GNS ONLINE NEWS PORTAL

الحاج چودھری گلزار احمد تاریخ ساز شخصیت ۱۹۳۱-۲۰۲۱

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

ایک زمانہ گزار جانے کے بعد ایسی شخصیات وجود میں آتی ہیں جو ہر طرح سے مکمل نظر آتی ہیں۔ ایسی شخصیت اپنی ہمت، سکت، عقل سلیم سےکام لیتےہوئے اس دنیا میں گہرے نقوش چھوڑجاتے ہیں آنے والی نسلیں ان کے گزر جانے کے بعد ان کی بکھری داستان کو سمیٹتے ہوئے اپنے خوابوں کا ایک حسین تاج محل بنانے کے لیے سرمایہ حیات سمجھتی ہے۔ ان ہی شخصیات میں سے چودھری گلزار احمد بھی ہیں۔ جن کا انتقال چند روز قبل ہوا۔ اخبارات سوشل میڈیا میں جس قدر ان کے اس دنیا سے مالک حقیقی سے جاملنے کی خبر نے پیرپنچال کی عوام کو غمزدہ کیا تھا۔ اور ان کے نمازجنازہ پرعوام کی ہجوم نے ان کی مقبولیت اور انکی کاوشوں سے پردہ چاک کیاہے۔ آپ کی زندگی کے چند پہلوں کو ایک مختصر مضمون کے زریعے نوک قلم بنانے کی جسارت کی ہے آپ کی ۹۰سالہ زندگی جو بہت سے تحریکوں و تاریخوں سے منسلک ہے اس کو قلم بند کرنا نہایت ہی مشکل ہے۔ اسکے لیے کوئی تصنیف ہی انصاف کا تقاضا یے۔

مشہور کہاوت ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ قلعہ ڈھنی دھار کے سامنے آباد گاوں دھنور دیکھ لے۔ اس کا مطلب اللہ کی طرف سے اس گاوں پر عنایت خاص ہے اس کی بناوٹ سجاوٹ خوبصورتی کہ یہ شہر لاہور سے مشابہ ہے۔ گاوں دھنور ڈہنڈیاں میں بہت ہی برگزیدہ شخصیات نے جنم لیا اور اپنے دور میں اعلی کارنامے سرانجام دیے اس کے بعد ہمیشہ رہنے والی دنیا میں منتقل ہوگئے۔ اس گاوں میں اللہ کے ولیوں کے بھی مزار ہیں۔ جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ اولیاء کرام کی سرزمین رہی ہے۔ اس گاوں سے راقم الحروف کے دادا جناب نمبردار چودھری مہر دین صاحب ایک جاگیردار و قدور شخصیت کے مالک ہونے کے علاوہ اپنی سخاوت اعلی کی بنا پر آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ جس کے چرچے آج بھی ہر زبان پر ہوتے ہیں۔ ان کی زمینوں سے سینکڑوں سپلیاں چاول مکی ہوا کرتی تھی کبھی ایک دانہ فروخت نہیں کیا سب اپنے گاوں و راجوری کے دور دراز علاقہ کے لوگ کھاتے اور لے بچوں کے گزربسر کے لیے گھر لے جاتے تھے۔ اسی گاوں میں جناب چودھری دیوان علی صاحب بھی ایک مدبر رہنما گزرے ہیں جو چودھری گلزار صاحب کے والد محترم تھے۔ اس گاوں میں الحاج گرداور غلام نبی صاحب ایک نامور شخصیت نے جنم لیا اور اپنی خدمات سرانجام دینے کے بعد گزر گئے۔ رواں دور میں جناب چودھری گلزار احمد ایک بڑی شخصیت جو اس علاقہ کی شان تھے اور خطہ پیر پنچال کی بلند آواز تھے وہ بھی وصال فرماگئے ہیں۔ گاوں دھنور راجوری سے پانچ کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ آج بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے قیام کےبعد یہ گاوں دنیا کے نقشے پر ہے۔
چودھری صاحب کی پیدائش ۱۹۳۱ میں ایک قدآور گوجر لیڈر جناب چودھری دیوان علی صاحب کے گھر ہوئی۔ چودھری صاحب نے تادم واپسی اپنے والد کے نقش و قدم پر چلتے رہے ۔ چودھری صاحب ایک مکمل عالم دین تھے آپ ایک مکمل سیاست دان تھے اس کے علاوہ ایک بہترین طبیب بھی تھے آپ ایک بہترین مصنف اور آپ نے ادب کی دنیا میں اپنا لوہامنوایا ہے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے تمام عمر ان کے ہی سایہ تلے پروان پائی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب ہمارے علاقہ میں ختمات شریف کی نشستوں کاانعقاد کیا جاتا تھا تو اس دور میں عالم دین بہت کم ہوا کرتے تھے ان ختمات کی مجالس کو چودھری صاحب ہی مکمل کیا کرتے تھے۔ ان کے اندر اللہ کی زکر کرنے کی اس قدر سکت ہوتی تھی کہ پوری محفل میں جنبش نظر آتی تھی۔ بلند اواز سے کلمہ اداکرنے کی سدا پورے علاقہ میں سنائی دیتی تھی کوئی بھی سستی کرنے والا انکی محفل میں نہیں پایا جاتا تھا۔ بچپن سے ہی بہت مواقعوں پر ان کی نزدیک خطمات و گیارویں شریف میں شامل ہونے کا موقع میسر ہوتا رہا جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا۔
آپ کے گھر شروع سے ہی گیارویں شریف کا ہر مہینے انعقاد کیا جاتا تھا۔ تمام گاوں کے لوگ اس پاک مجلس میں شامل ہوتے تھے ختم غوثیہ کا ورد ہوتا تھا۔ اسکے بعد دعا ہوتی تھی۔ اور لنگر تقسیم ہوتا تھا لوگ بھی اپنی طرف سےدودھ چاول و حسب توفیق چیزیں گیارویں میں پیش کیا کرتے تھے۔ آج اس گاوں مین بہت گھروں و مسجدوں میں گیارویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس کی شروعات چودھری گلزار صاحب کی دین ہے
۔

