GNS ONLINE NEWS PORTAL

استاذ محترم عبدلمجید بانڈے کا یوم وصال ۔ وابستگی اور یادیں ۔

Facebook
Twitter
WhatsApp
Email

از قلم:- محمد فاضل ظہیر چوہان اڑائی


اوقات کی گردش صرف شب و روز کو وقوع پزیر نہیں کرتے بلکہ ان ہی ایام کی روانگی میں تاریخیں رقم ہوتیں ہیں اور تواریخ کے بڑے بڑے باب قائم ہوتے ہیں اتنا ہی نہیں ان ابواب کے قیام کے ساتھ زمانوں کا مقدر اور اقوام کی قسمت پیوست ہوتی ہے اور اسی رفتہ پیوستگی کی بنیاد پر مستقبل کے فیصلے رونما بھی ہوتے ہیں طے بھی ہوتے ہیں ۔
ان فیصلوں کی افراط و تفریط طے شدہ فطری نظام کے تہہ و بالا کی حدوں میں چھیڑ چھاڑ کے کارن فطرت کے صادر کردہ احکام کے ساتھ مشروط ہوتی ہے جب تک فطرت کی حدود اربعہ محفوظ رہتی ہیں سب کچھ اپنی جگہ درست رہتا ہے لیکن جونہی نقائص پسند قوتوں کی بے جا مداخلت اس نظام کو ناکارہ کر کے ہستی کی صفوں میں دراڑ کو وجود بخشنے کا عزم کرتیں ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ یہ جہاں کیا سے کیا ہوجاے عین اسی وقت رحمت ربانی جوش میں آتی ہے اور اپنی پوری قوتوں کے ساتھ چند ایسے صالحہ مزاجوں کو ظہور بخشتی ہے کہ کرہ ارض پر فطرتی موجودات کی رمق کو بقا مل سکے ۔


اور یہ معاملہ ہر کٹھن دور میں جب امید کی آخری کڑی دم توڑنے کو ہی ہوتی ہے عین اسی وقت بصورت ڈھال با انداز مسیحانہ شان

کے کروٹ لیتا ہے ۔
کچھ خاص اور پاکیزہ روحیں اصلاح کے امر پر مامور کر دی جاتی ہیں اور تحت حکم اپنا فریضہ نبھاتی ہیں ۔
کچھ یہی حال میرے مشفق استاذ مرحوم عبدلمجید بانڈے کی شخصیت کا تھا اس نسبت سے ان کے مزاج کی وضاحت طلب کہانی بڑی خوش اسلوب ہے بحثیت استاد آپ نہ صرف ایک معلم تھے بلکہ زیادہ مربی تھے تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تربیت کا کام اپنی اولین ذمہ داری گردانتے تھے اور بڑے خوش اسلوب اور طنزیہ و مزاحیہ انداز میں غیر محسوس طریقے سے اصلاح فرما دیتے تھے کہ سامنے والا برا بھی نہ مانتا اور اپنے آپ کو اچھے سانچے میں ڈھالنے کی سعی بھی کر لیتا جن شاگردوں کے دماغ غلاظت سے نقاہت یا آلودگی کا شکار ہوتے ان کی بیخ کنی آپ محظ تنز و مزاح کے اپنے پسندیدہ ہتھیار کے ساتھ اس حد تک کر دیتے کہ وہ دائمی طور صالح انداز کا لبادہ اوڑ لیتے اور پھر کبھی غیر مہذب حرکات کے قریب نہ پھٹکتے ۔
ایک معاشرتی مصلح کی حثیت سے آپ کا معیار اس سے اور بھی کئی بسیار بلند تھا معاشرے کی ہر برائی خواہ معمولی سی ہی کیوں نہ ہو آپ کو بہت ستاتی تھی اور آپ کے دل و ذہن کو تکلیف میں دھکیل دیتی تھی آپ ہر دم و ہر آن معا شرے کی اصلاح کے لئے کوشاں رہتے اور جب تک نہ معاشرہ اصلاحی پہلووں کو اپنا نصب العین بنا لیتا تب تک آپ بے چین و بے قرار رہتے ہر آن آپ کا مزاج کوفت میں گھیرا رہتا اور لگاتار برابر اسی انداز کو اپناے رہتے مگر ہمت ہار کر اپنے مشن سے دستبردار نہ ہوتے مخلصانہ جدوجہد جاری رکھتے جب معاشرہ سے بدعہدی اور اخلاقی گرواٹ جیسی رذیلہ خصائل کا ازالہ ہوجاتا تب آپ چین کا سانس لیتے اور آپ کا چہرہ مسرت سے چمک اٹھتا اور ایک خاص قسم کی نورانی کیفیت رونما ہوجاتی اور رونق دوبالا ہوجایا کرتی تھی آپ لوگوں کو ہمیشہ اوصاف حمیدہ سے معتصف رہنے کی تلقین کرتے رہتے پیار ومحبت بانٹنے اور حسن ظن کو اپنانے کی تبلیغ کرتے اور معاملات کی درستگی کےلئے تمثیلی ترغیبات سے نوازتے غرضیکہ لوگوں کو اصلاح کی جانب ترغیب دے دے کر راغب کرتے اور اصلاحی اسلوب اپناے رکھنے سچ کا دامن تھامے رکھنے کی تمنا آرزو حسرت پیدا کرنے کی جرائت کو بتدریج ترویج و رواج دیتے رہتے ۔
ایک دینی مبلغ کی حثیت سے آپ کے کارنامے بھی بڑے روشن وعیاں ہیں آپ عوام الناس کو ہمیشہ ایک دین دار ماحول میں ہی جینے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنے کا واعظ کرتے آپ بے دینی والی زندگی کو ناپسند کرتے اور لوگوں کو دین کا علم سیکھنے اور پھر دین کو عملی زندگی میں اپنانے کی زبردست وکالت کرتے اور علمی و عملی دینی حیات کو زبردست پسند کرتے تھے ۔ کتب بینی اور دینی کتابوں کے مطالعہ کا آپ کو بذات خود بڑا شوق تھا اور ہر وقت کسی نا کسی دینی کتاب کے مطالعہ میں مصروف عمل رہتے نیز آپ بڑے پکے مواحد انسان تھے شرک و بدعت کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیتے تھے اپنی زیست کے کارہاے

