جواب دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ انہیں اوپر سے ہدایات ہیں کہ وہ اس پروگرام کے متعلق میڈیا سے بالکل بھی کچھ نہ کہیں۔
تعینات افسران کے ساتھ ساتھ سرپینچ پنچائیت نیروجال ظہور احمد قریشی، وارڈ ممبر شہزاد بھٹی، سماجی کارکن محمد عرفان بھٹی اور کئی دوسری شخصیات اس پروگرام کا حصہ بنی۔ جب متعلقہ سرپینچ نے پنچائیت میں چل رہے آنگن واڑی ملازمین سے آنگن واڑی سینٹروں کی رپورٹ مانگی تو وارڈ نمبر ۳ کا آنگن واڑی سینٹر پوری طرح سے غائب پایا گیا۔ اور پتہ چلا کہ اس سینٹر کی خاتون ملازم کی جب سے شادی ہوئی ہے تب سے وہ سینٹر پوری طرح سے بند ہے۔ جب سرپینچ نے محکمہ بھیڑ کے ملازم سے اُنکی کارکردگی مانگی تو پتہ چلا اس محکمہ کی کوئی بھی اسکیم پنچایت نیروجال کی عوام تک نہیں پہنچائی گئ ہے۔ سرپینچ ظہور احمد قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگرچہ سرکاری ہدایات کے مطابق پنچائیت میں کام کر رہے تمام سرکاری ملازموں کو سرپینچ کی سرپرستی میں کام کرنا ہےتاکہ پنچائیت میں اور اچھے انداز میں فلاح و بہبودگی کے کام ہو سکیں پر کوئی بھی سرکاری ملازم سرپینچ سے تعاون نہیں کر رہا جسکی شکایات بارہاں اعلٰی سطح کے افسران کو کی گئ پر ان سب کے باوجود کوئی بھی ملازم یا ادارہ سرپینچ کی سرپرستی ماننے کو تیار ہی نہیں۔ جسکی تائید وہاں پر موجود پنچائیت کے لوگوں اور وارڈ ممبران نے بھی کی۔ جبکہ بجلی محکمہ سے کوئی بھی افسر موقع پر نہیں تھا۔ پنچائیت کی عوام نے سرپینچ کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ سرپینچ ظہور احمد قریشی بہت ہی قابلیت سے عوام کے تمام مسائل کو حل کر رہے ہیں۔ جبکہ پنچائیت کی عوام نے ضلع و تحصیل انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ سیم اکھوڑی تا ہائی اسکول نیروجال سڑک کو جلد از جلد مکمل کریں جسکا کام تب شروع ہوا تھا جب شاہد اقبال صاحب راجوری کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ کیوںکہ اس سڑک کے مکمل نہ ہونے سے نیروجال کی عوام کافی پریشان ہے۔










Users Today : 130
Users Yesterday : 386