آپ کاسیاست میں ایک طویل عرصہ رہا ہے۔ آپ بہت چھوٹی عمر میں ممبر قانونساز کونسل جموں و کشمیر کے رکن منتخب ہوگئے تھے۔ 1962میں ریاست کے وزیراعظم بخشی غلام محمد کے دور اقتدار میں آپ ممبر قانون ساز کونسل منتخب ہوئے جب آپ کی عمر ۳۰سال تھی۔ اس کے بعد کئی انتخابات میں آپ نے حصہ لیا۔ آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے ایسی زبان عطا تھی کہ تقریر بغیر آواز سسٹم کے بھی دور تک سنائی دیتی تھی۔ تقریر وتحریر دونوں نعمتوں سے لیس بہت کم لوگوں کو یک وقت میسر ہوتی ہیں لیکن آپ کی تحریر بھی اعلی تھی اور آپکی تقریر بھی شعلہ بیاں ہوا کرتی تھی۔ بہت سیاست دانوں کے لیے آپ مشعل راہ پاے گئے تھے۔

آپ نے آزادی کا دور بھی دیکھا تھا۔ اس وقت آپ پوری جوانی میں تقریباً آٹھارہ سال کی عمر کے تھے جب ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم ہوتے دیکھا۔ جب لاشوں کو ٹرینوں میں لاد کر ہندوپاک کے سرحد کے آرپار کیا جارہا تھا۔ کشمیر کے دو حصہ ہوتے ہوئے بھی آپ نے دیکھے ہیں۔ اس کے بعد ہندوستان کا علحیدہ، وزیراعظم اور جموں کشمیر کا علحیدہ وزیراعظم بھی آپ نے دیکھا۔ اس کے بعد ریاست میں وزیراعظم کی جگہ وزیراعلی بنتے ہوئے بھی دیکھا اور صدر ریاست کی جگہ گورنر بھی آپ نے دیکھا۔ اس کے بعد ریاست کو یونین ٹیریٹری بنتے ہوئے بھی آپ نے دیکھا ایک ریاست کے دو حصہ ہوتے بھی دیکھا لداخ اور دوسرا جموں گورنر کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر بھی تعینات ہوتے دیکھا۔ آپ ملک کی آزادی کی نئی صبح دیکھنے کے لیے سرحد کے اس پار پہنچ گئے۔ سرحد کی لکیر نے آپ کے بہت سے اپنوں کو بانٹ لیا۔ جو پوری عمر سرحد کے ہر دوطرف اپنوں سے ملنے کے لیے آنسوؤں بہاتے ہوئے اس مختصر دنیا سے دار بقاء میں منتقل ہوگئے۔ البتہ آپ کو اس درد بھری داستان کی ایک تلخ یا دشت تھی ہمیشہ آنکھوں کے سامنے تھی آزادی کے دور اور ملکوں کے بٹورے کی ۔ اسی آزادی کی لہر میں آپ اپنا وطن چھوڑ سرحد کے اس طرف چلے گئے۔ وہاں پر بھی آپ نے اپنی عوامی خدمات سرانجام دینے کی بہترین کوشش کی وہاں پر ریڈیو سے اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کی وہاں پہاڑی پروگرام کے آپ اناونسر تھے۔ اس کے بعد وطن واپسی ہوئی۔ وہاں سے اکھنور آئے جہاں پر آپ کے اباواجداد کا مسکن ہے۔ اس کے بعد آپ راجوری گاوں دھنور تشریف لائے۔ یہاں کے لوگوں نے بہت پیار دیا عمدہ طریقہ سے زندگی بسر ہوئی۔