نمایاں میں توحید و سنت کو بدرجہ اتم اپنایا کرتے تھے ۔
ایک نبض شناس حکیم اور مصلحانہ حکمت کے داعی اور مرد میدان کی حثیت سے بھی آپ نے کار زار میں رزم گاہ علات کو روز گار شفاعت سے شرفیاب کرنے میں کامیاب تجربات کے جوہر دیکھاے ہیں آپ کی حکیمانہ صلاحیتوں کا راقم کو بھی بھر پور اعتراف ہے

۔ مزید یہ کہ اس معاملہ میں آپ کے توکل اللہ کا معیار اتنا بلند اور مضبوط تھا کہ سامنے والے مریض کو شفاء کلی نصیب ہو ہی جاتی تھی چہ جاے کہ ایک معمولی سی پڑیا بھی آپ عنائت فرما دیتے تھے مریض کے ہاتھ میں دوائی تھماتے وقت ” بسمہ اللہ کافی بسمہ اللہ شافی “ ضرور پڑھتے اور بوقت استعمال مریض کو بھی پڑھنے کی ہدایت جاری کرتے آپ کا طبی نسخہ یونانی طبیبوں کے نسخہ جات کی طرز پر ہوا کرتا تھا جو آج کل نادر و نایاب ہیں ۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب کائنات استاذ محترم کے تمام نیک اعمال کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا کر ان کی مغفرت فرماے ان کی سئیات کو حسانات میں تبدیل فرماے برزخی زندگی کو پر سکون بناے لحد کے محاسبے کو اسان بناے روز محشر عرش عظیم کا سایہ اور ساقی کوثر کے دست مبارک سے جام کوثر نصیب فرماے پلصراط میں اسانی والا معاملہ فرما کر شفاعت کبری عطا فرماے اور درجات کی بلندی کے ساتھ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب
فرماے آمین ثمہ آمین یا رب العالمین ۔

Leave a Comment

Poll

[democracy id="1"]

Share Market

Also Read This

Gold & Silver Price

today weather

Our Visitor

1 9 5 7 6 9
Users Today : 302
Users Yesterday : 386