آپ ایک بہترین حکیم بھی تھے۔یہ شعبہ بھی آپ کو اپنے اباواجداد سے وراثت میں ملا تھا۔ آپ خود دوائیاں و دوسرے قسم کے مربعے تیار کیا کرتے تھے۔ جو بہت سی بیماریوں پر کام آتے تھے۔
عرصہ بیس سال سے چودھری صاحب نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ ایسے دور کی سیاست سے بہتر دین کی خدمات سرانجام دینا سمجھا۔ مسجدوں کی سنگ بنیاد رکھنے مزاروں کی رونقیں دوبالا کرنا وہاں کی تعمیر ترقی کے لیے ہمیشہ ان کا ہاتھ طول میں رہا ہے۔ نوجوانوں کی زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں مشغول رہنے کےساتھ ساتھ نماز کا پابند رہنے کی ہمیشہ سے تاکید کیا کرتے تھے۔ نوجوانوں کا معاشرہ بگڑتا دیکھ یہ فکرمند رہتے تھے۔ والدین کو اپنی اولادوں کی نیک رستے پر چلانے کے لیے اپنی آواز بلند کیا کرتے تھے۔ اکثر فرماتے تھے انسان کا ااس دنیا میں آنے کا اللہ تعالی نے کوئی مقصد رکھا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ تم کھاو پیو اور عیش کرو بس یہی مطلب انسانی زندگی کا نہیں ہے۔ اپنی فکر کرو اپنے آپ کو تبدیل کرو ہمیشہ نشہ کے مخالف رہا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کوئی بھی نشہ کرنے والا کسی بھی ختم شریف گیارویں شریف کی مجلس میں شمولیت نہ کرئے بےنمازی کھانا لنگر تیار نہیں کرے۔ کوئی کتنا عمل کرتا تھا اس کا تومعلوم نہیں لیکن یہ ہمیشہ بے راہروی مخالف اپنی اواز بلند کرتے نظر آتے تھے۔ حق اور سچی بات کہنے میں کبھی کتراتے نہیں تھے۔
تمام علماء دین آپ کا بہت احترام کیا کرتے تھے علماء کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے آپ ان کی اصلاح کے لیے کبھی خاموش نہیں رہے۔
آج اکثر سننے کو ملتا ہے کہ چودھری صاحب کا متبادل کون ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ان کے گزرجانے سے خطہ میں کمی پوری نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ کسی بھی شخص کی کمی ان کے گزرجانے کے بعد نہیں ہوسکتی ہے۔ لیکن چودھری گلزار صاحب کا توڑ نہایت ہی مشکل ہے اس دور میں جب نوجوان نسل ایسی تمام کوششوں سے کوسوں دور ہے جس کی بنا پر یہ لوگوں کے لیے شر نہیں بلکہ خیر کے طور پر سامنے آئیں۔ آج ہماری نسل میں قحتالرجال تو ہے علاوہ اس کے لوگ طرح طرح کی بدعتوں سے لت پت ہیں۔ بس ایک کھوکھلی بنیاد سے بڑی اُڈان کی تاک میں ہیں۔ ہر کوئی ہر دوسرے کی برائی کرکے اپنے آپ کو اعلی بنانے کی ڈگر پر ہے۔ تمام کے تمام ایک دوسرے کو گرانے اور خود کو سنبھالنے کے سلسلے میں الجھے ہوئے ہیں۔ خود کو سنوارنے محنت ولگن سے پروان چڑھنے کے راہ پر بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر کوئی یہی سمجھتا ہے نہ اس سے قبل کوئی ہوا ہے اور نہ میرے مقابلہ میں کسی کو سوچ ہے ۔ ان کے مطابق یہ جو ان کے بزرگ قبروں میں سوے ہوئے ہیں یہ بس مٹی کا ڈھیر ہے ان کا تو اس زمین کے لیے اور نسلوں کے لیے کوئی قربانی نہیں تھی۔ آج ہمارے دم سے دنیا ہے اگر ہم نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ آج ان کی زندگی اور ان کے تمام کارنامہ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہیں۔ ان کی زندگی و صبح شام بس ایک طرح سے میڈیا سے ہی وابستہ ہے۔ حقیقت سے کہیں دور ہے۔ دو الفاظ لکھ کر کسی کی تنقید کر دو بس اس میں کتنے لوگ اسے پسند کرتے ہیں اس میں ہی کامیابی کی راہ ہے۔ بنیادی عمال و عبادات و معامالات کی حیثیت رواں دور میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
گھر کے کتنے فرد نمازی ہیں قرآن کریم کا مطالعہ روزانہ کتنے لوگ کرتے ہیں والدین کو ان باتوں پر زور دینا ہوگا۔ یہ مشن تھا چودھری گلزار صاحب کی تمام زندگی کا اور ہمارے بزرگوں کا نسلوں کو منشیات سے دور رکھا بزرگوں کا احترام کرنا بچوں پر شفت کرنا قرآن اور احدیث کا مطالعہ اور عمل پہرہ رہنا اولیاء عظام کے بتاتے ہوئے راستے پر قائم دائم رہنا۔ پاک مجلسوں و نشستوں کاانعقاد کرنا اور ان میں شمولیت کرنا سچ بات کہنے سننے اور عمل کرنے کی جرت کرنا۔ یہی کمی ہے اوائل نسل میں یہی وجہ ہے کہ کوسوں دور تک ہمارے بزرگوں کا بدل دکھائی نہں دیتا ہے۔ تاریخ سے دور اپنی قوم کی شناخت سے دور جنہوں نے محنت مزدوری لکڑیاں بیچ کر اپنی اولاد کو سنوارنے کی پہل کی ہے ان کی اس مشکت کی بنا پر آج یہ رنگین لوگ جو چند اعلی عہدوں پر فائز ہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ آج جو ہم بیج رہے ہیں اس کا ثمرہ ہمیں آنے والے چند سالوں میں ضرور دکھائی دے گا۔ کہ ہم کیسی نسل تیار کرتے ہیں مستقبل میں۔
البتہ یہ مضمون چودھری گلزار صاحب کی زندگی پر روشنی ڈالنے کا تھا۔ ہمیں اپنے بزرگوں کو یاد کرنے کا فائدہ تب ہی ہے کہ ہم اس راستے پر چلیں جس راستے پر یہ زندگی بسر کرچکے ہیں۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ✒ لیاقت چودھری
9419170548

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 6 0 4 7
Users Today : 580
Users Yesterday : 386